اعظم خان کا نام ورلڈ بینک کی نوکری کے لیے تجویز کردیا گیا

اسلام آباد میں یہ خبریں گرم ہیں کہ وزیراعظم کے متنازعہ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان جلد ہی اپنا عہدہ چھوڑ کر امریکہ میں ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ بی بی سی کے لئے تحریر کردہ سینئر صحافی اعزاز سید کی ایک رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر تعیناتی کے لیے حکومت پاکستان نے ورلڈ بینک کو چار ناموں پر مبنی جو سمری بھجوائی ہے اس میں ایک نام اعظم خان کا بھی ہے۔ تاہم اس عہدے پر تعیناتی کا حتمی فیصلہ ورلڈ بینک کے حکام ہی کریں گے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقے بھی اعظم خان سے ناخوش ہیں، جس سے وہ خود بھی آگاہ ہیں اور شاید انہی کی خواہش پر ورلڈ بینک کی نوکری کے لیے ان کا نام بھی دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں میڈیا پر یہ خبر بھی چلی کہ اعظم خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مابین ہاتھا پائی ہوئی ہے۔ تاہم حکومتی ترجمان نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کے طاقتور اور ان کے قریب ترین سمجھے جانے والے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان دراصل ہیں کون؟ جب 2018 میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو عمران خان نے اعظم خان کو اپنا پرنسپل سیکرٹری مقرر کیا جو ابھی تک اس عہدے پر برقرار ہیں۔ حالیہ دنوں گریڈ 22 کے اعظم خان خبروں میں کافی زیادہ زیر بحث رہے خصوصا جب جہانگیر ترین اور فردوس عاشق اعوان نے اپنی اپنی فراغت کے بعد یہ الزام لگائے کہ یہ سب اعظم خان کی وجہ سے ہوا جس نے انہیں کپتان سے دور کیا۔ ایک طرف جہانگیر ترین نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعظم خان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہے ہیں تو دوسری طرف فردوس عاشق اعوان نے الزام عائد کیا کہ اعظم نے ان سے استعفی لینے کے لئے ان کو دھمکیاں دیں۔
اس سے پہلے جب اعظم خان کو پرنسپل سیکرٹری بنایا گیا تو وہ گریڈ 21 کے ملازم تھے اور کچھ سینیئر بیوروکریٹس کی جانب سے ان پر تنقید بھی کی جاتی رہی لیکن عمران خان کے ساتھ ’قربت کی وجہ‘ سے اعظم خان ہی اس عہدے پر گذشتہ تین سالوں سے فائز ہیں۔ بعد میں ان کو گریڈ 22 میں بھی ترقی مل گئی۔ ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے کنڈرگاس گاؤں سے ہے اور وہ مردان کے خان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ ویسے بھی بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ وزیر اعظم کو بیوروکریسی کے امور کے حوالے سے بریف بھی کرتے ہیں۔ تاہم اعظم خان میں چند خوبیاں ایسی ہیں جن کی بنیاد پر عمران خان ان کو پسند کرتے ہیں اور ان پر اپنے ساتھ پرانے تعلق کی بنیاد پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔
یہ 2013 کی بات ہے۔ خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک وزیراعلیٰ تھے اور سیکریٹری داخلہ اعظم خان کی مختلف امور پر ان سے ٹھن چکی تھی۔ روایت تو یہ ہے کہ صوبے میں تعینات سیکریٹری اپنی نوکری بالخصوص اہم تقرری بچانے کے لیے سر جھکاتے اور وزیراعلیٰ کی ہاں میں ہاں ملا کر کام چلاتے ہیں مگر یہ اعظم خان ٹیڑھے مزاج کے آدمی تھے۔ انھیں اپنے کام میں مداخلت پسند نہ تھی جس پر انھوں نے وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ کام کرنے سے دو ٹوک انکار کر دیا۔ 1990 میں سینٹرل سپیریئر سروس کے امتحان میں ٹاپ کر کے ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ میں شمولیت اختیار کرنے والے اعظم خان کے ساتھ کام کرنے والے سرکاری اہلکار بتاتے ہیں کہ وہ متحرک، ذہین اور نتائج کی پرواہ نہ کرنے والے بے نیاز آدمی ہیں جو اپنا کام بخوبی جانتے ہیں. اعظم خان سی ایس ایس کے 17ویں کامن بیچ سے تعلق رکھتے ہیں اور خیبر پختونخوا کے معروف برن ہال کالج ایبٹ آباد اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد جیسے ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم رہے۔
اعظم خان کے ساتھ کام کرنے والے احسان غنی بتاتے ہیں کہ اعظم متحرک، ذہین اور نتائج کی پرواہ نہ کرنے والے بے نیاز آدمی ہیں جو اپنا کام بخوبی جانتے ہیں۔ اعظم کے سیکریٹری داخلہ کے طور پر استعفے کو وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پسند نہ کیا، لہٰذا انھیں ’کھڈے لائن‘ تقرری کے طورپرسیکریٹری سیاحت تعینات کر دیا گیا۔ بیوروکریسی کی دنیا میں ’کھڈے لائن‘ کی اصطلاح ایسی تقرری کے لیے استعمال کی جاتی ہے جہاں اختیارات ہوں نہ وسائل۔ اعظم کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج تھا۔ وہ کچھ عرصہ یہاں تعینات رہے، پھر انھیں ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا جیسے مشکل عہدے پر تعینات کیا گیا، اور وہاں کچھ عرصہ تعیناتی کے بعد انھیں دوبارہ سیکریٹری سیاحت خیبر پختونخواہ لگا دیا گیا۔ اس بار سیکریٹری سیاحت تعیناتی کے دوران انھوں نے اپنے پہلے دور میں تیار کیے گئے منصوبوں کو نکالا اور ان پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ وہ مشرف دور میں پشاور میں ڈپٹی کمشنر اور اس سے قبل سوات سمیت صوبے کے دوسرے علاقوں میں مختلف حیثیتوں میں خدمات سرانجام دے چکے تھے۔ اس لیے ضلع کی سطح پر سیاحت کے فروغ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر عملدرآمد کے طریقہ کار سے بھی خوب واقف تھے۔ اس لیے صوبے بھر میں ایک تحریک شروع ہوگئی۔ انھوں نے صوبے بھر میں میلے منعقد کروانے شروع کر دیے اور خصوصی طور پر نتھیا گلی کو سیاحت کے لیے پُرکشش بنانے کے لیے اقدامات کیے۔
اسے قسمت کہیے یا کچھ اورکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان گرمیوں میں وقت گزارنے کے لیے نتھیا گلی پہنچے تو انھوں نے علاقے میں لائی جانے والی مثبت تبدیلیاں دیکھیں۔ معلوم کرنے پر انھیں بتایا گیا کہ یہ نئے سیکریٹری سیاحت اعظم خان کے اقدامات ہیں۔ عمران خان کی ہدایت پر اعظم انھیں ملے اور انھیں سیاحت کے فروغ کے لیے اپنے ایجنڈے سے آگاہ کیا۔ یہ ملاقات آئندہ آنے والے دنوں میں ہونے والی ایک گہری قربت کا ذریعہ بن گئی۔ یہی وجہ بنی کہ انھیں سیکریٹری سیاحت کے عہدے سے ہٹا کر ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبر پختونخواہ تعینات کردیا گیا جہاں وہ صوبے بھر کی بیوروکریسی کے امور کے لیے چیف سیکریٹری کی معاونت کرنے لگے۔ دوسری طرف مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی بھی ان پر نظر تھی۔ وہاں فواد حسن فواد نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے، جن کی خواہش تھی کہ مرکز میں صرف پنجابی افسران کے بجائے باقی صوبوں کے اچھے افسروں کو بھی موقع دیا جائے۔ اسی تناظر میں انھوں نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو چیئرمین سی ڈی اے کے لیے اعظم خان کا نام تجویز کیا۔ اس غرض سے انھوں نے اعظم خان کی نوازشریف سے ملاقات کا انتظام بھی کیا۔ اگست 2017 میں نواز شریف سے وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کے لیے اعظم خان کو خصوصی دعوت دی گئی۔ نواز شریف نے اعظم خان کا پرتپاک انداز میں استقبال کیا اور کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ آپ کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے امور چلائیں، آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟‘ اس پر اعظم خان نے بخوشی یہ خدمات سرانجام دینے کا عندیہ دیا اور وہ اس رسمی ملاقات کے بعد وزیرِ اعظم ہاؤس سے روانہ ہوگئے۔
فواد حسن فواد بتاتے ہیں ’میرے پاس اعظم خان کے بارے میں موصول ہونے والی تمام اطلاعات مثبت تھیں اور یہی وجہ تھی کہ میں نے اس وقت اپنے ساتھی افسر کاظم نیاز کی مشاورت سے ان کا نام وزیرِ اعظم کو پیش کیا تھا۔‘ دوسری طرف کسی حوالے سے عمران خان کو بھی بھنک پڑ گئی کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اعظم خان کو خیبر پختونخواہ حکومت سے اچکنا چاہتی ہے۔ ان دنوں عمران خان وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سے مایوس تھے کیونکہ پرویز خٹک کے ساتھ دو چیف سیکریٹری محمد ارباب شہزاد اور امجد علی خان چل نہیں پائے تھے جبکہ تیسرے چیف سیکریٹری عابد سعید کے بارے میں بھی اچھی اطلاعات موصول نہیں ہو رہی تھیں۔ عمران خان چیف سیکریٹری کے طور پر اپنے اعتماد کا افسر تعینات کرنا چاہتے تھے۔ انھیں علم تھا کہ اعظم خان اور پرویز خٹک میں باہمی اعتماد کا فقدان ہوگا اور وہ اسے اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے تھے تاکہ لاہور میں بیٹھ کر خیبر پختونخوا کو ریموٹ کنٹرول کیا جاسکے۔
موقع اچھا تھا۔ عمران خان نے فوری طور پر اعظم خان سے رابطہ کیا اور انھیں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کی تقرری کی دعوت دیتے ہوئے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ ان کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اعظم خان نے اس دعوت کو چیئرمین سی ڈی اے کی وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے کی گئی پیشکش پر ترجیح دی، یوں وہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری سے پورے صوبے کے چیف سیکریٹری بن گئے اور ان کے کیریئر کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا جس کے بعد انھوں نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ اعظم خان ستمبر 2017 سے جون 2018 تک چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے اور اس دوران صوبے کی ساری بیوروکریسی کو اس بات کا علم تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے عملی طور پر زیادہ خودمختار اور بااختیار اعظم خان تھے جن کے معاملات میں وزیرِ اعلیٰ کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں تھی۔ یہ سب صرف اور صرف عمران خان کی سرپرستی کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔ ایسا نہیں کہ اتنی اہم تعیناتیوں کے دوران اعظم خان تنازعات کا شکار نہیں رہے۔ سیکریٹری سیاحت کے طور پر مالم جبہ سکینڈل میں ان کا نام شہ سرخیوں میں رہا، جس پر نیب کی تحقیقات عرصہ دراز سے جاری ہیں مگر ابھی تک کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ کی گئی تو چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا اعظم خان کو مرکز میں سیفران ڈویژن کا سیکریٹری تعینات کر دیا گیا۔ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد 18 اگست کو عمران خان نے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالا تو اعظم خان ان کے پہلے سیکریٹری تعینات ہوئے، اور ابھی تک اس عہدے پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کا نام سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے ساتھ پاکستان ٹیلی ویژن کے معاملات پر باہمی اختلافات کی شکل میں سامنے آیا، تاہم فواد چوہدری کی وزارت بدلنے کے بعد یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھی اعظم خان سے خوش نہیں ہے اور شاید اسی وجہ سے ان کا نام ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔
