امریکہ اور پاکستان میں مثبت بات جیت جاری ہے

نیشنل سیفٹی کنسلٹنٹ معید یوسف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان دوطرفہ تعلقات میں عدم اعتماد کو دور کرنے کے لیے مثبت بات چیت میں حصہ لیتے ہیں۔ دو دن پہلے امریکہ نے کہا کہ پاکستان ہمیں اب بھی فضائی رسائی دیتا ہے اور ہم اس حوالے سے بات کرتے ہیں۔

ایک انٹرویو میں معید یوسف کا کہنا تھا کہ امریکہ اور پاکستان اس بارے میں تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے گزشتہ دنوں دورہ پاکستان میں‌ اسلام آباد کو بتایا کہ امریکہ تعلقات کو مثبت راستے پر لانے کے لیے کوشش کر رہا ہے ۔

ایڈوائزر سیفٹی نے کہا کہ دونوں ممالک مربوط ہیں اور کوئی بڑا بحران نہیں ہے۔ کئی سابق امریکی اہلکاروں کی طرف سے ان الزامات کو مسترد کر دیا گیا جو طالبان کے کابل میں آنے سے پاکستانی جوہری ہتھیاروں کیخلاف اٹھے۔

انہوں نے کہا کہ خدا کے فضل سے پاکستانی ایٹمی ہتھیار ہمیشہ سے محفوظ ہیں اور ہمیشہ محفوظ رہیں گے تاہم بہت سے امریکی حکام نے نجی ویب سائٹ کو انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کے انخلاء سے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کے لیے کوئی سیاسی منظر نہیں دیکھا گیا اور واشنگٹن نے اسلام آباد کو انسدادِ دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے قبول کیا ہے۔

سابق وزیر دفاع اور لیون پنیٹا نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ پیچیدہ رہے ہیں ، سابق صدر براک اوباما کے دور میں سابق سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لائن پنیٹا نے کہا تاہم پاکستان پر بھارت کے خلاف دہشت گرد گروپوں کے ساتھ تعلقات کو ذخیرہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان طالبان اور حاجی نیٹ ورک کے قریب تھا جس سے دونوں ملکوں میں اعتماد کا فقدان لایا گیا ہے؟

Back to top button