پنکی ڈان کے نیٹ ورک میں شامل 30 سیاستدان کون؟

ملک بھر میں سنسنی پھیلانے والے انمول عرف پنکی کیس نے اب ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ کراچی سے لاہور تک پھیلے مبینہ کوکین نیٹ ورک، سیاستدانوں کے نام، ہائی پروفائل گاہک، خفیہ ترسیلی نظام اور اربوں روپے کے مبینہ منشیات کاروبار نے اس کیس کو پاکستان کے حساس ترین جرائم میں شامل کر دیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق انمول عرف پنکی کے مبینہ نیٹ ورک کے خریداروں میں تقریباً 30 سیاستدانوں کے نام سامنے آئے ہیں، جبکہ سندھ حکومت کو پیش کی گئی خفیہ رپورٹ میں کئی اہم شخصیات، نیٹ ورک آپریٹرز اور ترسیلی چین کی تفصیلات شامل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پنجاب میں بھی مبینہ ساتھیوں کے خلاف آپریشن شروع ہو چکا ہے، جبکہ پولیس اور تحقیقاتی ادارے مالیاتی ریکارڈ، بینک اکاؤنٹس اور منشیات کی سپلائی چین کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔ اس کیس نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بین الصوبائی منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کیس میں حیران کن انکشافات سامنے آ رہے ہیں، جنہوں نے سیاسی، سماجی اور قانون نافذ کرنے والے حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔رپورٹس کے مطابق انمول پنکی کے مبینہ ہائی پروفائل کوکین نیٹ ورک کے خریداروں میں تقریباً 30 سیاستدانوں کے نام بھی شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ تفصیلات ایک خفیہ تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آئیں جو مراد علی شاہ اور ضیا لنجار کو پیش کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کے وی آئی پی حلقوں میں مہنگی ترین منشیات کی سپلائی ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے کی جا رہی تھی۔تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ انمول پنکی اپنے بھائی شوکت کے ذریعے کراچی میں مبینہ کوکین نیٹ ورک چلا رہی تھی، جبکہ نیٹ ورک کے مرکزی ہینڈلرز میں حمزہ، عداس اور عاقب نامی افراد شامل تھے۔رپورٹس کے مطابق لاہور، فیصل آباد اور وہاڑی سے تعلق رکھنے والے متعدد رائیڈرز کراچی میں اس نیٹ ورک کیلئے سرگرم تھے، جبکہ صبا اور انعم عرف اینا نامی خواتین مبینہ طور پر بطور کیریئر استعمال کی جاتی تھیں۔
اسی دوران لاہور میں بھی انمول پنکی کی سرگرمیوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ گزشتہ دس ماہ سے لاہور کے علاقے رائیونڈ روڈ کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں مقیم تھی، جہاں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر منشیات نیٹ ورک آپریٹ کیا جا رہا تھا۔محلہ داروں کے مطابق اس گھر پر بڑی گاڑیوں میں آنے جانے والے افراد کی غیر معمولی نقل و حرکت رہتی تھی، جبکہ بعض طلبہ اور خواتین کی آمدورفت بھی دیکھی جاتی تھی۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انمول پنکی نے خود کو ایک نیک اور سماجی خاتون کے طور پر پیش کیا، حتیٰ کہ رمضان میں راشن تقسیم کرنے جیسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ منشیات کی ترسیل انتہائی منظم اور خفیہ انداز میں کی جاتی تھی۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر پہلے سے منشیات رکھ دی جاتی تھی اور ادائیگی موصول ہونے کے چند منٹ بعد خریدار کو لوکیشن اور تصاویر بھیج دی جاتی تھیں۔
خیال رہے کہ کراچی میں پنکی کیس کے حوالے سے اعلیٰ افسران کی ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جس کا پہلا اجلاس آزاد خان کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منشیات استعمال کرنے والے بعض افراد کو مقدمات میں بطور گواہ شامل کیا جا سکتا ہے۔اجلاس میں ایف آئی اے اور اے این ایف سمیت دیگر اداروں سے بھی تعاون حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ پنکی کارٹیل کے بینک اکاؤنٹس اور مالیاتی لین دین کی باریک بینی سے جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں بھی مبینہ ساتھیوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کراچی پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست پنجاب پولیس کو بھی دے دی گئی ہے، جس کے بعد لاہور سمیت مختلف شہروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی کے خلاف پہلے سے متعدد مقدمات درج تھے، تاہم ماضی میں اسے کسی کیس میں گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس پہلو نے پنجاب پولیس اور دیگر اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تحقیقات واقعی غیر جانبدارانہ انداز میں آگے بڑھتی ہیں تو یہ کیس پاکستان کے طاقتور حلقوں، مالیاتی روابط اور جرائم کے نیٹ ورکس سے متعلق کئی اہم حقائق بے نقاب کر سکتا ہے۔
