افغانستان پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ کیوں بن گیا؟

بین الاقوامی اسٹیج پر ایک مرتبہ پھر افغانستان کے مستقبل کے تانے بانے بُنے جا رہے ہیں اور ان کوششوں میں پاکستان کا بھی کلیدی کردار ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کے لیے افغانستان ’زندگی اور موت کا مسئلہ‘ کیوں بنا ہوا ہے؟ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی مسلمان اکثریتی ملک ہیں لیکن دونوں کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار چلے آ رہے ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو بہتر کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو پائی ہیں۔ پاک افغان فرنٹ پر تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ صدر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر طالبان کی حمایت کرنے اور انہیں مالی مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کر دیے ہیں جنکو پاکستان نے غیر ذمہ دارانہ اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے اسلام آباد میں افغان سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔ اشرف غنی کا کہنا تھا کہ طالبان کو پاکستان سے رسد ملتی ہے۔ ان کی مالی اعانت اور بھرتی بھی وہیں سے ہوتی ہے۔افغان صدر نے مزید کہا تھا کہ طالبان کی فیصلہ سازی کے حوالے سے کوئٹہ شوریٰ، میران شاہ شوریٰ اور پشاور شوریٰ بھی پاکستان میں ہی ہیں اور ان کا پاکستانی ریاست کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صدر غنی کا کہنا تھا کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں ان کا کردار بہت معمولی سطح کا رہ جائے گا اور اب افغانستان سے دوستی یا دشمنی کا انحصار پاکستان پر ہے۔
دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان صدر کی جانب سے الزامات میں کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی ہے بلکہ یہی الزامات وہ گزشتہ پانچ برسوں سے پاکستان پر عائد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اسلام آباد کا موقف ہے دراصل افغان سرزمین افواج پاکستان اور پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے کیونکہ پاکستانی طالبان نے افغانستان میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں جہاں سے وہ دراندازی کر کے سرحد پار حملے کرتے ہیں لیکن انکے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔اس دراندازی کو روکنے کے کے لیے پاکستان نے 2600 کلومیٹر پاک افغان سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔
کابل اور افغانستان کے تعلقات کیوں کشیدہ رہتے ہیں؟ یہ سمجھنے کے لیے تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔ 1823 میں نوشہرہ کی جنگ کے بعد درہ خیبر تک کا علاقہ رنجیت سنگھ کی پنجابی سلطنت میں شامل ہو چکا تھا جو کہ برطانوی راج کے پنجاب پر قبضے کے بعد اس کی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ پاکستان اور افغانستان کے کشیدہ تعلقات کی جڑیں 1893ء میں شروع ہونے والے مسئلہ پختونستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس وقت برطانوی راج کے نمائندے سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ نے برطانوی ہندوستان اور افغانستان کو الگ کرنے کے لیے ڈیورنڈ لائن کی بنیاد رکھتے ہوئے ایک سرحد قائم کی، جس سے پختون قبائل دو حصوں میں تقسیم ہوئے۔ یہ جمود 1947ء میں پاکستان کی آزادی تک جاری رہا۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات میں بہتری کا دور تب آیا جب سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کرلیا اور پاکستان نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے امریکی سی آئی اے کے ساتھ مل کر جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس جنگ کے نتیجے میں سوویت یونین تو افغانستان سے نکل گیا لیکن خود سے لڑنے والے لاکھوں جہادی چھوڑ گیا جو اب طالبان اور داعش کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور پاکستان اور افغانستان دونوں کے وجود کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔
اب ان واقعات کو بھی کئی عشرے بیت چکے ہیں، پُلوں کے نیچے سے ‘دہائیوں کا پانی‘ بہہ چکا ہے لیکن پاکستان اور افغانستان اب بھی ماضی میں ہی کھڑے ہیں، ان دونوں ممالک کے ‘مسائل اور بدگمانیاں‘ ویسی ہی برقرار ہیں، جیسے ماضی میں تھیں۔ اب نئی نسلیں ان ‘بدگمانیوں‘ کا بوجھ اٹھانے کی تیاریوں میں ہیں۔ پاکستان کے لیے ”گریٹر پختونستان اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت‘‘ کا مسئلہ وہاں کا وہاں ہی کھڑا ہے لیکن ضراری یے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلایا جائے اور ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسیاں اس وقت تک تبدیل نہیں ہوں گی، جب تک اسے یہ گارنٹی نہ مل جائے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب اسلام آباد حکومت کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ وہ مستقبل میں کابل حکومت کی مدد و حمایت کرے گی نہ کہ ان عناصر کی، جو مرکزی حکومت کے خلاف ہیں۔ کئی عشروں بعد ایک مرتبہ پھر ان دونوں ممالک کے سامنے ایک سنہری موقع ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آنے والی نسلوں کے مستقبل کے بارے میں سوچا جائے۔ دیگر ممالک تو اپنے مفادات دیکھیں گے لیکن اصل فیصلہ ان دونوں ممالک کی ‘بااثر شخصیات اور گروپوں‘ نے کرنا ہے کہ وہ چند عشروں بعد آنے والی نسلوں کے ہاتھ میں بندوق یا قلم دیکھنا چاہتے ہیں۔
