مودی حکومت کی میڈیا پالیسیوں پر تنقید، بھارت میں آزادیٔ صحافت محدود ہونے کا دعویٰ

بھارتی جریدے دی وائر اور صحافیوں نے سینسرشپ، اختلافی آوازوں پر قدغن اور خبروں پر عوامی اعتماد میں کمی کو تشویشناک قرار دے دیا

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں نریندر مودی حکومت کی میڈیا پالیسیوں پر ایک بار پھر تنقید سامنے آئی ہے، جہاں مختلف صحافیوں اور میڈیا رپورٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی اقدامات کے باعث آزادیٔ اظہار اور آزاد صحافت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق مودی حکومت کے دور میں سینسرشپ کے رجحان نے سنگین صورت اختیار کی ہے اور سیکشن 69 اے کے تحت بعض اختلافی آوازوں اور آن لائن مواد کو محدود کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات کو ناقدین بھارتی آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار اور آزاد صحافت کے حق کے لیے چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی صحافی پوجا پرسنّا کے مطابق رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں خبروں پر اعتماد کی شرح 39 فیصد تک رہ گئی ہے، جبکہ 52 فیصد افراد خبروں سے گریز کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔

دی وائر نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں کے باعث بھارت میں میڈیا کی آزادی مختلف سطحوں پر دباؤ کا شکار ہے اور صحافیوں کے لیے حکومت سے سخت سوالات کرنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہوتا جارہا ہے۔

سی این این ساؤتھ ایشیا کی رپورٹر ریا مغل کے مطابق نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی میڈیا کی آزادی بتدریج محدود ہوئی ہے اور صحافت کے ماحول میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر حکومتی بیانیے کو فروغ دینے اور اختلافی آرا کو محدود کرنے کے رجحان نے بھارت میں آزاد صحافت کے مستقبل کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کردیے ہیں۔

Back to top button