جنرل فیض کے لئے پاپا جونز جیسا کاروبار ملنے کی دعا

پاکستانی تاریخ کے متنازعہ ترین آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو الوداع کہتے ہوئے معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے انہیں دعاؤں سے نوازا ہے اور کہا ہے کہ خدا کرے آپ کو ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی قیمتی جزیرہ نصیب ہو اور پاپا جونز جیسی کوئی کامیاب کاروباری چین آپ کا مقدر ہو۔ وہ کہتے ہیں ماضی میں جو کار ہائے نمایاں آپ نے سرانجام دیے، وہ تاریخ کے تاریک صفحات میں آپ کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔
رہا سوال بائیس کروڑ عوام کا تو یہ کم فہم لوگ بھی کتنے عجیب ہیں جو ذرا ذرا سی پوسٹنگ اور ٹرانسفر سے جمہوریت کے خواب دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ انھیں اتنا بھی ادراک نہیں کہ پاکستان میں چہرے تو بدل جاتے ہیں لیکن ادارے اور ان کی سوچ کبھی نہیں بدلتی اور یہی اس ملک کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کور کمانڈر پشاور کا عہدہ سنبھالنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو مخاطب کرتے ہوئے عمار مسعود کہتے ہیں کہ آپ کی الوداعی تقریبات ہو چکی ہیں، صدر مملکت آپ کی خدمات کی تعریف کر چکے، وزیر اعظم خود کو آپ کے ساتھ نتھی کر چکے، وزیر خارجہ آپ کو خلعت فاخرہ عطا کر چکے، پی ٹی آئی کا ہر کارکن آپ کا احسان مند ہے، تحریک لبیک کے شعلہ بیان آپ کی دریا دلی کے معترف ہیں، پوری اسمبلی آپ کے وٹس ایپ کی منتظر رہتی، سینٹ کے سب ارکان آپ کے اذن کے منتظر پائے گئے، جنرل باجوہ آپ کی پوسٹنگ کے منتظر، نئے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم آپ کی طرف چھ اکتوبر سے رشک کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، طرفہ تماشا یہ ہے کہ آپ کہیں جا نہیں رہے بلکہ ترقی پا رہے ہیں، ایک اور کور آپ کی دسترس میں آ چکی، اب افغانستان آپ کے افکار عالیہ کے لیے ہمہ تن گوش، پشتون آپ کی طرف نگاہ کیے بیٹھے، فاٹا کے عمائدین اب آپ کے احکامات کے انتظار میں ہیں، ابھی ترقی کی بہت سی منزلیں آپ کے نام لکھی ہوئی ہیں، ابھی آپ کے شانوں پر مزید ستارے جگمگا سکتے ہیں، ابھی آپ کے سینے پر شجاعت کے مزید تمغے سج سکتے ہیں، ابھی آپ کے تاج میں مزید فتوحات کے ہیرے جڑے جا سکتے ہیں، ابھی چیف آف آرمی سٹاف کا ہما آپ کے سر پر بیٹھ سکتا ہے، آپ بائیس کروڑ جاہل عوام کے بلا شرکت غیرے مالک کہلا سکتے ہیں۔
عمار مسعود کہتے ہیں لیکن یہ تو مستقبل کی باتیں ہیں۔ ماضی میں جو کار ہائے نمایاں آپ نے سرانجام دیے، وہی تاریخ کے تاریک صفحات میں آپ کو زندہ دکھنے کے لیے کافی ہیں۔ جو شہرت آپ کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی نصیب ہوئی وہ ماضی میں اس عہدے پر متمکن کسی شخص کا مقدر نہیں ہوئی، نہ حمید گل آپ جیسی شہرت حاصل کر سکے، نہ جنرل ضیاء الدین کو یہ منصب نصیب ہوا، نہ جنرل پاشا کو یہ دوام نصیب ہوا، نہ جنرل ظہیر الاسلام اس مرتبے کو پہنچ سکے۔ اس میدان میں آپ نے وہ کارنامے کر دکھائے کہ اور تو اور جنرل باجوہ تک ششدر رہ گئے، وزیر اعظم عمران خان نے جس طرح آپ کی دلیرانہ پالیسیوں پر اعتماد کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ مرد میدان کہلائے اور عوامی توقعات کے خلاف ہر میدان میں فتوحات کے جھنڈے گاڑتے چلے گئے۔
فیض حمید کو مخاطب کرتے ہوئے عمار مسعود کہتے ہیں کہ آپ سے ہمارا تعارف پہلے پہل تحریک لبیک کے ابتدائی دھرنے میں ہوا، یہ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کا کمال تھا کہ تازہ تازہ ایمانی جذبے سے لبریز بپھرے ہوئے ہزار، پندرہ سو مظاہرین اچانک موم ہو گئے، اشتعال انگیز مظاہرین کو آپ نے کمال حکمت عملی سے ہزار ہزار روپے نقد میں ٹال دیا، آپ نے نہ صرف معاہدے پر دستخط عطا فرمائے بلکہ ان مظاہرین کو اپنا بھائی بھی قرار دیا، اب جب کبھی یہ مظاہرین اشتعال میں آئیں گے، ہمیں اس میں ”بھائی“ کی شمولیت کا اندیشہ رہے گا۔
عمار کہتے ہیں آپ کی زندگی کے کارہائے نمایاں تو بہت سے ہیں مگر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات نے آپ کو دوام بخشا۔ وہ بھرے مجمعے میں بتاتے رہے کہ کس طرح آپ ان کے گھر تشریف لائے، ان کو نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے کا حوصلہ عطا کیا، کس طرح ان کو راتوں رات چیف جسٹس بنانے کی پرکشش پیشکش کی، مگر وہ نہ مانے، آپ نے کمال بصیرت سے ان کو نشان عبرت بنا دیا، سچ بولنے کی پاداش میں ایک انصاف پسند جج کی نہ صرف نوکری چھین لی بلکہ اس کی ایسی کردار کشی بھی کی کہ آئندہ کسی جج کو اپنے ضمیر کے مطابق سچ بولنے کی جرات بھی نہیں ہو گی۔ عمران حکومت کے قیام اور پھر اس کے استحکام کے لیے آپ کی ان تھک کاوشیں کبھی بھی فراموش نہیں کی جا سکتیں، 2018 ء سے پہلے نواز شریف کو ایک بے بنیاد مقدمے میں سزا دلوانی ہو، عدلیہ سے من پسند فیصلے لینے ہوں، الیکشن سے پہلے الیکٹیبلز کی وفاداریاں تبدیل کروانی ہوں، آر ٹی ایس بٹھانا ہو، میڈیا کو لگام دینی ہو، من پسند تجزیہ کاروں کو نوکریاں دلوانی ہوں، جی ڈی اے اور باپ جیسے گروپ تشکیل دینے ہوں، سینٹ کے چیئرمین کو باوجود اقلیت کے منتخب کروانا ہو، اسمبلی سے کوئی قانون پاس کروانا ہو، ارکان اسمبلی کو بھیڑ بکریوں کی طرح اسمبلی پہنچانا ہو، ای وی ایم کا قانون پاس کروانا ہو، ای ووٹنگ کا اجازت نامہ جاری کروانا ہو، ایک دن میں درجنوں قوانین کو اسمبلی اور سینٹ سے ایک ہی ہلے میں پاس کروانا ہو، ہر معاملے میں آپ کا ہی نام مبارک گونجتا رہا اور لوگ آپ سے فیض یاب ہوتے رہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ آپکے دور میں محتاط لوگ پہلے اپنے شانوں کی طرف اشارہ کرتے، پھر دھیمی سی آواز میں آپ کا نام نامی ہی لیتے تھے، جس کسی کو آپ کا فون آ جاتا، جس کسی کی سماعتوں سے آپ کے مبارک احکام ٹکرا جاتے، وہ مرید ہو جاتا اور دہشت کے مارے مرشد کے گیت گاتا رہتا۔ اگرچہ ففتھ جنریشن وار کے تناظر میں زیادہ تر پاکستانی سیاستدسن اور صحافی غدار، را کے ایجنٹ اور کافر ہیں مگر اس کے باوجود آپ پہلے ڈی جی آئی ایس آئی ہیں جن کے استعفی کے مطالبے کا ٹرینڈ تین دن تک ٹویٹر پر جگمگاتا رہا، سیاسی جماعتوں کے رہنما آپ کا نام لے کر تنقید کرتے رہے، مریم آپ کے خلاف چارج شیٹ بنا کر بیٹھی ہوئی ہیں، نواز شریف برملا آپ کا نام لے لے کر جمہوریت کو تاراج کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں، مولانا فضل الرحمن بھی آپ کے کارناموں کا اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں۔ اب آپ کے اس عہدہ جلیلہ سے چلے جانے سے جاہل عوام سمجھتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کا سورج طلوع ہو جائے گا، ووٹ کی حرمت کی بات ہو گی، معتوب سیاسی قائدین کو سانس لینے کی مہلت ملے گی، میڈیا میں سچ بولنے کی روایت واپس آئے گی، عدلیہ کے پاؤں کی زنجیریں کٹ جائیں گی، اعر شمالی علاقہ جات کی سیر پر بھیجنے کی روایت کا خاتمہ ہو گا۔
عمار مسعود فیض حمید کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بائیس کروڑ پاکستانی عوام آپ کی رخصت سے بہت سی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، لیکن ان کم علموں کو یہ نہیں معلوم کہ آپ صرف ایک نام ہیں، کل کو یہاں کسی اور کا نام گونج رہا ہو گا، آپ کے محکمے نے ستر برس میں یہ ثابت کیا ہے کہ نام چاہے کوئی بھی ہو، کام ایک ہی ہوتا ہے، اور وہ ہے اپنے شہریوں کے حقوق پامال کرنا اور انھیں مفتوح بنانا، جمہوریت کو تاراج کرنا، نفرتوں کو پروان چڑھانا، اور تقسیم کے عمل کو بڑھانا۔
آخر میں عمار کہتے ہیں، جنرل صاحب، آپ کو نیا عہدہ اور نئے ٹاسک مبارک ہوں، خدا کرے آپ کو بھی ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی قیمتی جزیرہ نصیب ہو، پاپا جونز جیسی کوئی کامیاب کاروباری چین آپ کا مقدر ہو۔ رہا سوال بائیس کروڑ لوگوں کا تو ان کم فہم لوگوں کو اتنا بھی ادراک نہیں کہ اس ملک میں چہرے تو بدل جاتے ہیں لیکن ادارے اور ان کی سوچ نہیں بدلتی۔
