افغان حکومت نے داڑھی مونڈھنے ، خواتین پر پابندیوں کی تردید کر دی
طالبان حکومت نے سوشل میڈیا پر زیر گردش خواتین کے متعلق افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے جس میں بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے خواتین کے کالج اور یونیورسٹی جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔
سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی گرم رہیں کہ طالبان حکومت نے حجاموں پر داڑھی مونڈھنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ خواتین کو موبائل فون استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔
افغان وزارت ثقافت اور اطلاعات کے عہدیداروں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ داڑھی کی لمبائی اور خواتین کے سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی طالبان کی سرکاری پالیسی میں شامل ہی نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر افغانستان کے صوبوں کاپیسا، ہلمند اور تخار میں ایک خط حجاموں کو دیا گیا جس میں داڑھی تراشنے اور خواتین کے سمارٹ فونز پر پابندی سے متعلق ہدایات درج تھیں۔
افغان وزارت نشریات کے حکام اور کابل یونیورسٹی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں طالبات کے داخلے پر پابندی سے متعلق خبر کی تردید کی۔
