عمران خان کی موجودگی سے زمان پارک کا سکون غارت

عمران خان اقتدار سے بے دخلی کے بعد خود تو بے چینی کا شکار ہے لیکن اس کا وجود بھی لاہوریوں کیلئے باعث تکلیف بنتا جا رہا ہے، زمان پارک کے باہر بے ہنگم ٹریفک جام نے شہریوں کو اذیت کا شکار بنا دیا ہے۔ لاہور شہر کے جنوب سے گزرتی نہر کے شمالی کنارے پوش اور پُرسکون علاقہ زمان پارک اپنی تاریخ کے بدترین بے سکونی کے دور سے گزر رہا ہے۔ جہاں کے مرکزی راستے اورگلیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت چیکنگ کا اسپاٹ بن چکی ہیں۔ پارک ویران اور عمران خان کی رہائشگاہ والا علاقائی حصہ شور و غل سے مچھلی بازار بن چکا ہے۔ یہاں کے مکینوں نے ایسی بے سکونی اور بے اطمینانی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ علاقہ مکین مضطرب اور خوف زدہ ہیں کہ کسی پل بھی یہاں بڑا ہنگامہ، پکڑ دھکڑ اور ڈنڈے سوٹے چل سکتے اور گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔ بعض لوگوں نے تو اس ہنگامے سے پہلے ہی یہاں سے کوچ شروع کردیا ہے۔
عمران خان کی گرفتاری کی اطلاعات اور پی ٹی آئی کی کال پر کارکنوں نے پارٹی چیئرمین کے گھر کے باہر ڈیرے ڈال لئے ہیں۔ جہاں ایک میلے کا سا سماں ہے اور اس کھیل کے ذمہ دار کھلاڑیوں کی حاضریاں لگائی جارہی ہیں۔ یہ میلہ گرین بیلٹ پر جاری ہے۔ جہاں نعرے، گانوں اور رقص اور بریانی کے ڈبے و پانی کی بوتلیں چھیننے کے مقابلے ہو رہے ہیں۔
عمران خان بنی گالہ منتقل ہونے کے بعد عملی طور پر یہ علاقہ چھوڑ چکے تھے۔ لیکن لانگ مارچ کے دوران وزیرآباد میں قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے کے بعد سے یہاں مقیم ہیں اور علاقے کی گلیاں عملی طور پر سیکورٹی اہلکاروں کی پکٹس بننے سے یرغمال ہیں۔ داخلی راستہ بند ہے۔ جبکہ ملحقہ گلیوں سے گزرنے کیلئے بھی مکینوں کو تلاشی کے عمل سے گزرنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ جبکہ اب پی ٹی آئی کارکنوں نے گرین بیلٹ پر لگے پودوں کو اکھاڑ کر اسے پارکنگ اور فرشی نشست گاہ میں تبدیل کردیا ہے۔
زمان پارک کے ایک بنگلے میں کام کرنے والے بنگالی بابا شبراتی کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت بھی یہاں ایسی بے سکونی نہیں دیکھی۔ ہمیں ہر کوئی دہشت گرد سمجھنے لگا ہے اور پیدل سودا سلف لانے کی صورت میں مجھ سمیت تمام لوگوں کو چیک کروانا پڑتا ہے۔ زیادہ تر صاحب لوگوں کے ساتھ گاڑی میں سودا سلف لاتے ہیں یا پھر تین کلومیٹر سے زائد پیدل چلنا پڑتا ہے۔ عمران خان ہیرو ہوگا۔ لیکن ابھی تو یہ عذاب بن چکا ہے۔
عمران خان کی گرفتاری کے عمل میں مزاحمت کیلئے آنے والے کارکنوں نے اپنے پنڈالوں میں سردی سے بچنے کیلئے جگہ جگہ الائو جلا رکھے ہیں۔ جہاں ایک جانب چائے بن رہی ہے تو دوسری طرف نہ پہنچنے والوں کی حاضریاں لگائی جارہی ہیں۔ بار بار جنریٹر بند ہونے سے لائٹ کے مسائل بھی ہیں۔ یہاں لگے خیموں میں نہ صرف لاہور، سیالکوٹ سمیت مختلف شہروں کے کارکنان ہیں۔ بلکہ دوسرے صوبوں خاص کر دیر سے بھی کارکنان موجود ہیں۔
ایک کارکن مقداراللہ خان نے بتایا کہ اس کا تعلق دیر سے ہے اور وہ اپنا ’’فرض‘‘ ادا کرنے آیا ہے۔ اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو ڈنڈے سوٹے کا مقابلہ ڈنڈے سوٹے سے کیا جائے گا۔ لیکن گرفتار کرکے لے جانے نہیں دیا جائے گا۔ بھلے خود گرفتار ہوجائیں۔ شاہدرہ کے رہائشی کامران نے بتایا کہ وہ گھر والوں کو بتائے بغیر آیا ہے، کہ وہ شاید یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہاں اچھی بریانی مل رہی ہے۔ چائے کی بھی کمی نہیں۔ داتا دربار میں بھی اتنا لنگر نہیں ملتا جتنا یہاں کھانے کو مل رہا ہے۔
عمران خان کی گرفتاری روکنے کیلئے کیمپوں میں خواتین بھی موجود ہیں اور ان کا مرکزی کیمپ داخلی دروازے کے سامنے ہے۔ یہاں موجود پی ٹی آئی کی جنرل سیکریٹری سعدیہ سہیل رعنا نے بتایا کہ تنظیم کو اشیائے خورونوش فراہم کرنے کی پہلے سے طے شدہ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ لیکن معلوم نہیں کہ کہاں کہاں سے کھانا آرہا ہے؟
اس سوال کے جواب میں کہ عمران خان کو کس مقدمے میں گرفتاری کا خوف یا امکان ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف 36 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ لیکن یہاں موجود لوگ عمران خان کا ہر صورت دفاع کریں گے۔
