بھارت اچانک پاکستان کو دھمکیاں کیوں دینے لگا؟

جنوبی ایشیا ایک بار پھر شدید سفارتی اور عسکری کشیدگی کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں بھارت اور پاکستان کے درمیان بیانات کی جنگ نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ انڈین آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی کے ایک حالیہ بیان، جس میں پاکستان کے مستقبل اور جغرافیائی وجود سے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے گئے، کے بعد خطے میں تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔پاک فوج نے اس بیان پر فوری اور سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے نہ صرف “جنگی جنون” بلکہ “علمی دیوالیہ پن” قرار دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کسی خود مختار اور جوہری صلاحیت رکھنے والے ملک کو جغرافیے سے مٹانے کی بات کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، جو خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
خیال رہے کہ انڈین فوج کے سالانہ سول و ملٹری مباحثے “سینا سمواد 2026” کے دوران آرمی چیف سے سوال کیا گیا کہ اگر پاکستان کسی مبینہ کارروائی میں ملوث ہوا تو بھارت کا ردعمل کیا ہوگا۔ اس پر جنرل اُپندر دویدی نے کہا کہ اگر پاکستان دہشت گردی کی حمایت جاری رکھتا ہے تو اسے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیے اور تاریخ کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ان کے اس بیان کو پاکستان میں براہ راست “ریاستی وجود کو چیلنج” کے طور پر دیکھا گیا، جس کے بعد سرکاری سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی جوہری ریاست کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دینا انتہائی خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر اس نوعیت کی بات کی جائے تو اس کے نتائج بھی دو طرفہ ہوں گے، کیونکہ ایک جوہری تصادم کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہ سکتا۔پاکستان فوج نے مزید کہا کہ پاکستان نہ صرف ایک تسلیم شدہ خود مختار ریاست ہے بلکہ عالمی جغرافیے اور تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید حصہ بھی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کی قیادت کئی دہائیوں کے باوجود پاکستان کے وجود اور حقیقت کو قبول کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے خطے میں بار بار بحران جنم لیتے ہیں۔
یہ تازہ بیان بازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپیں اور سرحدی کشیدگیاں پہلے ہی تعلقات کو انتہائی نازک بنا چکی ہیں۔ ایک سال کے دوران دونوں جانب سے فوجی کامیابیوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، جن میں فضائی جھڑپیں اور میزائل حملوں جیسے سنگین واقعات بھی شامل رہے ہیں۔گذشتہ بڑے تصادم کے بعد دونوں ممالک بار بار ایک دوسرے پر دہشت گردی اور جارحیت کے الزامات لگاتے رہے ہیں، جبکہ سرکاری سطح پر یہ دعویٰ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی تصادم کے لیے مکمل تیاری موجود ہے۔
رپورٹس کے مطابق پچھلے بڑے تنازع کے دوران بھارت نے “آپریشن سندور” کے نام سے کارروائی کا دعویٰ کیا تھا، جس میں اس نے پاکستان کے اندر مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی بات کی تھی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ شدید لڑائی بھی رپورٹ کی گئی تھی، جس میں فضائی جھڑپیں اور تنصیبات پر حملوں کے دعوے سامنے آئے تھے۔پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے اکثر بیانات اور کارروائیاں سیاسی اور داخلی دباؤ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی فوجی یا سیاسی قیادت کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہوں۔ حالیہ مہینوں میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور دیگر حکام بھی پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں، جن میں مستقبل میں مزید کارروائیوں کے اشارے بھی شامل ہیں۔اس کے برعکس پاکستان بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ وہ امن اور استحکام چاہتا ہے، تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے بیانات نہ صرف سفارتی تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی کشیدگی کو بڑھاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے پاس جوہری صلاحیت موجود ہونے کے باعث ہر لفظ اور ہر بیان خطے کے امن کے لیے حساسیت رکھتا ہے۔اگر یہ بیانات عملی تصادم میں تبدیل ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا جنوبی ایشیا ایک بڑے بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔موجودہ صورتحال ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات انتہائی نازک موڑ پر ہیں۔ ایک طرف سخت بیانات اور عسکری بیانیہ ہے، تو دوسری طرف امن اور استحکام کی اپیلیں۔ لیکن دونوں ممالک کے بیانات یہ واضح کرتے ہیں کہ اعتماد کا فقدان بدستور ایک بڑا مسئلہ ہے، اور یہی صورتحال خطے کو بار بار خطرے کی طرف دھکیل رہی ہے۔
