اعتماد کا ووٹ، PTIکو پرویز الٰہی کیلئے ارکان پورے کرنے کا چیلنج

وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے اعتماد کے ووٹ کیلئے ارکان پورے کرنا پی ٹی آئی کے لیے چیلنج بن گیا ہے۔

تحریک انصاف کے تین اراکین کی جانب سے پارٹی پالیسی سے انحراف کا خطرہ ہے جس کے باعث پی ٹی آئی اور ق لیگ کو 187 اراکین کی حمایت حاصل ہے تاہم اگر دو اراکین بھی حاضر نہ ہوئے تو پھر پرویز الہیٰ کے لیے مشکل ہوسکتی ہے۔

اس ضمن میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو تہلکہ خیز رپورٹ پیش کی گئی جس میں اُن تین اراکین کا ذکر کیا گیا جنہوں نے اعتماد کا ووٹ نہ دینے اور اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ (ان اراکین کے نام میڈیا کو جاری نہیں کیے گئے)

ادھر پی ٹی آئی کی رکن پنجاب اسمبلی مومنہ وحید نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اعلان کردیا۔

انکا کہنا تھاکہ پرویزالٰہی کواعتمادکاووٹ نہیں دوں گی، آج تحریک انصاف میں پُرانا کارکن دلبرداشتہ ہے، پرویزالٰہی صرف گجرات اورمنڈی بہاء الدین میں ترقیاتی کام کروا رہے ہیں۔

انہوں نے کہاعمران خان کے اردگرد صرف مفاد پرست لوگ اکھٹے ہیں۔ رکن پنجاب اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے مزید اراکین ہیں جو وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیں گے۔

مومنہ وحید کا تعلق راولپنڈی سےہے اور وہ مخصوص نشست پر رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ہدایت کی کہ پنجاب میں گیارہ جنوری سے پہلے ہر صورت اعتماد کا ووٹ لیا جائے، اس سے قبل 9 جنوری کو اجلاس بلا کر اراکین سے رابطے مکمل بحال کیے جائیں۔عمران خان نے اعتماد پر ووٹنگ کیلیے سبطین خان، عثمان بزدار میاں اسلم اقبال کو اراکین کی 100 فیصد حاضری یقینی بنانے کا ٹاسک بھی دے دیا ہے۔

ادھرزمان پارک میں عمران خان سے لاہور کے مقامی عہدیداروں کی ملاقات ہوئی جس میں چیئرمین پی ٹی آئی نے رہنماؤں کو ٹاسک سونپے اور انہیں 15 دن میں 500 ممبرز بنانے کی ہدایت کی۔عمران خان نے کہا کہ سیاسی مخالفین مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں، عوامی دباؤ ہوگا تو ایسا نہیں ہوسکے گا، عوامی دباؤ اتنا ہو کہ ایک کال پر پورا لاہور اور ملک سڑکوں پر آجائے، طیب اردوان کیلیے عوام سڑکوں پر نکلے تو سازش ناکام ہوگئی تھی، پی ڈی ایم کا کرپٹ ٹولہ ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے، جلد اس کرپٹ ٹولے کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

Back to top button