امریکہ مخالف عمران اب منت ترلوں پر کیوں اتر آیا؟

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے گزشتہ برس اُن کی حکومت گرانے کا الزام امریکہ پر عائد کرنے اور پھر حالیہ عرصے میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے بیانیے کے بعد امریکی قانون سازوں کے ساتھ اُن کے رابطوں اور حصول اقتدار کیلئے منتوں ترلوں میں تیزی آگئی ہے۔

ان رابطوں میں تیزی ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان میں حکمراں اتحاد تحریکِ انصاف پر یہ الزام عائد کر رہا ہے کہ امریکہ کو اپنی حکومت گرانے کا ذمے دار سمجھنے والے عمران خان اب امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔

امریکی کانگریس کے رُکن بریڈ شرمین نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے اُن سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف نہیں ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنی حکومت گرانے کا الزام امریکہ پر عائد کیا تھا، حالاں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سچ نہیں ہے۔ کیوں کہ کانگریس کی مختلف سماعتوں کے دوران بھی ایسا کوئی شائبہ نہیں ملا کہ امریکہ نے اس حوالے سے کوئی کردار ادا کیا تھا۔

تحریکِ انصاف کا مؤقف ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ، کانگریس اور میڈیا تک صرف یہ بات پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل فوری طور پر آزاد اور منصفانہ انتخابات میں ہے۔

حالیہ دنوں میں یہ خبریں زور پکڑ رہی ہیں کہ تحریک انصاف امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کر رہی ہے اور اس مد میں لاکھوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں۔

پی ٹی آئی امریکہ کے ترجمان سجاد برکی امریکی حکام، قانون سازوں اور میڈیا کے ساتھ رابطوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ "ہمارے رابطے اس لیے نہیں ہیں اُنہوں نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک برس قبل یہ کاوشیں شروع کی تھیں کیونکہ ایسا لگ رہا تھا کہ امریکی انتظامیہ بھی اچانک پاکستان میں ‘رجیم چینج’ بیانیے پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ لہذٰا یہ کوشش شروع ہوئی کہ امریکی قانون سازوں کو پاکستان کے حالات سے درست آگاہی دی جائے۔

اُن کے بقول جب بائیڈن انتظامیہ آئی تو ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے حوالے سے اس کی پالیسی میں کچھ سرد مہری ہے جس کا سبب بہت سی غلط فہمیاں بھی تھیں جو سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے پیدا کی تھیں۔

حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں عمران خان نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ جنرل باجوہ نے مبینہ طور پر امریکہ کو یہ باور کرایا تھا کہ عمران خان امریکہ مخالف ہیں۔عمران خان نے اسی انٹرویو میں امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔ اس انٹرویو کو پاکستان میں حکمراں جماعت نے عمران خان کا ‘یو ٹرن’ قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ایک برس سے جاری سیاسی عدم استحکام کے دوران امریکی حکام کا یہ مؤقف رہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا بلکہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی پر زور دیتا ہے۔امریکی محکمۂ خارجہ نے سابق وزیرِ اعظم کی جانب سے امریکہ پر لگائے جانے والے الزامات کی بھی تردید کی تھی۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے مقامی رہنما ڈاکٹر آصف محمود بھی جاوید برکی جیسے خیالات رکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کا پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ان کو ساری فکر پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی ہے۔

ڈاکٹر آصف محمود کے بقول کیونکہ عمران خان کی پاکستان میں مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اُنہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اُن پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور درجنوں مقدمات کرائے گئے۔وہ کہتے ہیں کہ یہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے امریکہ میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا اور امریکی قانون سازوں کے عمران خان کے ساتھ رابطے کرائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک ماہ کے دوران چار ڈیمو کریٹس اراکینِ کانگریس سے رابطے کیے تھے۔ ان میں بریڈ شرمین، مائیک لیون، ٹیڈ لیو اور ایرک سوالویل بھی شامل ہیں۔ڈاکٹر آصف محمود کہتے ہیں کہ ان چاروں اراکینِ کانگریس سے عمران خان کے رابطے انہی کے ذریعے ہوئے۔اُن کے بقول یہ تمام اراکینِ کانگریس انسانی حقوق اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کرتے ہیں اور امریکہ میں اچھی ساکھ کے حامل ہیں۔ ان سے روابط کا مقصد عمران خان کو حوصلہ دینا تھا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کی فکر ہے۔

اس سوال پر کہ کیا ان اراکینِ کانگریس کے عمران خان سے رابطے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہیں؟ ڈاکٹر آصف محمود کا کہنا تھا کہ امریکہ دنیا بھر میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کرتا ہے، لہذٰا جہاں بھی جمہوریت خطرے میں ہوتی ہے۔ امریکہ ان ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں بلکہ جمہوریت کی مضبوطی کی وکالت کرتا ہے۔

اس سے قبل متنازع ماضی کے حامل افغانستان میں امریکہ کے سابق ایلچی زلمے خلیل زاد کی عمران خان کی حمایت میں ٹوئٹس بھی سامنے آئی تھیں۔کچھ عرصہ قبل سے انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حمایت میں تسلسل کے ساتھ بیانات دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس پر پاکستان کی وزارت خارجہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کے بیانات کو پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا اور زلمے خلیل زاد کی حیثیت اور بیانات کو غیراہم قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کی حکومت کو ان کی تجاویز کی ضرورت نہیں پاکستان کیلئے کیا بہتر ہے یہ پاکستان کی حکومت خوب سمجھتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان اور ملک کی کم وبیش تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی ان کی حیثیت اور بیانات کو غیراہم قرار دیا تھا۔

زلمے خلیل زاد جن کے بارے میں پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ان کے بیانات کے تناظر میں یہ تاثر خاصا گہرا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حمایت میں پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ عمران خان نے گزشتہ برس تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اپنی حکومت کے خاتمے کی ذمے داری امریکہ پر عائد کی تھی۔ سابق وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ امریکی حکام نے واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفیر کو تنبیہ کی تھی کہ اگر عمران خان کو نہ ہٹایا گیا تو پھر پاکستان کے لیے مشکلات ہوں گی۔عمران خان نے تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی سے قبل گزشتہ برس مارچ میں اسلام آباد میں ایک جلسے کے دوران مبینہ طور پر ایک سائفر بھی لہرایا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ امریکہ نے اُن کی حکومت گرانے کے لیے پاکستانی سیاست دانوں کو استعمال کیا اور اس ضمن میں رقم بھی خرچ کی گئی ۔

عمران خان نے اس کے بعد کئی ماہ تک یہی بیانیہ دہرایا تھا، تاہم حالیہ عرصے میں اپنے اس مؤقف میں تبدیلی لاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔واشنگٹن نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت کے الزامات کو متعدد بارمسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔

Back to top button