افغانستان، صدارتی انتخاب کے بعد شدید سیاسی بحران کا شکار

افغانستان کے حالیہ صدارتی انتخابات میں نومنتخب صدر اشرف غنی کے مقابلے میں ان کے دونوں صدارتی حریفوں کی طرف سے انتخابی نتائج کو قبول کرنے سے انکار کے بعد ملک میں شدید سیاسی بحران کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ ناکام ہونے والے صدارتی امیدوار اور اشرف غنی کے سیاسی حریف عبد اللہ اللہ نے نتائج کے اعلان کے بعد یکطرفہ کامیابی کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے فتح کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی ایک جامع حکومت کا اعلان کریں گے۔دوسری جانب ناکام ہونے والے دوسرے صدارتی امیدوار رحمت اللہ نبیل نے نتائج کو ‘فراڈ’ اور ‘جمہوریت کی موت کا دن’ قرار دیا۔ رحمت اللہ نبیل نے کہا کہ فراڈ کے نتیجے میں بننے والی حکومت ناقابل قبول ہے۔انہوں نے ‘مفاہمت پر مبنی حکومت’ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ رحمت اللہ نبیل نے کہا کہ عبداللہ عبداللہ اوراشرف غنی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اپنے عہدوں سے الگ ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ انتخاب کو کالعدم قرار دینا چاہیے اور طالبان کو آکر ملک گیر جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ ہم مفاہمت کی حکومت کے قیام کی طرف گامزن ہوسکیں جہاں ذاتی اور انفرادی مفادات نہ ہوں۔
یاد رہے کہ 18 فروری کو افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن نے گزشتہ برس ستمبر میں ہونیوالے صدارتی انتخاب کا حتمی نتیجہ جاری کیا تھا اور اشرف غنی کی کامیابی کا باضابطہ اعلان کردیا جس کے ساتھ ہی وہ دوسری مرتبہ افغانستان کے صدر منتخب ہو ئےتاہم ان کے حریفوں نے ان انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
اس حوالے سے سابق افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ پہلے ہی اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ موجودہ حالات میں شفاف اور غیر جانبدار صدارتی انتخاب کرانا ناممکن ہے اور اس کے نتیجے میں بحران پیدا ہوگا اور امن عمل بھی متاثر ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام سماجی اور سیاسی قوتوں کے اتحاد کے لیے بھی زور دیا کہ وہ امن کے حصول کے لیے مل کر کام کریں اور اسی کو اہم ترین مسئلہ تصور کریں۔ حامد کرزئی نے مزید کہا کہ یہ عمل جو انتخاب کے نام پر ہمارے عوام پر مسلط کیا گیا وہ ایک غیر قومی عمل تھا اور جمہوری اصولوں اور اقدار کے منافی تھا جس میں توقع سے کہیں کم ٹرن آؤٹ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
