اشتہاری قرار پانے کے باوجود نواز شریف کو واپس لانا ممکن نہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بالآخر نواز شریف کو اشتہاری قرار دیے جانے کے باوجود قانونی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سابق وزیر اعظم کو وطن واپس لانے کی حکومتی کوششیں ناکام رہیں گی کیونکہ انہیں سزا پاکستانی عدالت نے سنائی تھی، کسی برطانوی عدالت نے نہیں۔
2 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنس کی اپیلوں میں عدم پیشی کی بنا پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے ضمانتی مچلکے بحق سرکار ضبط کرنے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جبکہ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں 20، 20 لاکھ کے دو مچلکے ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان دونوں ریفرنسز میں ضامنوں کو بھی نوٹس جاری کردیے ہیں اور اُنھیں نو دسمبر کو عدالت مییں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہو رہی ہے۔ ان مقدمات میں ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیلیں خود نواز شریف نے دائر کی تھیں اور قانون کے مطابق ان اپیلوں کی پیروی کے لیے اپیل کنندہ کی عدالت میں خود یا وکیل کے ذریعے پیشی ضروری ہے۔
بدھ کے روز جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے نواز شریف کی طرف سے سزاؤں کے خلاف اپیلوں کے علاوہ نیب کی طرف سے ان سزاؤں میں اضافے کے بارے میں بھی درخواستوں کی سماعت کی تھی۔ یاد رہے کہ عدالت نے سابق وزیر اعظم کو اشتہاری قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق ایف آئی اے کے دو اہلکاروں کے علاوہ دفتر خارجہ کے یورپ ڈیسک کے انچارج کے بیانات بھی قلم بند کیے تھے۔ عدالت نے میاں نواز شریف کو سرنڈر کرنے کا حکم دے رکھا تھا اور اُنھیں اشتہار کے ذریعے عدالت میں بھی طلب کر رکھا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو اشتہاری مجرم قرار دینے کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ سابق وزیراعظم کو وطن واپس لانے کے لیے مدد گار ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ انہیں فوجداری مقدمات میں پاکستانی عدالت نے سزا سنائی تھی، کسی برطانوی عدالت نے نہیں۔ واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہہ رکھا ہے کہ وہ نواز شریف کو وطن واپس لانے کی بھرپور کوشش کریں گے اور اس حوالے سے اپنے برطانوی ہم منصب سے ملاقات بھی کریں گے۔
تاہم ماہر قانون ریما عمر کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت پاکستانی عدالتوں کے احکامات پر عمل درآمد کرنے کی پابند نہیں ہے اور خاص طور پر ایسے فیصلے جو فوجداری مقدمات میں سنائے گئے ہوں۔اُنھوں نے کہا کہ کسی شہری کو ملک بدر کرنے کا اختیار انتظامی ضرور ہے لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے بھی پورا طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو ملک بدر کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اسے برطانوی عدالت نے کسی جرم میں سزا سنائی ہو۔ ریما عمر کا کہنا تھا کہ برطانوی ویزا فارم میں یہ شق تو درج ہے کہ اگر درخواست گزار کو کسی مقدمے میں سزا سنائی گئی ہو تو وہ ویزا لینے کا اہل نہیں ہے لیکن اس ویزا میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے کہ کوئی اشتہاری ویزا کی درخواست نہیں دے سکتا۔
قومی احتساب بیوور کے سابق ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ کے مطابق اس فیصلے سے حکومت کو زیادہ سے زیادہ فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کی پاکستان میں جائیدادوں کو قرقی کر لیں لیکن وہ نواز شریف کو برطانیہ سے وطن واپس نہیں لا سکتے۔اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ نہیں ہے جبکہ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم علاج کی غرض سے خود برطانیہ نہیں گئے بلکہ میڈیکل بورڈ کی سفارش پر اُنھیں علاج کی غرض سے برطانیہ بھیجا گیا ہے اور اگر انھیں واپس بھیجا گیا تو ان کی جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے متعدد مسودے تیار ہوئے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔ ذوالفقار بھٹہ کا کہنا تھا کہ انٹرپوول سمیت دیگر اہم بین الاقوامی اداروں میں پاکستانی اداروں کی ساکھ پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل انٹرپول سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، جنھیں ایک مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے، کو وطن واپس لانے سے متعلق حکومت پاکستان کی درخواست کو مسترد کر چکی ہے۔ سابق ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ ملک کے ایک حصے سے اشتہاری مجرم کو گرفتار کرکے دوسرے شہر میں لے کر جانے کے لیے بھی مقامی مجسٹریٹ سمری ٹرائل کرتا ہے اور پھر اس کے بعد کسی بھی اشتہاری مجرم کو پولیس کے حوالے کرنے کے بارے میں فیصلہ دیتا ہے۔
حکمراں جماعت تحریک انصاف کے لائرز فورم کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے سابق وزیر اعظم کو اشتہاری قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد حکومت پاکستان برطانوی حکومت کو میاں نواز شریف کو پاکستان کے حوالے کرنے کی صرف درخواست ہی کر سکتی ہے کیونکہ پاکستانی حکومت کے پاس سابق وزیر اعظم کو وطن واپس لانے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’اگر برطانوی حکومت پاکستانی درخواست کو وزن دیتے ہوئے اسے قبول کرلیتی ہے تو پھر نواز شریف کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ برطانوی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں جاسکتے ہیں۔‘ بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد حکومت اگر نواز شریف کی حوالگی کے بارے میں برطانوی حکومت کو درخواست دیتی ہے تو اس میں یہ موقف اختیار کر سکتی ہے کہ سابق وزیر اعظم ایک سزا یافتہ مجرم ہیں اور اس کے علاوہ ہائی کورٹ نے اشتہاری بھی قرار دیا ہے اس لیے ان کا ویزہ منسوخ کر کے انھیں وطن واپس بھیجا جائے۔ تاہم اس کے باوجود برطانیہ کی جانب سے نواز شریف کو ملک بدر کر کے پاکستان کے حوالے کرنے کے امکانات نہایت معدوم ہیں۔
