الیکشن کمیشن کا فیصلہ : پرویز الٰہی نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے

الیکشن کمیشن کی جانب سے ق لیگ کی سینٹرل کمیٹی کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین کو پارٹی کی صدارت پر برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد چودھری پرویز الٰہی کا سیاسی مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔سنٹرل ورکنگ کمیٹی کی جانب سے چوہدری شجاعت حسین کی پارٹی صدارت سے برطرفی پارٹی آئین کے متصادم ہے۔الیکشن کمیشن کے فیصلے نے جہاں چودھری پرویز الٰہی کی بچی کھچی سیاسی ساکھ پر شدید زد پہنچائی ہے وہیں ان کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

حالانکہ حقائق کو دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کی اقتدار کی ہوس اور مفادات کی جنگ نے 25 سال ایک ساتھ رہنے والے چودھری بردارن کی راہیں جدا کروا دیں ۔۔۔۔اور گزرتے وقت کے ساتھ ان کے باہمی اختلافات میں شدت آتی جا رہی ہے ۔۔۔ایک طرف چوہدری پرویز الٰہی نے پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹا کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار چکے ہیں وہیں دوسری طرف پرویز الٰہی کیخلاف کارروائیوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے اور وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی تنہائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طرف چوہدری بردران کے اختلافات بڑھ رہے ہیں دوسری جانب پرویز الہی تحریک انصاف میں ممکنہ شمولیت کی بجائے تنقید سے ق لیگ کی سیاست خطرات کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔۔ان حالات میں پارٹی کو منظم کرنا مشکل دکھائی دیتا اور اب فوری اتحاد کی بھی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آ رہی۔ ق لیگ سے وابستہ اراکین اسمبلی، کارکن اور رہنما بھی مخمصے کا شکار ہیں کہ کس طرح سیاسی میدان میں اپنی ساکھ کو برقرار رکھ پائیں گے؟اور آئندہ ان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا۔

یہاں پر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ چوہدری بردارن میں اختلافات کیا ہیں؟ق لیگ کی مرکزی قیادت چوہدری شجاعت حسین اور ان کے کزن چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان پہلی بار تقسیم اس وقت نظر آئی جب وفاق میں چوہدری شجاعت نے پی ڈی ایم کا ساتھ دیا جبکہ پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی اور ق لیگی اراکین پی ٹی آئی کے ساتھ رہے۔پنجاب میں تبدیلی کے لیے پی ڈی ایم حکومت نے چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ نامزد کیا لیکن وہ اچانک پی ٹی آئی کی طرف چلے گئے اس کے بعد پنجاب کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب سے پی ٹی آئی کی نشستیں بڑھیں اور حمزہ شہباز جو وزیر اعلیٰ تھے ان کی وزارت اعلیٰ خطرے میں پڑی تو چوہدری شجاعت نے آصف زرداری کو لیٹردے دیا جس میں ق لیگی ایم پی ایز کو حمزہ کی حمایت کا کہا گیا۔

مد مقابل وزارت اعلیٰ کے امیدوار پرویز الٰہی تھے جو وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے مگر چوہدری بردران میں اختلاف کی دراڑ مزید گہری ہوگئی۔چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے مونس الٰہی نے تحریک انصاف کے ساتھ شمولیت کا بھی اشارہ دیا جس پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔دوسری جانب چوہدری برادران کے قریبی عزیز محسن نقوی کے نگران وزیر اعلیٰ بننے پر بھی چوہدری مونس الٰہی اورپرویز الہی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔سلمان غنی کے مطابق ق لیگ اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلتی ہے اب بھی ق لیگ کا اتحاد یا اختلاف طاقتور حلقوں کی منشا کے مطابق ہی ہوگا۔سیاسی تجزیہ کار صحافی سلمان غنی نے کہا کہ مسلم لیگ ق شروع سے ہی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے چلنے والی جماعت رہی کیونکہ اس کا وجود جنرل مشرف کے زیر سایہ قیام میں آیا اور پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد بھی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر کیا گیا۔

اس جماعت کی بقا چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کے اتحاد سے جڑی ہے مگر جس طرح اب دو دھڑے بن گئے حالانکہ الیکشن کمیشن میں چوہدری شجاعت کے نام سے پارٹی رجسٹرڈ ہے۔‘سلمان غنی کے بقول چوہدریوں میں جتنے اختلافات بڑھتے جارہے ہیں اتنے ہی ق لیگ کے کمزور ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔سلمان غنی نے کہا کہ ق لیگ کی سیاسی قوت صرف چوہدری خاندان کا اتحاد تھا اگر یہ متحد نہیں ہوں گے تو پھر ق لیگ کا آگے بڑھنا اور نشستیں لینا یا کسی سے اتحاد خطرے میں ہوگا۔اینکر پرسن تنزیلہ مظہر کے مطابق چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی دونوں ہی ق لیگ کی پہچان سمجھے جاتے ہیں اختلاف کی صورت میں مرکزی سطح یا پنجاب میں بھی اس پارٹی کو موثر پذیرائی نہیں مل سکتی۔

تنزیلہ نے کہا: ’چوہدری شجاعت وفاقی حکمران اتحاد میں شامل ہیں اور پنجاب میں پرویز الٰہی پی ٹی آئی کی حمایت سے وزیر اعلیٰ تھے لیکن اب پنجاب میں وہ اقتدار سے باہر ہیں اسی لیے انھوں نے ق لیگ پرقبضہ کی کوشش کی جس سے ان کا مزید نقصان ہوا۔‘’اگر ماضی کو دیکھا جائے تو ہو سکتا ہے سیاسی طور پر چوہدری بردران دوبارہ متحد ہوجائیں کیونکہ چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی پیپلز پارٹی رہنما آصف زرداری کا احترام کرتے ہیں مستقبل میں ایک یہ چانس ہوسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں ق لیگ کو متحد کر کے سیاسی اتحاد بنا لے مگر فوری اس کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔۔ تحریک انصاف میں ممکنہ شمولیت ہوتی ہے یا اتحاد یہ تو وقت ہی فیصلہ کرے گا۔

Back to top button