عمران خان کو بڑا بھائی کہنے پر نوجوت سدھو کی دھلائی


پاکستانی ایجنٹ قرار دیے جانے والے سابق بھارتی کرکٹر اور سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو ایک مرتبہ پھر وزیراعظم عمران خان کو اپنا بڑا بھائی کہنے کی وجہ سے ہندو انتہا پسند جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کی زدمیں آ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے بھارتی پنجاب کے سابق وزیر اعلی ارمندر سنگھ نے نوجوت سنگھ سدھو کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دوست اور پاکستانی کا ایجنٹ قرار دے دیا تھا۔ ارمندر سنگھ نے یہ الزام اس جپھی کی وجہ سے لگایا تھا جو دو برس پہلے پاکستان میں تعمیر ہونے والے کرتارپور راہداری کے سنگ بنیاد کے موقع پر جنرل قمر باجوہ اور نوجوت سدھو نے ڈالی تھی۔ سدھو نے اس جپھی کو جادو کی جپھی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا جنرل باجوہ کے ساتھ جاٹ کنکشن ہے۔
لیکن نوجوت سنگھ سدھو تازہ تنازعہ میں تب الجھے جب انہوں نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران ننکانہ صاحب میں بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات کے دوران خطاب کرتے ہوئے عمران خان کو اپنا بھائی قرار دے دیا۔ کانگریس سے تعلق رکھنے والے سدھو کے بیان پر سخت رد عمل دیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر ہندو انتہا پسند گروپوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ سدھو نے ثابت کردیا کہ وہ پاکستانی ایجنٹ ہیں۔
سوشل میڈیا پر بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات میں شریک نوجوت سنگھ سدھو کی کرتارپور راہداری سے پاکستان آمد کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص اپنا تعارف کرتارپور کے سی ای او کے طور کرواتے ہوئے کہتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور پاکستان کی عوام کی جانب سے ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں، پھر سدھو کو پھولوں کا ہار بھی پہنایا جاتا ہے۔ اس دوران گفتگو کرتے ہوئے سدھو وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’وہ میرا بڑا بھائی ہے، اس نے بہت کچھ کیا ہے۔‘
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان سیمبت پٹرا نے سدھو کی جانب وزیر اعظم کو بڑا بھائی قرار دینے مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیان انڈینز کے لیے باعث تشویش اور باعث تکلیف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سدھو کا بیان ہندو توا کے خلاف ایک بڑی سازش کا حصہ ہے جس کا کانگریس کے صدر راہل گاندھی بھی حصہ ہے۔ کانگریس کے لیڈر سلمان خورشید کی حالیہ کتاب میں ہندو توا بارے سخت تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی ترجمان کا کہنا تھا کہ کانگریس کو ہندو توا میں دہشت گرد بوکو حرام اور داعش جیسے گروپ نظر آتے ہیں اور سدھو کو عمران خان میں ’بھائی جان‘ مل جاتا ہے۔
بی جے پی ترجمان کے مطابق پنجاب پاکستان کے ساتھ سرحد پر واقع ریاست ہے اور پاکستان وہاں بے چینی پھیلانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس لیے پنجاب کو ایک سنجیدہ اور محب الوطن لیڈر شب کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سدھو انڈیا اور پنجاب کے لیے مناسب نہیں اور پنجاب ان سے زیادہ بہتر لیڈرشب کا حقدار ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیرخارجہ نے حال ہی میں ہندو توا کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور انہوں نے یہ بات کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی سے مستعار لی ہے۔
اس طرح سابق انڈین کرکٹر گوتم گمبھیر نے نوجوت سنگھ سدھو پر تنقید کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’آپ اپنے بیٹے یا بیٹی کو سرحد پر بھیجیں اور پھر ایک دہشت گرد ریاست کے سربراہ کو اپنا بڑا بھائی کہیے۔‘ خیال رہے پاکستان میں میڈیا سے گفتگو میں نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے لیےاقدامات کرنا ہوں گے۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان سے بڑی مارکیٹ کہیں نہیں، لاہور اور گورداسپور کےدرمیان تجارت کھلنے سے انکو خوشی ہوگی۔
دوسری جانب نکانہ صاحب میں سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کے 552 ویں جنم دن کی تقریبات جاری ہیں۔ دنیا بھر سے آئے سکھ یاتری مذہبی رسومات کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ انڈیا سے بھی ہزاروں یارتری کرتارپور کوریڈور آکر ان تقریبات میں شریک ہیں۔

Back to top button