اس وقت حکومت سے زیادہ ریاست خطرے میں کیوں ہے؟

معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ اس وقت خطرے میں حکومت نہیں بلکہ پاکستانی ریاست ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ حکومت صرف سیاست کر رہی ہے اور ریاستی معاملات سے مکمل لاتعلق ہو چکی ہے، سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اگر حکومت کسی مسئلے کو حل کرنے کے لئے ہاتھ ڈالتی ہے تو اسے اور بھی گھمبیر بنا دیتی ہے۔ رہے حزب اختلاف کے سیاست دان تو وہ اپنی بقا کی جنگ میں لگے ہوئے ہیں اور ریاست کے مسائل سے یکسر لاتعلق ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں کھیل کے قواعد و ضوابط معلوم نہیں اور کل کے بارے میں کوئی تجزیہ یا پیشگوئی نہیں کی جاسکتی لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ ریاست کو بچانے کے لئے اب خارجی، معاشی اور داخلی محاذ پر ان مشکل مگر ناگزیر فیصلوں کے سوا اب کوئی راستہ نہیں بچا اور ظاہر ہے کہ ان مشکل فیصلوں کے لئے اب سیاسی محاذ پر بھی کوئی نہ کوئی بڑا اور مشکل فیصلہ کرنا ہوگا۔ باقی مرضی ہے، مرضی چلانے والوں کی۔
انکا کہنا ہے کہ اس وقت ریاست کو درپیش سب سے بڑا خطرہ تباہ ہوتی معیشت کا ہے۔ عمران خان اور اُن کے وزرا کچھ بھی کہیں، عملاً اب معیشت کا کنٹرول انکے ہاتھ میں رہا ہی نہیں۔انہوں نے خود اس کی مہار آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کے ہاتھ میں تھما دی ہے۔ ان کے پاس نہ تو بہتری کا کوئی خاکہ ہے اور نہ ہی اس حالت سے نکلنے کا کوئی منصوبہ۔ وہ معیشت کو صرف اس حد تک چلارہے ہیں کہ موجودہ تباہی سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈال سکیں۔ اگر ایک طرف تباہ ہوتی معیشت داخلی محاذ پر پاکستان کو انارکی کی طرف لے جارہی ہے تو دوسری طرف شاید دفاعی حوالوں سے بھی تاریخ میں پہلی مرتبہ وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔انڈیا جس تیزی کے ساتھ دفاعی بجٹ بڑھا رہا ہے، اس کی جی ڈی پی کی ترقی کی شرح تو اسے برداشت کرسکتی ہے لیکن ہماری جی ڈی پی کی شرح نمو کےجمود بلکہ زوال کے باعث ہماری ریاست سابقہ شرح کے مطابق بھی دفاع کے لئے وسائل مختص کرنے کی قابل نہیں رہے گی۔
بقول سلیم صافی، دوسری بڑی مشکل یہ آگئی ہے کہ چین اور امریکہ کے حوالے سے بھی جراتمندانہ مگر دانشمندانہ فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔ امریکہ پاکستان سے پہلے ہی نالاں تھا مگر صرف افغانستان میں اپنی افواج کی موجودگی کی وجہ سے اس کا محتاج تھا۔ اب نہ صرف اسکی محتاجی ختم ہو گئی ہے بلکہ اس نے اپنا اگلا ہدف چین کو بما لیا ہے۔ چین کے ہدف نمبر ون ہونے پر امریکی ری پبلکن اور ڈیمو کریٹس ایک پیج پر ہیں۔ اس حوالے سے اس نے انڈیا کو اپنا نمبرون حلیف اور چہیتا ڈکلیئر کر دیا ہے۔ دو ماہ قبل اس نے جی سیون اور نیٹو کو بھی اپنا ہمنوا بناتے ہوئے چین کے بی آر آئی منصوبے کے جواب میں اپنا بی تھری ڈبلیو منصوبہ لانچ کیا۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ کیا چین کے ساتھ پہلے گڑبڑ صرف ساؤتھ چائنا سی میں کی جارہی تھی لیکن اب گوادر کی وجہ سے امریکہ اور چین کی جنگ کا میدان پاکستان بھی بنے گا۔ چین نے ہمارے سامنے کوئی لکیر نہیں کھینچی لیکن امریکہ کے تیور بتارہے ہیں کہ وہ بہت جلد پاکستان کے سامنے چین اور سی پیک کے حوالے سے لکیر کھینچ دے گا۔ یوں چین کے ساتھ جا کر امریکہ کو ناراض کرنے کی بھی ایک قیمت ہے اور امریکہ کے ساتھ جا کر چین کو چھوڑنے کی قیمت اس سے کئی گنا بڑی ہے۔دوسری طرف عمران خان کی حکومت نے گزشتہ تین سال میں چین کو حد درجہ ناراض اور بدگمان کردیا ہے۔ سی پیک پر کام عملاً رک گیا ہے۔ چین موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ بس وقت گزار رہا ہے۔
اس دوران اسٹیبلشمنٹ نے چین کو راضی کرنے کا ٹاسک عمران خان کو سونپا تھا اور امریکہ کو راضی کرنے کی ذمہ داری خود اٹھائی تھی۔عمران خان نے چین کے اعتماد کو تو رتی بھر بحال نہیں کیا لیکن اس چکر میں طالبان کے حق میں ایسے الٹے سیدھے بیانات دئیے کہ اسٹیبلشمنٹ کے امریکہ کو راضی کرنے کا کام اور بھی مشکل بنا دیا۔
صافی کہتے ہیں کہ اس تناظر میں یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک مشکل اور دور رس نتائج کا حامل فیصلہ ہوگا جو اس ریاست کے مستقبل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اب ظاہر ہے یہ مشکل فیصلہ بھی عمران خان کی حکومت کرسکتی ہے اور نہ اس فیصلے کو ان پر چھوڑا جاسکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ تیسرا مشکل فیصلہ انڈیا سے متعلق ہے۔ اس وقت پاکستان جن حالات سے گزررہا ہے، ان کا تقاضا ہے کہ یہ ریاست جیو اسٹرٹیجک سے جیو اکنامکس کو اپنی ترجیح بنالے۔ ظاہر ہے اس میں پہلا ایشو ہندوستان کا آتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایک تو تازہ تازہ ڈونلڈ ٹرمپ پر تکیہ اور نریندرمودی پر اعتماد کرکے موجودہ سیٹ اپ نے انڈیا کو مقبوضہ کشمیر ہڑپ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ نواز شریف کی دشمنی میں ہوش و خرد کی بجائے معاملے کو جذباتی بنانے میں خود عمران خان اور ان کے لانے والوں نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔ یوں معیشت اور خطے کے حالات کا تقاضا یہ ہے کہ انڈیا سے تعلق بارے بھی جراتمندانہ فیصلے کئے جائیں اور ظاہر ہے یہ فیصلہ بھی عمران خان کی حکومت کبھی نہیں کرسکتی۔ اگر اسٹیبلشمنٹ اس حوالے سے کوئی راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اپنی ہی ذات کے گنبد میں بند خان صاحب اسکو سبوتاژ کرسکتے ہیں۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان اور ہمارے ملک کے دائیں بازو کے لوگ جشن منارہے تھے کہ افغانستان سے امریکی انخلا نے پاکستان کے مسائل حل کردیئے ہیں لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ معاملہ پاکستان کے لئے سنگین ہوگیا ہے۔ معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا طالبان کا افغانستان اب پاکستان کیلئے درد سر بن گیا ہے۔ ان کے اقدامات کے لئے بازپرس بھی پاکستان سے کی جارہی ہے۔ امریکہ اور یورپ تو کیا روس اور چین بھی ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اُدھر ٹی ٹی پی کا معاملہ بھی سنگین ہوکر الجھتا جارہا ہے۔ ایک طرف افغان طالبان پاکستان کے رویے سے خوش نہیں اور دوسری طرف وہ سب فریقوں پر مشتمل انکلوسیو حکومت کی تشکیل کے لئے پاکستان کے مطالبات پر عمل نہیں کررہے۔ یوں افغانستان اب پاکستان کے لئے پہلے سے بھی بڑا چیلنج بن گیا ہے جو جراتمندانہ مگردانشمندانہ فیصلوں اور اقدامات کا تقاضا کرتا ہے لیکن یہ فیصلے بھی نہ تو عمران حکومت کر سکتی ہے اور نہ ہی اسے اس کی سمجھ ہے۔
