تحریک انصاف نے مذاکرات کے بدلے حکومت سے این آر او مانگ لیا

ملک میں پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان حالیہ بحران سے پیدا ہونیوالی کشیدگی اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے مختلف جماعتوں نے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔تاہم تحریک انصاف کے ماضی کے یوٹرنز اور بے بنیاد الزام تراشیوں کی وجہ سے پیداہونے والی بداعتمادی میں حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کو سنجیدہ مذاکرات کیلئے میز پر بٹھانا جوئے شیر لانے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ تحریک انصاف نے مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے پی ٹی آئی قیادت کیخلاف درج مقدمات کی واپسی، پابند سلاسل عمرانڈوز کی رہائی، فوری انتخابات کے انعقاد سمیت ایسی شرائط رکھ دی ہیں جس کے بعد مذاکرات کی کامیابی نا ممکن دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف بنیادی طور پر حکومت سے این آر او مانگ رہی ہے یعنی اسے این آر او دیا جائے گا تو وہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنے گی ورنہ وہ ماضی کی طرح اپنی انتشاری سیاست جاری رکھے گی۔

روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی رابطوں کے آغاز اور ابتدائی مشاورت میں مرکزی قائدین کی ملاقاتوں کا ماحول بنانے پر اتفاق ہوا، وفاقی دارالحکومت میں پیر کو مختلف سیاستدانوں کے درمیان اس حوالے سے رابطوں میں کی جانے والی ابتدائی مشاورت میں مرکزی قائدین کے درمیان رابطوں کیلئے ماحول بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور فریقین کے درمیان اتفاق رائے ہوا کہ ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال اور بالخصوص سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے درمیان کشیدگی اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کوئی مشترکہ اور متفقہ حکمت عملی وضع کریں۔

ان رابطوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی پر مشاورت کی، وفد کی قیادت سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کر رہے ہیں وفد میں نوید قمر اور قمر زمان کائرہ بھی شامل ہیں۔

ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کی قیادت کی دور اندیشی کی مکمل حمایت کرتے ہیں، پارلیمانی جمہوریت میں کسی بھی بحران سے نمٹنے کیلئے ڈائیلاگ ہی واحد راستہ ہے، اس وقت ضد کی سیاست ،انا پرستی اور نفرت پر مبنی سیاست نے ملک کو بحرانی کیفیت سے دوچار کررکھا ہے۔ جبکہ یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ میں تصادم نہیں ہونا چاہیے تھا، اداروں میں باہمی رسہ کشی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں کبھی بھی مذاکرات سے نہیں بھاگتیں، سیاستدان پل بناتے ہیں وہ دیواریں نہیں کھڑی کرتے، اس وقت حالات بہت زیادہ گھمبیر ہیں ، موجودہ حالات میں عوام بہت دکھی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ہمیشہ میثاق جمہوریت پر کاربند رہیں اور اسی کی بدولت میں بعد میں آنے والی حکومتوں میں اختیارات کی منتقلی کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا ، ہم ڈائیلاگ کا راستہ ختم نہیں کرنا چاہتے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم نے مل کر جمہوریت کیلئے پہلے بھی میثاق جمہوریت کے ذریعے ملک کو مشکلات سے نکالا ،ہم نے اتفاق کیا ہے کہ آئین ،جمہوریت ، اور ملک کے استحکام کیلئے ہر ممکن اقدام کیلئے تیار ہیں ، سیاستدان کے پاس مذاکرات ہی واحد ہتھیار ہوتا ہے ، ہم اس وقت تک صرف اپنے اتحادی دوستوں کے پاس ہیں، باہمی مشاورت کے بعد دیگر جماعتوں سے بھی مذاکرات کیے جائیں گے ۔

دریں اثنا عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں سے ملاقات میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عوام سیاسی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے اتحادیوں سے بات چیت شروع کی ہے تاکہ مذاکرات کا ماحول بنائیں، ہمارے ہاں روایت ہے کہ قتل بھی ہوجائیں تو مذاکرات پر بیٹھنا پڑتا ہے، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے بحران میں اپنا کردار ادا کریں، ہم نے دہشتگردی کیخلاف ملکر کام کیا تھا لوگ بد دل اور پریشان ہیں سیاسی استحکام سے معاشی استحکام آئیگا معاشی ترقی کیلئے مذاکرات بہترین طریقہ ہے۔

اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ آل پارٹی کانفرنس تین مئی کو ہورہی ہے، تمام سیاسی پارٹیوں کودعوت دینگے، پیپلزپارٹی تحریک انصاف کو آل پارٹی کانفرنس شرکت کی دعوت دیگی، ہمیں پارلیمنٹ کی طاقت کو آشکار کرنا ہے۔۔مذاکرات کے ذریعے ہمیشہ سے بڑے سےبڑے مسائل کا حل نکلتا ہے،  ہر قسم کے مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔

دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے اسلام آباد میں رہنما مسلم لیگ (ق) طارق بشیر چیمہ سے ملاقات کرکے ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تمام ادارے اپنے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں گے تو تصادم نہیں ہوگا۔اس موقع پر طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت کو پیپلز پارٹی کا پیغام پہنچاؤں گا، مذاکرات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے مذاکرات کس کے ساتھ کرنے ہیں؟ کیا اگلی پارٹی مذاکرات میں سنجیدہ ہے؟

تاہم دوسری طرف حسب روایت پی ٹی آئی نے حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے مذاکرات کی کوششوں کو ہی غیر سنجیدہ قرار دے دیا ہے۔ جس کے بعد سیاسی جماعتوں کے مابین مفاہمت کیلئگ ہونے والی کوششوں کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے مذاکرات کے معاملے پر حکومت کو غیر سنجیدہ قرار دے دیا۔ایک بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف مذاکرات کے معاملے پر یکسو ہے، حکومت کی جانب سے مذاکرات پر کوئی سنجیدگی نہیں۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف آئین اور سپریم کورٹ کی مقررکردہ حدود میں ہو سکتے ہیں۔

Back to top button