الیکشن کمیشن کا فیصل واوڈا کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا امکان


دوہری شہریت رکھنے کے الزام میں اپنی نااہلی سے بچنے کے لیے پچھلے کئی برسوں سے عدالتوں اور الیکشن کمیشن کو مسلسل ماموں بنانے والے تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل واوڈا کے لیے خطرے کی گھنٹیاں تیزی سے بجنا شروع ہوگئی ہیں اور اس بات کا واضح امکان پیدا ہو گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نیا سال شروع ہونے سے پہلے ہی ان کی قسمت کا فیصلہ کر دے گا۔
2 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے عمران خان کے قریبی ساتھی فیصل واوڈا کے خلاف دائر کردہ نااہلی کیس کا جلدی فیصلہ کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے فریقین کو دلائل کے لیے آخری موقع دے دیا۔ کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کی سربراہی میں ہوئی۔ تین رکنی بنچ نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ اب اس کیس کو مزید لٹکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر فیصل واوڈا نے تین رکنی بینچ کے روبرو موقف اپنایا کہ ’میں پانچ جنوری کی تاریخ مانگ رہا ہوں کیونکہ میرے وکیل کے اہل خانہ بیمار ہیں اور وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ ممکن ہے میرے وکیل کو اہل خانہ کے علاج کے لیے باہر بھی جانا پڑے اس لیے اس کیس کو چلانا ممکن نہیں ہوگا۔‘ اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہمیں دو ماہ میں کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا اب ہمیں ہر صورت تمام زیر سماعت مقدمات نمٹا کر اگلے الیکشن کی تیاری کرنی ہے۔‘ فیصل واوڈا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں آج الیکشن کمیشن کے احترام میں خود آیا ہوں، اور مقصد یہی ہے کہ ہم اس کیس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔‘ جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اب آپکے وکیل کے بھی آنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ آئندہ تحریری دلائل بھجوا دیں۔
راجہ سکندر سلطان راجہ نے فیصل واوڈا کے معاون وکیل سے استفسار کیا کہ کیا وہ کیس کی فائل لے کر آئے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کیس فائل سینیئر وکیل کے پاس ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ طے کر کے آئے ہیں کہ کیس کو چلنے نہیں دینا لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کے اب اس کیس کا فیصلہ ہو کر رہے گا۔انہوں نے فیصل واوڈا کو مخاطب کرتے ہوئے کہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقیت ہے کہ آپ رکن اسمبلی بنتے وقت دوہری شہریت کے حامل تھے، آپ نے شہریت چھوڑی ہے تو اس کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کریں۔ اس پر فیصل واوڈا نے بتایا کہ میں پیدا ہی دوہری شہریت کے ساتھ ہوا تھا۔ جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ’ہم اب اس کیس کو مزید التواء کا شکار نہیں ہونے دیں گے، آئندہ سماعت پر اگر کوئی نہ آیا تو ہم فیصلہ محفوظ کر لیں گے۔ یہ وارننگ دینے کے بعد لیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ ماہ پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل واوڈا کی نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کو 60 دن میں فیصلہ سنانے کی ہدایت کی تھی۔ دوسری جانب دہری شہریت کیس کا سامنا کرنے والے فیصل واوڈا نے پاکستان کے نظام انصاف کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے پہلے تو اڑھائی برس تک اپنے خلاف دائر نااہلی کیس میں تاخیری حربے استعمال کئے اور پھر سینیٹر بن کر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ مگر سینیٹر بن جانے کے باوجود دہری شہریت کے معاملے پر غلط بیانی کرنے کی وجہ سے ان کا سینیٹ میں رہنا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب ان کے مستقبل کا فیصلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کرنا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کراچی سے سینیٹر منتخب ہونے والے فیصل واوڈا دوہری شہریت کیس میں قومی اسمبلی سے استعفے دے کر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ہاتھوں نااہلی سے تو بچ گے تھے لیکن عدالت نے ان کے حلف نامے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اس معاملے دو ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ چنانچہ قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن 2018 میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لیے جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بطور نظیر استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان انہیں نااہل قرار دے سکتا ہے جس کے بعد بعد ان کی سینیٹر شپ بھی ختم ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ مشعل خان موت کے منہ سے کیسے واپس آئیں؟
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے 3 مارچ 2021 کے فیصلے میں لکھا تھا کہ بادی النظر میں فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن میں جمع کروایا جانے والا حلف نامہ جھوٹا ہے جس کی انہیں سزا ملے گی۔ واوڈا کے خلاف نااہلی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر کے مستعفی ہونے کے باعث انھیں قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے سنگین نتائج ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں واوڈا کا جمع کرایا گیا بیان حلفی بظاہر جھوٹا ہے اور اس پر الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا۔

Back to top button