امریکا اور پاکستان جھگڑالو شادی شدہ جوڑا بننے سے گریز کریں

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن پاکستان کو نظر انداز کرکے ایک سنگین غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ایک جھگڑالو شادی شدہ جوڑے کی طرح برتاؤ کرنے کے بجائے دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوست بننے کی کوشش کریں، جہاں ہو سکے وہاں مل کر کام کریں اور جہاں نہیں کر سکتے وہاں ایمانداری سے اختلاف کریں۔
ایک معروف امریکی جریدے میں اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حسین حقانی نے کہا ہے کہ صدر اوباما کی 2010 کی امریکی قومی سلامتی کی پالیسی میں پاکستان کا 19 بار ذکر کیا گیا تھا، لیکن 15 اکتوبر کو جاری کی گئی بائیڈن انتظامیہ کی حکمت عملی کی دستاویز میں پاکستان کا ایک بار بھی ذکر نہیں جس سے صدر بائیڈن کی پالیسی بارے بہت کچھ عیاں ہوتا ہے۔ سابق سفیر کے مطابق افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ کی پاکستان میں دلچسپی بہت حد تک کم ہو گئی ہے۔ لیکن امریکہ کا یہ طرز عمل نہیں ہونا چاہئے کہ یا تو پاکستان کو بھاری بھر کم سکیورٹی اور اقتصادی امداد دی جائے اور یا پھر اس سے روٹھ کر بالکل ہی لاتعلق ہو جائیں۔ انکا کہنا ہے کہ باہمی مفادات پر مبنی معمول کے تعلقات کو برقرار رکھنا زیادہ بامقصد ہوگا۔ حسین حقانی نے امریکہ کو پاکستان کے ساتھ زمینی حقائق کے مطابق تعلقات برقرار رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
پاکستان امریکہ تعلقات کی تاریخ سب کو معلوم ہے۔ دونوں ممالک نے 1950 کی دہائی میں تعلقات کا آغاز اتحادیوں کے طور پر کیا تھا مگر کچھ دہائی میں انہیں رقابت والے دوست قرار دیا جانے لگا تھا۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں طالبان کی حمایت اور اس کی سرزمین پر بڑی تعداد میں جہادی عسکریت پسندوں کی موجودگی کی وجہ سے پہلے والی گرمجوشی کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے وہاں سے ملنے اور مارے جانے کے بعد امریکی 2011 سے پاکستان سے خاصے ناراض ہیں۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا موقف رہا ہے کہ وہ صرف اپنی قیادت کی سوچ کے مطابق وہی کام کرتی ہے جسے وہ قومی مفاد سمجھے اور بعض اوقات سوچ کے فرق کے باعث امریکہ کے ساتھ اختلاف رائے ہو جاتاہے۔ لیکن حسین حقانی کا کہنا ہے پاکستان کو نظر انداز کرنا یا تنہا کرنے کی کوشش کرنا کوئی سمجھ داری کا کام نہیں ہے۔ امریکہ بہت سے ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتا ہے جن سے وہ متفق نہیں ہوتا۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ وہ پاکستان سے مختلف برتاؤ کیوں کر رہا ہے؟
امریکہ میں لمبے عرصے سے مقیم سابق پاکستانی سفیر کے بقول چند سالوں کے وقفے کے بعد، پاکستان اور امریکہ نے دوبارہ بات چیت شروع کی ہے، حالانکہ بائیڈن انتظامیہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اب امریکی عالمی منصوبوں میں اہمیت کا حامل نہیں رہا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نےسیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن سے ملاقات کی۔ یہ ملاقاتیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کو اس کی تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور جوہری ہتھیاروں سے لیس واحد مسلم اکثریتی ملک ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ اس سے پہلے 1990 کی دہائی میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے باعث اسے چھوڑ کر چلے جانے کی پالیسی اپنا کر دیکھ چکا ہے۔ اس حکمت عملی کے نتائج امریکی مفادات کے لیے ٹھیک نہیں نکلے کیونکہ اس سے پاکستانی معاشرے میں صرف انتہا پسند عناصر کو ہی تقویت ملی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سرد جنگ کے دور کے مسائل جو پاکستان اور امریکہ کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنے کا باعث بنے تھے اب ان کا وجود نہیں رہا۔ پاکستان چین کو اپنا ”آہنی بھائی” تصور کرتا ہے لیکن امریکہ اور ہندوستان اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان افغان طالبان جیسے بنیاد پرست گروہوں کی حمایت کرتا ہے جبکہ امریکیوں کی ترجیح وہاں کے سیکولر گروپس ہیں۔
حسین حقانی کہتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے پاس اپنے اپنے تجربات کی بنیاد پر اپنے اپنے موقف ہیں۔ دونوں ممالک مختلف دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں مصروف تھے جبکہ اپنی شراکت داری سے وابستہ دونوں کی توقعات بھی مختلف تھیں۔ لہذا جھگڑالو شادی شدہ جوڑے کی طرح برتاؤ کرنے کے بجائے دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوست بننے کی کوشش کریں، جہاں ہو سکے وہاں مل کر کام کریں اور جہاں نہیں کر سکتے وہاں ایمانداری سے اختلاف کریں۔ انکا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی کے اس دور میں چین اور پاکستان کے قریبی تعلقات کی وجہ سے امریکہ کو پاکستان پر توجہ کم کرنے کی بجائے زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ درحقیقت، بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان متنازعہ جموں و کشمیر کے علاقے میں مسلم عسکریت پسندوں کی حمایت بند کرے، لہذا اسے بھی اس کوشش میں امریکہ کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر اپنی خود مختاری سے فیصلے کرے اور اسے مجبوراً چین کا کاسہ لیس نہ بننا پڑے۔
حقانی کہتے ہیں کہ سرد جنگ کے دور میں سکیورٹی پارٹنرشپ کے طور پر شروع ہونے والے پاک امریکہ تعلقات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی سے ہٹ کر دوسرے شعبوں میں حقیقی معنوں میں کبھی وسعت نہیں آئی۔ اب سرد جنگ کے دور کی طرح پاکستان کو مختلف قسم کی بڑے پیمانے پر فوجی امداد ملنے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رہ سکتا ہے اور دوسرے شعبوں میں تعلقات بڑھ سکتے ہیں۔ سفارت کاری کا نچوڑ یہ ہے کہ دوسرے کے مفادات کو سمجھیں اور پھر باہمی دلچسپی کے شعبوں پر کام کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان کاامریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی حجم چھ اعشاریہ چھ ارب ڈالر ہے جو انتہائی کم ہے۔ تجارتی تعلقات کی توسیع کا انحصار پاکستان میں معاشی اصلاحات پر ہے اور یہ کام دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو کرنا چاہیے۔ لیکن امریکی حکومت پاکستانی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی، امریکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تکنیکی مہارت کی پیشکش میں مدد کر سکتی ہے۔ اسی طرح توانائی، موسمیاتی تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی تعاون کے امکانات ہیں۔ اس لیے امریکہ اور پاکستان دونوں کو اپنے تعلقات میں پیدا ہونے والی خرابی کو دور کرنا چاہیے۔
