الیکشن کمیشن سے پنگا ڈالنے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو الیکشن کمیشن یا کسی آئینی ادارے سے شکایات اکثر اپوزیشن کرتی آئی ہے لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہے کہ حکمران جماعت اپنے ہی لگائے گئے ایک آئینی ادارے کے سربراہ اور اس کے ممبران پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ لیکن اہم ترین سوال یہ یے کہ اگر الیکشن کمیشن ڈٹا ریے تو کیا حکومت اسے فارغ کر سکتی ہے؟
آئینی اور قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چاروں ارکان کو بے ضابطگی کے الزام یا پھر ذہنی یا جسمانی معذوری پر سپریم جوڈیشل کونسل ہی ہٹا سکتی ہے۔ حکومت کے پاس انہیں ہٹانے کا اختیار نہیں ہے جو آئینی طریقہ ٔ کار اعلیٰ عدالتوں کے ججوں پر لاگو ہوتا ہے وہی الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ارکان کے لئے بھی ہے۔ جس کے لئے سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنا ہوتا ہے۔ حکومت کے پاس چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان سے چھٹکارا پانے کے تین طریقے ہیں، اول وہ خود مستعفی ہوجائیں، دوئم وہ انتقال کرجائیں یا انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے بے ضابطگی کا مجرم قرار دیا جائے۔ تیسرے یہ کہ وہ ذہنی یا جسمانی معذوری کے باعث کام کرنے کے قابل نہ رہیں۔
سینئر ماہر قانون جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال نے حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کے استعفے کے مطالبے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ ‘حکومت کا یہ مطالبہ غیر منتطقی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی کی مدت مقرر ہے، انھیں ہٹایا یا ان سے استعفیٰ نہیں لیا جا سکتا ماسوائے ان کے خلاف اختیارات سے تجاوز یا ان کے غلط استعمال کا الزام ہو۔ انکا کہنا یے کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کی مدت ختم ہونے سے قبل ان کو ہٹانا ممکن نہیں اور یہ حکومت کی ایک عجیب سے بات ہے کہ وہ الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ الیکشن کمیشن کے ارکان نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے یا ان کا غلط استعمال کیا ہے تو اس پر کارروائی کرنے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم موجود ہے۔ حکومت وہاں ان ارکان کے خلاف ایک قانونی درخواست دائر کر سکتی ہے۔ حکومت کو اپنی درخواست کے ساتھ الیکشن کمیشن کے ارکان کے خلاف تمام شواہد اور ثبوت بھی سپریم جوڈیشل کونسل کو فراہم کرنا ہوں گے۔ اس درخواست پر سپریم جوڈیشل کونسل جائزہ لے کر فیصلہ دے سکتی ہے۔
جستس ناصرہ کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت کی سیاسی صورتحال ایسی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں بھی تناؤ ہے، دوسری جانب اداروں کا اپوزیشن اور حکومت کے ساتھ بھی تصادم ہے۔ ایک جانب حکومت الزامات لگا رہی ہے تو دوسری جانب اپوزیشن بھی ووٹ مسترد کرنے کے معاملے پر عدالت جانے کا کہہ چکی ہے۔’
اس بارے میں سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ ‘وفاقی حکومت کا الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کرنا اس لیے غیر مناسب ہے کہ اگر آج ایک آئینی ادارے کے سربراہ اور ممبران پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کل کو آپ کسی بھی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر بھی اسی قسم کے عدم اعتماد کا اظہار کر دیں گے۔’ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی وہ ہی اختیارات ہیں جو چیف جسٹس آف پاکستان یا سپریم کورٹ کے پاس ہوتے ہیں۔’
سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ حکومت کا الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ ناجائز ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کو اگر ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے یا جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے تو اس حوالے سے عوامی سطح پر شواہد اور ثبوت فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اپوزیشن کی بجائے کوئی حکومت وقت الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہی ہے حالانکہ صرف دو ماہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن پر اعلانیہ عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ دراصل یہ سارا مسئلہ ڈسکہ کے الیکشن سے پیدا ہوا ہے۔ حکومت الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ آپ ڈسکہ کے الیکشن میں کچھ گڑبڑ کرنا چاہ رہ تھے اور ادارے نے آپ کو روک لیا۔ سہیل ورائچ کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کو ڈسکہ کے دوبارہ ہونے والے ضمنی انتخاب میں شکست کا خطرہ ہے اس لیے یہ شور مچا رہی ہے ورنہ ایسا شور نہ مچتا۔’
سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ‘وزیر اعظم کے ارد گرد آئینی و قانونی مشیر اور ماہرین ان کو مناسب بریفنگ نہیں دے رہے اور انھیں یہ ایک راستہ دکھایا ہے کہ آپ الیکشن کمیشن آف پاکستان پر سخت دباؤ ڈالیں گے تو ہمارے رٹ مضبوط ہوگی جبکہ دراصل ایسا نہیں ہو گا اور اگر الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کا استعمال کیا تو ایک آئینی و سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے پچھلے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کے ساتھ بھی اسی طرح پنگا ڈالا تھا۔ ان کو تو ایک دوسری حکومت نے تعینات کیا تھا لیکن راجہ سکندر سلطان کا نام تو وزیراعظم عمران خان نے خود تجویز کیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ خرابی دراصل حکومت کی سائیڈ پر ہے۔ کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ ‘اگر الیکشن کمیشن نے سفوت محمود کی پریس کانفرنس پر وفاقی وزرا کو نوٹس جاری کر دیا اور وہ پیش نہ ہوئے تو ادارے کے پاس توہین عدالت کی طرح کے اختیارات ہیں اور وہ ان نااہل قرار دے سکتا ہے۔ اس سے حکومت کو نقصان نہیں ہو گا اور اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔’
وفاقی وزرا کی جانب سے الیکشن کمیشن پر سپریم کورٹ کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد نہ کرتے ہوئے اوپن بیلٹ کے لیے کوئی طریقہ کار وضع نہ کرنے کے الزام پر بات کرتے ہوئے کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ ‘ سپریم کورٹ نے نہایت عمدہ رائے دی تھی جس میں قانون سازی کے ساتھ ساتھ کسی ایسی ٹیکنالوجی اپنانے کی رائے دی تھی جس سے ہارس ٹریڈنگ کا سدباب کیا جا سکے۔اس پر الیکشن کمیشن کو آئین کے تحت سیکریٹ بیلٹنگ کو بھی مدنظر رکھنا ہے اور الیکشن کمیشن محدود وقت میں بیلٹ پیپر میں کسی قسم کی ترمیم کرنے کے وسائل اور اختیارات نہیں رکھتا۔’ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بنا اختیارات اور قانون سازی کے محدود وقت میں کیسے کام کر سکتا تھا، لہذا انھوں نے حکومت کی رائے پر مستقبل میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے بارے میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے موقف کے مطابق اگر الیکشن کمیشن نے کوئی عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہوتی تو سپریم کورٹ خود ہی اس پر ایکشن لے لیتی۔ الیکشن کمیشن نے حکومت سے بارہا قانون سازی کرنے کا کہا جو آپ نہیں کر سکے اور اب الزام الیکشن کمیشن پر عائد کرنا غلط ہے۔’
اس بارے میں سہیل ورائچ کا کہنا تھا کہ ‘یہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کی بات ہے، عدالت عظمیٰ نے ایسے کوئی ہدایت یا رائے نہیں دی تھی کہ آئین کی خلاف ورزی کی جائے، آئین میں ووٹ کی سیکریسی بہت واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ حکومت اوپن بیلٹنگ کرنا چاہتی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح ایسے کر رہی ہے جیسے اس میں اوپن بیلٹنگ کا کہا گیا ہے جو کہ غلط ہے سپریم کورٹ نے ایسی کوئی رائے نہیں دی اور الیکشن کمیشن آئین کے تحت کام کرنے کا پابند ہے۔’
