امریکہ کو طالبان کے ہاتھوں شکست کتنے ارب میں پڑی؟

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امریکہ نے افغان طالبان کے خلاف 20 برس تک لڑی جانے والی جنگ کے بھاری ترین اخراجات قرض کی رقم سے پورے کیے جو دو کھرب ڈالرز بنتے ہیں۔ لیکن 2050 تک اس قرض کی رقم پر سود کی مد میں امریکی حکومت مزید6کھرب ڈالر سے زائد ادا کرے گی۔ یوں امریکہ کو افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑی گئی جنگ 8 ارب ڈالرز میں پڑے گی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے افغانستان میں جنگ کے دوران خرچ ہونے والی رقم کا بیشتر حصہ قرض لے کر لگایا گیا تھا، جس کا بوجھ امریکیوں کو نسلوں تک اٹھانا پڑے گا۔ امریکہ نے اگرچہ افغانستان میں اپنا فوجی مشن 31 اگست تک ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاہم اس طویل جنگ کے دوران خرچ ہونے والی رقم کا جائزہ لیا جائے تو ان 20 برسوں میں کھربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جب کہ کئی قیمتی جانیں بھی حملوں کا نشانہ بنے۔امریکہ کے افغانستان میں جنگ کے دوران اخراجات کا موازنہ اگر کوریا اور ویتنام کے ساتھ ہونے والی جنگوں کے ساتھ کیا جائے تو اس جنگ کے اخراجات ٹیکس کے بجائے قرض لے کر پورے کیے گئے۔ امریکہ کی کوریا کے ساتھ جنگ کے دوران سابق امریکی صدر ہیری ایس ٹرومن نے عارضی طور پر ٹیکسوں میں 92 فیصد اضافہ کر کے اخراجات پورے کیے۔ اسی طرح ویتنام جنگ کے دوران سابق صدر لنڈن جانسن نے ٹیکسوں میں عارضی طور 77 فیصد اضافہ کر کے اخراجات پورے کیے۔ اس کے برعکس سابق صدر جارج ڈبیلو بش نے افغانستان اور عراق میں جنگ کے دوران امیروں کے لیے ٹیکس میں 8 فیصد کمی کر دی تھی۔ سال 2020 تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو امریکہ نے افغانستان اور عراق میں جنگ کے اخراجات قرض کی رقم سے پورے کیے جو تقریباً دو کھرب ڈالر بنتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 2050 تک اس قرض کی رقم پر سود کی مد میں امریکی حکومت 6 کھرب ڈالر سے زائد ادا کرے گی۔ یوں امریکہ کو افغانستان میں کیا جانے والا گناہ بے لذت 8 ارب روپے میں پڑا ہے۔
دوسری جانب کابل پر قبضے کے نتیجے میں نہ صرف طالبان فاتح بن کر ابھرے ہیں بلکہ دارالحکومت کابل ان کی مٹھی میں آنے کے بعد طالبان کے ہاتھ امریکہ کا چھوڑا ہوا جدید ترین اسلحہ بھی لگ گیا ہے جو طالبان کی عسکری قوت میں اضافے کا سبب بنے گا۔ دلچسپ بات یہ یے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ملک کے زیادہ تر حصوں میں افغان فورسز نے بغیر کسی مزاحمت کے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور یون 15 اگست کو دارالحکومت کابل بھی طالبان کے قبضے میں آگیا۔ واضح رہے کہ امریکا نے طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کو جدید ترین اسلحے کی فراہمی اور تربیت پر کئی بلین ڈالرز خرچ کیے تاہم افغانستان کے زیادہ تر حصوں میں حکومتی فورسز کی طرف سے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑے بغیر طالبان کے آگے ہتھیار ڈالنے کے سبب یہ امریکی ہتھیار اور اسلحہ اب طالبان کے ہاتھ لگ چکا ہے۔ طالبان کے آن لائن نیٹ ورکس پر ایسی ویڈیوز کی بھرمار ہے جن میں طالبان جنگجوؤں کو امریکی اسلحے پر قبضے میں لیتے، قبضہ شدہ گاڑیوں پر گشت کرتے یا پھر ملٹری ہیلی کاپٹرز کے ساتھ پوز بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ملک کے شمالی شہر قندوز سے تعلق رکھنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان کے قبضے میں ایسی مسلح فوجی گاڑیاں ہیں جن پر بھارتی ہتھیار اور دیگر ملٹری آلات نصب ہیں۔ مغربی شہر فراح میں تو طالبان جنگجوؤں کو ایسی گاڑیاں چلاتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے جن پر افغان سیکرٹ سروس کا لوگو لگا ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اسلحہ ان کے ہاتھ لگنے سے ان عسکریت پسندوں کی طاقت میں مزید اضافہ ہو گا۔ ایک سابق امریکی فوجی اہلکار جیسن امیرین کے مطابق واشنگٹن یہ بات بہت پہلے سے مدنظر رکھے ہوئے ہے کہ طالبان امریکی اسلحہ قبضے میں سکتے ہیں۔ پینٹاگون افغان مسلح افواج کے لیے اسلحے کی خریداری کے لیے اس بات کو ہمیشہ سے مدنظر رکھتا آیا ہے۔ ان کے بقول افغانستان میں پیش آنے والی صورتحال امریکا کے لیے کوئی نئی چیز بھی نہیں ہے۔ سال 2014ء کے وسط میں جب امریکی فوجی عراقی شہر موصل سے نکل گئے تھے تو داعش کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال پیش آئی تھی۔ امریکی فوج کے لیے خریدے گئے ہتھیاروں اور گاڑیوں کو نئے مالکان مل گئے تھے۔ اس سے نا صرف ان کی طاقت میں اضافہ ہوا تھا بلکہ داعش نے آن لائن نیٹ ورکس پر اس کا خوب چرچا بھی کیا تھا۔ داعش نے وہیں سے اپنی خود ساختہ خلافت قائم کی تھی۔
افغانستان میں امریکہ کی 2001 میں شروع ہونے والی طویل ترین جنگ 20 برسوں کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ یہ جنگ نہ تو عام امریکی شہریوں کی توجہ کا مرکز رہی اور نہ ہی امریکی کانگریس نے افغانستان میں حکومتی کارروائیوں کی اس انداز میں نگرانی کی جس طرح سے ویتنام جنگ کی گئی تھی۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی حیران کن پیش قدمی اور دارالحکومت پر قبضے کے بعد یہ سوال تواتر سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اس بڑے پیمانے پر لڑائی جاری رکھنے کے لیے طالبان مالی وسائل کہاں سے حاصل کر رہے تھے۔ مبصرین کے مطابق اس گروہ کو کروڑوں اور شاید اربوں ڈالرز تک رسائی حاصل ہے۔ طالبان مالی وسائل جمع کرنے کی کتنی اہلیت رکھتے ہیں اس کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ البتہ طالبان جنگجوؤں کی مالی اعتبار سے موجودہ خود انحصاری سے تخمینہ لگایا جا سکتا ہے کہ گروپ کی آمدن 30 کروڑ ڈالرز سے ایک ارب 60 کروڑ ڈالرز سالانہ تک ہو سکتی ہے۔رواں برس جون میں جاری ہونے والی دیگر ممالک کی فراہم کردہ انٹیلی جنس اطلاعات پر مبنی اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان زیادہ تر افیون کی پیداوار، منشیات کی اسمگلنگ، بھتے اور اغوا برائے تاوان جیسی مجرمانہ سرگرمیوں سے مالی وسائل حاصل کرتے رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق اس میں صرف منشیات کی اسمگلنگ سے ہونے والی کمائی ممکنہ طور پر 46 کروڑ ڈالرز سالانہ سے زائد ہے۔طالبان نے اپنے زیرِ تسلط علاقوں میں پائے جانے والے قدرتی وسائل سے بھی اضافی رقم حاصل کی ہے۔ انہیں گزشتہ برس کان کنی سے 46 کروڑ ڈالر سے زائد رقم حاصل ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان قیادت کو ’غیر سرکاری خیراتی اداروں‘ اور متمول حامیوں سے بھی بڑی تعداد میں عطیات اور امداد ملتی رہی ہے جس میں اب کابل پر قبضے کے بعد اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
