افغان طالبان کا بالآخر القاعدہ سے تعلق ختم کرنے کا اعلان

القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر کے افغانستان پر امریکی حملے کا جواز دینے والے افغان طالبان نے بالآخر القاعدہ کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ یاد رہے کہ نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ نے افغانستان میں قائم ملا عمر کی طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھالیکن حوالگی سے انکار پر امریکہ نے اتحادی افواج کے ہمراہ افغانستان پر قبضہ کرلیا تھا اور آج بھی وہاں پر موجود ہے۔
اب ایک بیان میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا ہے کہ طالبان امریکہ سے کیے گئے معاہدہ پر نہ صرف قائم ہیں بلکہ انہوں نے القاعدہ سے بھی رابطے مکمل طور پر ختم کر دئیے ہیں، انہوں نے طالبان میں دھڑے بندی کی خبروں کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے تمام جنگجو اپنی قیادت کے ہر حکم کے پابند ہیں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سنہ 2019 اور 2020 کے اوائل تک طالبان کے القاعدہ کے ساتھ نہ صرف رابطے تھے بلکہ اُن کا نیٹ ورک طالبان کی مدد سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں مزید مضبوط ہو رہا تھا۔ یہ رپورٹ سکیورٹی کونسل کے مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے 27 مئی کو جاری کی گئی ہے۔ افغان طالبان نے اس رپورٹ کے ردعمل میں کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل کی اس رپورٹ میں اُن پر لگائے گئے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں سکیورٹی کونسل کی اس رپورٹ کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالبان امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر من و عن عمل درآمد کر رہے ہیں۔ ترجمان نے سکیورٹی کونسل کے رپورٹ میں طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد دھڑے بندی کو بھی رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے تمام جنگجو اپنی قیادت کے ہر حکم کے پابند ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ القاعدہ سمیت کوئی بھی بین الاقوامی شدت پسند تنظیم افغان سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں کرے گی اور طالبان القاعدہ سمیت کسی بھی بین الاقوامی شدت پسند تنظیم کے ساتھ رابطے نہیں رکھیں گے۔ سکیورٹی کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے اہم رہنماؤں سمیت مختلف بین الاقوامی شدت پسند تنظیموں کے جنگجو افغانستان میں ابھی تک موجود ہیں اور اُن کے طالبان کے ساتھ مسلسل رابطے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ مذاکرات کے دوران بھی مسلسل رابطوں میں تھے اور حقانی نیٹ ورک القاعدہ کو ان مذاکرات سے متعلق آگاہ کرتا رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان مذاکرات کے دوران القاعدہ کو یہ باور کراتے رہے کہ اُن کے یعنی القاعدہ اور طالبان کے تاریخی تعلقات کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچے گی۔
سیکیورٹی کونسل کی رپورٹ میں رواں سال امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر طالبان کی جانب سے مکمل عمل درآمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ابتدائی معلومات سے ایسا لگ رہا ہے کہ اس امن معاہدے کے نتیجے میں اہداف کا حصول مشکل نظر آرہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ طالبان نے ابھی تک موسم بہار کے کاروائیوں کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے تاہم معلومات کے مطابق اُن کے جنجگو کمانڈروں نے اس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان لیڈرشپ نے اپنے جنگجوؤں کے ساتھ امریکہ طالبان معاہدے کے بارے میں تمام تر معلومات شئیر نہیں کی ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ القاعدہ کے ساتھ رابطہ نہ رکھنے کے بارے میں بھی اُنہیں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ طالبان کی قیادت اور جنگجو کمانڈروں میں بھی امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر اختلافات موجود ہیں اور بعض نئی دھڑے اُبھر آئے ہیں۔
سکیورٹی کونسل کے مطابق اس وقت افغانستان میں جنگجو طالبان کی تعداد 55 ہزار سے 85 ہزار کے درمیان ہے، جب کہ القاعدہ کے چار سو سے چھ سو کے درمیان فائٹرز افغانستان میں موجود ہیں اور ساڑھے چھ ہزار پاکستانی جنگجوؤں سمیت کئی دیگر بین الاقوامی شدت پسند افغانستان میں تاحال محفوظ ٹھکانے ڈھونڈ رہے ہیں۔
سکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق اس رپورٹ کی تیاری کے دوران طالبان کے پاس افغانستان کے مختلف صوبوں میں اکیس اضلاع کا کنٹرول تھا۔ سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری کردہ اس بیان سے پہلے افغان حکام نے بھی طالبان پر الزام لگایا تھا کہ اُن کی القاعدہ کے ساتھ ابھی تک رابطے ہیں۔
