اصل مجرم عمران ہے یا اس کو اقتدار میں لانے والے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ غدار صرف عام شہری، لکھنے والے اور سیاستدان ہی کیوں قرار دیے جاتے ہیں؟ کوئی خاکی یا خاک نشیں کبھی غدار کیوں نہیں قرار پاتا۔ ظلم تو یہ ہے کہ بار بار آئین شکنی کرنے والوں کے دفاع میں انکے چماٹوں کی جانب سے الٹا یہی کہا جاتا ہے کہ سیاستدان خود فوج کو سیاست میں ملوث کرتے ہیں۔
بی بی سے کے لیے وسعت اللہ خان اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ نقارہ خدا کہلانے والی زبان خلق چیخ چیخ کر دھائی دے رہی ہے کہ قصور خان دا نئیں، بلکہ خان نو لیان والیاں دا وے‘۔ اب سوال یہنہے کہ یہ ’لیان والے‘ کون ہیں؟ دراصل اس ایک سوال کے جواب میں تمام سوالوں کے جواب چھپے ہیں۔ وسعت کہتے ہیں کہ حال ہی میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں عدل کے سہولت کاروں یعنی وکلاء اور عدل بانٹنے والے ججوں کے مابین جس نوعیت کا مچاٹا ہوا وہ ایک صحت مند رجحان کا غماز ہے۔
یاد رہے کہ اس کانفرنس میں علی احمد کرد جیسے سینئر وکلا نے عدلیہ کا خوب رگڑا نکالا جس کے جواب میں چیف جسٹس گلزار کو یہ دعوی کرنا پڑا کہ کہ سپریم کورٹ مکمل طور پر آزاد ہے اور کسی دباؤ میں آئے بغیر فیصلے دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ پر الزام لگانے والے دراصل انتشار پھیلا رہے ہیں اور وہ کسی ایک ایسے فیصلے کی نشاندہی کر دیں جس میں عدلیہ نے دباؤ لیا ہو۔ تاہم عدالتی ناقدین کا کہنا ہے کہ جج حضرات کوئی ایک ایسا فیصلہ بتا دیں جس میں دباؤ نظر نہ آتا ہو، چاہے وہ ثاقب نثار دور میں نواز شریف اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی نا اہلی کا فیصلہ ہو یا موجودہ دور میں دیے گے فیصلے ہوں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بظاہر پاکستانی عدلیہ انصاف کا دورہ معیار اپنا کر چل رہی ہے اور اسی لیے ایک تقریر کی پاداش میں شوکت عزیز صدیقی کو از خود نوٹس پر بطور جج فارغ کر دیا جاتا ہے لیکن ججوں پر دباؤ ڈال کر مرضی کے فیصلے لینے کے واضح ثبوت سامنے آجانے کے باوجود ثاقب نثار کے خلاف کوئی نہ تو کوئی ازخود نوٹس لیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔
وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ جیسی بحث عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران ہوئی، ویسی ہی مباحثانہ آزادی ہم سب کو بھی درکار ہے تاکہ دلوں کا غبار ہلکا ہو اور ہم ماضی اور حال کی نوحہ گری سے نکل کر بہتر مستقبل تخلیق کرنے کا سوچ سکیں۔ اس کانفرنس نے یہ کلیشے بھی توڑ دیا کہ جج نہیں بولتے، ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ اب جج بولتے ہیں اور فیصلے ججوں کو تولتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ غر یہ مان بھی لیا جائے کہ عدلیہ کسی کے دباؤ میں نہیں اور فیصلے خود کرتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں نظریہ ضرورت متعارف کرانے والے جسٹس منیر، بھٹو مرحوم کی متنازع سزائے موت پر آخری مہر ثبت کرنے والے جسٹس انوار الحق اینڈ برادر ججز، پی سی او کے تحت خوشی خوشی حلف اٹھانے اور نہ اٹھانے والے ضدی ججوں اور ریکوڈک اور سٹیل ملز سے متعلق قومی خزانے کو ارب ہا روپے کا دھچکا پہنچانے والے فیصلوں اور پھر ڈیم فنڈ جیسی سکیموں کے خالقوں اور جسٹس قاضی فائز عیسی کی آتشیں آزمائش کے بارے میں رائے عامہ الگ الگ انداز میں کیوں سوچتی ہے؟ کراچی تا خیبر اور لاہور تا کوئٹہ یہ کورس کیوں نہیں گونجتا کہ اس پرچم کے سائے تلے جج ایک ہیں، سب ایک ہیں۔
وسعت کہتے ہیں کہ ہم اگر یہ مان بھی لیں کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی اور سیاستدان ہی فوج کو دلدل میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا الحق، اور پرویز مشرف کو کن سیاست دان نے اس جوہڑ میں دھکا دیا تھا؟ اہم سوال یہ بھی ہے کہ یہ جو غدار ہوتے ہیں یہ صرف عام شہری، لکھنے والے صحافی اور سیاست دان ہی کیوں ہوتے ہیں۔ بار بار آئین پاکستان کی پامالی کرنے والے خاکی اور خاک نشین کیوں غدسر قرار نہیں دیے جاتے؟ وہ کہتے ہیں کہ آج تو بظاہر مارشل لا بھی نہیں، تب بھی حکومت دشمن پی ڈی ایم سے لے کر اشرف کڑاہی والے تک سب ایک ہی انترے پر کیوں کھڑے ہیں؟ ’قصور خان دا نئیں خان نو لیان والیاں دا وے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ‘ یہ ’لیان والے‘ کون ہیں؟ وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ مان لیا سب سیاستدان خراب نہیں تو جو خراب نہیں وہ قطار سے باہر نکل کر کیوں نہیں ثابت کرتے کہ ہم ان میں سے نہیں جو اینٹوں پر رکھی کرسی کی خاطر کوئی بھی قیمت دینے پر آمادہ ہوں۔ ہم ان میں سے نہیں جنھیں ریاست کے اندر ریاست کا کردار نبھانے والوں کے ہاتھوں سیاسی عمل ہائی جیک ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ ہم ان میں سے نہیں جنھیں اقتدار کے ٹکڑے ڈالنے والوں سے سوائے اس کے کوئی شکوہ نہیں کہ جب ہم جنابِ والا کی چاکری فدویانہ جذبے سے کر رہے تھے تو اس عمر میں تنہا چھوڑنے اور ایک اور عقد رچانے کی کیا ضرورت تھی۔ ہمیں کم از کم حرم سے باہر تو نہ کرتے۔
وسعت اللہ اظہار افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کل کی سیاسی کلاس میں کوئی نہ کوئی رول ماڈل مل ہی جاتا تھا۔ لیکن آج کی سیاست اس کے سوا کیا ہے کہ ’حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا۔‘ آج پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں یہی پتہ نہیں چلتا کہ خارجہ، داخلہ اور خزانے کے فیصلے کون کر رہا ہے، ان پر عمل کون کروا رہا ہے، ان کا فائدہ کسے پہنچ رہا ہے اور فیصلوں کے نتائج الٹ ہونے کی صورت میں گریبان کس کا پکڑنا ہے؟ وسعت کہتے ہیں کہ اچھائی کے بارے میں تو سنا تھا کہ ایک ہاتھ سے کرو تو دوسرے کو خبر نہ ہو، مگر ہم نے تو اس مقولے کو حساس فیصلہ سازی پر بھی لاگو کر لیا۔ اس ماحول میں اب یہ بوجھنا بھی آسان نہیں رہا کہ کیا پارلیمنٹ ہی اب پاکستان کا واحد فیصلہ ساز ادارہ ہے یا پارلیمنٹ محض ایک بلڈنگ ہے جہاں منتخب اور چنتخب افراد کو طلب کر کے فیصلے سنائے جاتے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ یہ کیسی ریاست ہے جو طاقت کے استعمال کا جائز حق دار ہونے کی بھی آئینی دعویدار ہے اور اسے طاقت کی نجکاری پر بھی کوئی حقیقی تشویش نہیں۔ وہ ایک پرانی کہانی بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اٹھارویں صدی کے دلی شہر میں بادشاہ لال قلعے میں رہتا تھا اور باقی دلی پر کبھی میواتی حملہ آور ہوتے تھے، کبھی جاٹ گھس آتے، کبھی مرہٹے نمودار ہو جاتے تو کبھی سید برادران ایک کو اتار کر دوسرا بادشاہ تخت پر بٹھا دیتے۔ صوبیداروں کا موڈ ہوتا تو خراج اور لگان کا کچھ حصہ دربار روانہ کر دیتے اور موڈ بگڑا تو شاہی خزانے میں بھی نقب لگا دی۔ چنانچہ بادشاہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچتا تھا کہ وہ چونگی عبور کرنے والوں کو مزید نچوڑ کر شاہی وضع داری کی پیوندکاری کے ساتھ ساتھ انا پر پے در پے لگتے زخموں کی ٹکور کرتا رہے۔ وسعت کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی کی قبر کا پتہ چاہیے جس نے یہ کہا تھا کہ تاریخ خود کو نہیں دہراتی۔
