افغانستان میں طالبان کے پانچ سال، انسانی حقوق کی صورتحال پر 56 ممالک کا اظہار تشویش

مشترکہ بیان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق، انسانی امداد، معیشت اور سلامتی کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار، افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ

نیویارک (نیوز ڈیسک) افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کے 56 رکن ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ملک میں انسانی حقوق اور سلامتی کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کو انسانی حقوق، انسانی امداد، معاشی مشکلات اور سکیورٹی کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغان عوام بلکہ ہمسایہ ممالک اور پورے خطے کے امن و استحکام پر بھی پڑ رہے ہیں۔

بیان میں خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے روکا گیا ہے۔

56 ممالک نے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کو علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی تنظیموں کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔

مشترکہ بیان میں طالبان کے طرزِ حکمرانی اور انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ موجودہ صورتحال افغانستان کی عالمی سطح پر تنہائی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

بیان میں عالمی برادری نے افغان عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ، خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم و روزگار تک رسائی اور افغانستان کو دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

Back to top button