افغان صدارتی محل سے ملنے والی دستاویزات میں اہم انکشافات

بتایا گیا کہ افغانستان کے صدارتی محل میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان اور افغان حکومت کے ملک میں نئی عبوری حکومت کے قیام کا معاہدہ طے پایا ، جس کے تحت اشرف غنی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ، مذکرات میں کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ بھی طے پا یا ، جس کے تحت طالبان عبوری حکومت کو اقتدار کی پرامن منتقلی کا فیصلہ کیا گیا ، سارے معاملے میں عبداللہ عبداللہ نے ثالث کا کردار ادا کیا ، اس موقع پر افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ عبدالستار مرزا کوال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت کی منتقلی پرامن طریقے سے ہوگی ، کابل کے شہری یقین رکھیں کہ سکیورٹی فورسز شہر کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔
دوسری طرف طالبان نے کابل میں پل چرخ خیل کا کنٹرول سنبھال کر اپنے ساتھیوں کو نکال دیا اور طالبان نے ملک میں عام معافی کا اعلان بھی کر دیا ، افغانستان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلامی امارات افغانستان کے دروازے ان تمام افراد کے لیے کھلے ہیں جنہوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ، اسلامی امارات افغانستان کے دروازے کرپٹ کابل انتظامیہ کے ساتھ کھڑے افراد کے لیے بھی کھلے ہیں ، پہلے بھی معافی دی اور اب ایک بار پھر دعوت دیتے ہیں کہ آئیں اور قوم و ملک کی خدمت کریں۔
