امریکا کا منجمد ایرانی اثاثے خلیجی اتحادیوں کو دینے پر غور

 

 

 

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیر نو اور انفراسٹرکچر کی بحالی کےلیے استعمال کرنے پر غور کررہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کے منجمد اثاثے خلیجی اتحادیوں کو فراہم کرے گا جس سے خلیجی ممالک ایران کی جانب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرسکیں گے۔

مبصرین کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کی خلیجی ممالک کو فراہمی سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام نے تجویز دی ہےکہ ایران کے منجمد اثاثوں کو خلیجی ممالک میں ان نقصانات کے ازالے کےلیے استعمال کیاجائے جو مبینہ طور پر ایران کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئے۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اپنے ادارے کو ہدایت دی ہےکہ خطے میں ہونےوالے نقصانات کا تفصیلی تخمینہ لگایاجائے اور مستقبل میں ہونےوالے ممکنہ نقصانات کےلیے بھی مالی ذرائع کا جائزہ لیا جائے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ اس وقت زیرغور آیا ہےجب ایران نے امریکا سے مذاکرات میں اپنی شرائط میں منجمد اثاثوں تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ایرانی حکام کےمطابق کسی بھی ممکنہ معاہدے کےلیے کم از کم 24 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثوں کی واپسی بنیادی شرط ہے۔تہران کا مؤقف ہےکہ یہ رقوم اس کی اپنی ملکیت ہیں اور انہیں غیرمنصفانہ طور پر روکا گیاہے۔

ایران میں ریجیم چینج میں ناکامی پر موساد کا ڈپٹی ڈائریکٹر برطرف

دوسری جانب امریکی حکام نے تاحال اس منصوبے پر باضابطہ اعلان نہیں کیا،تاہم یہ واضح کیاگیا ہےکہ تمام دستیاب قانونی آپشنز زیرغور ہیں۔

 

سفارتی مبصرین کےمطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتاہے تو ایران اور امریکا کے تعلقات ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوسکتے ہیں۔

 

 

 

Back to top button