ٹرمپ ایران پر نئے حملے کیلئے تیار،نجم سیٹھی کا بڑا انکشاف

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ نئے فوجی اقدام، ایران پر دباؤ، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں نے خطے میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف “ایک اور راؤنڈ” کی مکمل تیاری کر چکا ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ دورۂ ایران بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا اور ممکنہ جنگ کو روکنا ہے۔

خیال رہے کہ سینئر صحافی نجم سیٹھی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنتی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان خطے میں ثالثی کے کردار کو مزید فعال بنانے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دے رہا ہے۔سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ایک نئے فوجی مرحلے کی تیاری مکمل کر چکا ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ٹی وی پروگرام “آج کی بات سیٹھی کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک اور بڑا اقدام کریں گے، اور اب بین الاقوامی میڈیا خصوصاً نیویارک ٹائمز میں بھی اسی نوعیت کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق اگلے ہفتے ایران کے خلاف “نیا راؤنڈ” شروع ہو سکتا ہے، جو دراصل اسرائیل کی خواہش بھی ہے تاکہ امریکہ اس تنازع کو اپنے حق میں مکمل کر سکے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر یہ مؤقف اختیار کرنا چاہتے ہیں کہ ایران کی باقی ماندہ عسکری اور جوہری صلاحیت کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، جس کے بعد خطے کے معاملات خلیجی ممالک خود سنبھالیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ دورۂ تہران اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایران کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگر تہران چند شرائط مان لے تو جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔

نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کی منتقلی جیسے معاملات پر پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایک ممکنہ فارمولا یہ ہو سکتا ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم روس کے پاس منتقل کر دے اور آئندہ 15 سے 20 برس تک جوہری سرگرمیوں سے متعلق بین الاقوامی یقین دہانی کرائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان نکات پر کسی حد تک اتفاق ہو جاتا ہے تو مستقبل میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں بھی ہو سکتا ہے۔

سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان اس وقت خطے میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں شہباز شریف، عاصم منیر اور محسن نقوی کی سرگرمیوں کو اسی وسیع سفارتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ایران امریکی شرائط کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے تو خطے میں دوبارہ فوجی کارروائیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور جنوبی ایشیا کی سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تجارت کیلئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ چند ہفتے خطے کی سیاست کیلئے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں سفارتکاری اور طاقت کی سیاست ایک بار پھر آمنے سامنے نظر آ رہی ہے۔

Back to top button