اقوام متحدہ کا کینیا سے ارشد شریف کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ

پاکستانی سینئر صحافی اور معروف اینکرپرسن ارشد شریف کے قتل پر اقوام متحدہ نے کینیا سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے، اور زور دیا ہے کہ تحقیق کے نتائج کو منظر عام پر لایا جائے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ترجمان سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اسٹیفن ڈوجارک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ارشد شریف کی موت کی المناک رپورٹ دیکھی ہے، میرے خیال میں وجوہات کی مکمل چھان بین کی ضرورت ہے اور کینیا کے حکام نے کہا ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات مکمل کرکے تحقیقات رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائیں، امریکا نے بھی سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کینیا کی حکومت سے واقعے کی مکمل تحقیقات پر زور دیا ہے۔
واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ کن حالات میں ارشد شریف کی موت واقع ہوئی ہے، لیکن ہم اس کی مکمل تحقیقات پر زور دیتے ہیں۔ کینیا حکام کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کا واقعہ پولیس کی جانب سے شناخت میں ’غلط فہمی‘ کے نتیجے میں پیش آیا۔

حکام نے کہا کہ کینیا کی پولیس نے نیروبی کے قریب ارشد شریف کی گاڑی پر رکاوٹ عبور کرنے پر فائرنگ کی، پولیس نے دعویٰ کیا کہ پولیس بچے کے اغوا کے کیس میں گاڑی تلاش کررہی تھی اسی دوران جب ارشد شریف کی گاڑی رکاوٹ عبور کرکے آگے بڑھی تو پولیس افسران نے گاڑی پر فائرنگ کردی تاہم ارشد شریف کے اہل خانہ نے پولیس کے تفصیلی بیان کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔خیال رہے کہ ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ارشد شریف دبئی میں اپنے امریکا کے ویزہ کی تجدید کے لیے درخواست دی تھی لیکن ان کے ویزہ کی درخواست مسترد ہوگئی تھی، انہوں نے کہا کہ اگر ارشد شریف کا ویزہ لگ جاتا تو ان کی جان بچ سکتی تھی۔

ترجمان نیڈ پرائس نے کہاکہ میرے لیے کسی مخصوص فرد کے حوالے سے بات کرنا مشکل ہے لیکن ایسے لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر تحفظ دینے کے لیے ہمارے دنیا بھر میں پروگرامز موجود ہیں جو آزادی اظہار رائے اور معلومات کے حصول جیسے عالمگیر حق کا استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کے کام سے واضح ہے کہ انہوں نے خود کو آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کے لیے وقف کیا ہوا تھا، دنیا بھر میں لوگ ان کے کام سے واقف تھے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جب بھی ہمیں کسی ملک کی جانب سے ایسے لوگوں کو ڈرانے، ہراساں کرنے اور ان کی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششوں کا علم ہوا جو اظہار رائے کی آزادی کے لیے پُرعزم ہیں تو امریکی محکمہ خارجہ اور دیگر اداروں نے ان کے خلاف کارروائی کی ہے۔

نیڈ پرائس سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستانی سیاسی نظام پر تنقید کرنے والے جلاوطن صحافی خود کو امریکا میں سو فیصد محفوظ سمجھ سکتے ہیں؟ نیڈ پرائس نے جواب دیا کہ امریکا ایک ایسا ملک ہے جو ان تمام حقوق کی پاسداری کرتا ہے جو ہمارے آئین میں درج ہیں، میں یقیناً یہاں ہر کسی کو مشورہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں لیکن یہ وہ حقوق ہیں جو امریکا کے ڈی این اے میں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ یہ حقوق عالمگیر ہیں، یہ وہ حقوق ہیں جن کا تحفظ صرف یہاں نہیں بلکہ دنیا بھر کے معاشروں میں ہونا چاہیے اور جب دیگر ممالک ان حقوق کا احترام کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو امریکا اس کے لیے آواز اٹھاتا ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے۔

Back to top button