افغانستان کی سیاسی صورتحال کیلئے تیار رہنے کی ضرورت ہے

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ افغانستان میں نئی سیاسی صورتحال کا سامنا کرنے کےلیے ہر اعتبار سے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔قومی اسمبلی میں افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 38 مقامات پر لڑائی جارہی ہے جبکہ 24 سو افغان اہلکاروں نے ہتھیاروں کے ساتھ طالبان گروپ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہم طورخم میں شینواریز اور پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر واقع انگور اڈہ میں وزیر کو جانے کی اجازت دیں گے۔
شیخ رشید نے کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ آئندہ کے دو سے تین مہینے بہت اہم ہیں، ہم سب سیاسی جماعتوں کو رونما ہونے والی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہے۔
ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک میں موجودہ معاشی صورتحال کی اصل وجہ مہنگے بجلی کے معاہدے ہیں اور اگر ان معاہدوں پر نظر ثانی کرلیا جائے تو تمام سارے مسئلے اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
انہوں نے قومی اسمبلی میں حالیہ ہنگامہ آرائی سے متعلق کہا کہ تعلیمی یافتہ طبقے میں اسمبلی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا لیکن خدا کا شکر کہ اب بہتری کی فضا قائم ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ میں ایک سیاسی ورکر ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس تو سارے ہی جاتے ہیں، سب ہی لوگ جاتے ہیں کیونکہ یہ مجبوری ہے جس پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پہلی مرتبہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں اوورسیز پاکستانیوں نے 9 ارب ڈالر ترسیلات زر بھیجی اور اگر ایسا نہ ہوتا ہمیں پڑوسی ممالک میں کشکول لے کر جانا پڑتا۔
