امریکہ: سیاہ فام شخص کی ہلاکت، 10 ہزار مظاہرین گرفتار

امریکا میں پولیس کے ہاتھوں غیر مسلح سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد جاری پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں تقریباً 10 ہزار افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں لاس اینجلس اور نیویارک سمیت متعدد امریکی شہروں میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے گزشتہ ہفتے منی سوٹا میں سیاہ فام 46 سالہ شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔
علاوہ ازیں امریکا کی متعدد ریاستوں میں پھیل جانے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے شہریوں کو مقامی دہشت گرد سے تعبیر کرتے ہوئے ان پر لوٹ مار کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایک تاریخی چرچ جانے والے مذہبی رہنماؤں اور مظاہرین پر غم و غصہ اظہار کیا تھا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جارج فلائیڈ کی موت میں ملوث چاروں پولیس افسران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔
واضح رہے کہ ابھی تک صرف ایک سفید فام پولیس افسر ڈیریک چووین کے خلاف تھرڈ ڈگری مرڈر کا مقدمہ درج کیا گیا۔
ڈیریک چووین نے ہی جارج فلائیڈ کی گردن پر پوری طاقت سے 9 منٹ تک گھٹنا ٹکائے رکھا تھا جس سے سیاہ فام شخص کی موت واقع ہوئی۔
پولیس کی جانب سے مظاہرین کی کوریج کے لیے موجود صحافیوں کو پولیس کی جانب سے تشدد کا سامنا ہے۔اس سے قبل امریکی انتظامیہ نے واشنگٹن، لاس ایجنلس اور ہیوسٹن سمیت دیگر شہروں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا تھا لیکن مظاہرین نے کرفیو کو مسترد کردیا۔
دوسری جانب پوپ فرانسس نے امریکا میں بدامنی پر اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ’نسل پرستی سے اپنی نظریں نہیں چرا سکتا‘۔انہوں نے کہا کہ ’لیکن تشدد صرف اپنی تباہی اور شکست کا باعث بنے گا‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button