ایران، امریکہ اور اسرائیل آمنے سامنے: مشرقِ وسطیٰ جنگ کے دہانے پر

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے نازک اور خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سفارتی کوششیں، جنگی تیاریوں اور سخت بیانات کے درمیان توازن بگڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی اطلاعات، ایران کی سخت جوابی دھمکیاں، اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا غیر اعلانیہ دورۂ ایران مل کر ایک بڑے علاقائی بحران کے خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔

امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دو نامعلوم مشرقِ وسطیٰ کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تیاریاں جنگ بندی کے بعد اب تک کی سب سے وسیع عسکری سرگرمیاں ہیں اور اگر فیصلہ ہوا تو ممکنہ حملے آئندہ ہفتوں میں شروع ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت مزید حساس ہو جاتی ہے جب یاد رکھا جائے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پاکستان کی ثالثی سے 8 اپریل کو طے پائی تھی، جس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات بھی ہوئے تھے، تاہم وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

اسی تناظر میں ایران کی جانب سے بھی سخت اور واضح پیغامات سامنے آئے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ گزشتہ جنگ کے دوران ایران نے خلیجی خطے میں موجود امریکی اڈوں پر محدود ردعمل دیا تھا، لیکن اگر دوبارہ حملہ ہوا تو اس بار ایسا ضبط برقرار نہیں رہے گا۔ انہوں نے خلیجی ممالک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ریاستوں نے اپنی آزادی سمجھوتوں کے بدلے قربان کر دی ہے اور دشمن طاقتوں کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ اسی طرح ایران کے سرکاری عسکری ذرائع نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ حملہ ہوا تو وہ تمام اہداف بھی نشانے پر ہوں گے جو گزشتہ 40 روزہ جنگ میں مختلف وجوہات کی بنا پر چھوڑ دیے گئے تھے۔

دوسری جانب امریکہ کی عسکری پالیسیوں سے متعلق بھی اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ امریکی وزیرِ دفاع نے کانگریس کو بتایا ہے کہ پینٹاگون کے پاس مختلف صورتحال کے لیے مکمل منصوبے موجود ہیں، جن میں جنگ دوبارہ شروع کرنا، خطے سے فوجی انخلا یا محدود کارروائیاں شامل ہیں۔ اسی دوران رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے زیرِ غور دو بڑے آپشنز ہیں: ایک ایران کے فوجی ٹھکانوں اور بنیادی ڈھانچے پر شدید فضائی بمباری، جبکہ دوسرا زمینی آپریشن جس کا مقصد ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ہٹانا ہو سکتا ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ حالیہ بمباری کے بعد ملبے تلے دب گئے ہیں۔

اس پورے منظرنامے کو مزید شدت اس وقت ملی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو بھی انتہائی نازک قرار دیا، جس کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہر ممکن جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور “ہم انہیں حیران کر دیں گے”۔

اسی دوران آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے سمندری راستے پر کنٹرول سخت کیے جانے سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس کی تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کی بندش عالمی منڈیوں میں شدید بحران پیدا کر سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یورپی ممالک سمیت کئی ریاستیں ایران کے ساتھ اس راستے سے اپنے بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے مذاکرات کر رہی ہیں۔

ان تمام پیش رفتوں کے درمیان پاکستان کا سفارتی کردار بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا اچانک تہران پہنچنا اور ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کرنا ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان امن، علاقائی استحکام اور جاری کشیدگی پر گفتگو ہوئی۔ ایران نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد خطے میں امن کے لیے مثبت کوششیں کر رہا ہے، جبکہ ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو بھی اہم اور سنجیدہ قرار دیا۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان اس سے قبل بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے، اور اسلام آباد میں اعلیٰ سطح مذاکرات کی میزبانی بھی کی گئی تھی، تاہم وہ کوششیں کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ اب ایک بار پھر جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں دوبارہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صورتحال اس وقت ایک ایسے نازک توازن پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف جنگی تیاریوں اور سخت بیانات کا دباؤ ہے، اور دوسری طرف محدود مگر جاری سفارتی کوششیں۔ اگر یہ کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو اس کے اثرات صرف ایران یا امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔


Back to top button