امریکی سینیٹ انتخاب :حتمی نتائج کےلیے جنوری تک کا انتظار کیوں؟

امریکی سینیٹ میں پلڑا کس کے حق میں بھاری رہے گا، اس کا فیصلہ شاید جنوری تک نہیں ہو سکے گا کیوں کہ ممکنہ طور پر جارجیا میں دونوں نشستوں کےلیے الیکشن کا دوسرا راؤنڈ ہوگا۔
ریاست میں انتخاب کے قانون کے مطابق کسی بھی امیدوار کو جیت کےلیے 50 فیصد ووٹ درکار ہوتے ہیں لیکن پہلے نتیجے میں ایسا نہیں ہو سکا۔ نئی سینیٹ کے طے شدہ اجلاس کے دو روز بعد پانچ جنوری کو وہاں رن آف الیکشنز یعنی انتخابات کا دوسرا راؤنڈ ہوگا۔ اس وقت سینیٹ میں ری پبلکنز کی تعداد زیادہ ہے۔ جو کہ 47 کے مقابلے میں 53 ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ ان کا کنٹرول برقرار رہے گا۔ اب تک مجموعی طور پر ان کی ایک سیٹ کم ہوئی ہے۔ ڈیموکریٹس کو بہت امید تھی کہ انھیں چار مزید نشستیں مل جائیں گی جو کنٹرول حاصل کرنے کےلیے ضروری ہیں لیکن بہت سے ری پبلکنز دوبارہ اپنی نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر ڈیموکریٹس جارجیا میں روایتی طور پر ری پبلکنز کی دونوں نشستوں پر کامیاب ہوگئے تو سینیٹ میں دونوں پارٹیوں کو 50-50 نشستوں کی برابری حاصل ہوجائے گی۔ جارجیا سے سینیٹ کی ایک نشست پر ری پبلکن امیدوار ڈیوڈ پرڈیو کو ووٹوں کی جنگ میں ڈیموکریٹ امیدوار جان اوسوف اور لبریشن پارٹی کے شین ہیزل کے مقابلے میں 50 فیصد سے کم ووٹوں کا سامنا ہے۔ اب تک 98 فیصد بیلٹس میں گنتی ہوچکی ہے۔
پرڈیو کی مہم کے منیجر بین فرے کا کہنا ہے کہ ’تمام ووٹوں کی گنتی ہونے پر اگر مزید وقت درکار ہوا تو ہم تیار ہیں اور ہم جیت جائیں گے۔‘ لیکن اوسوف کی ٹیم کی پیش گوئی ہے کہ ’جب دوبارہ انتخاب کروایا جائے گا جو جنوری میں منعقد ہو گا تو جارجیا کے لوگ سینیٹ میں جان کو بھیجیں گے۔‘ وہ ابھی پرڈیو سے دو فیصد پوائنٹ پیچھے ہیں۔ جارجیا میں ہی سینیٹ کےلیے ایک اور مقابلے میں ڈیموکریٹس کے امیدوار رفائیل وارنوک کو 32.8 فیصد سے کامیابی ملی ہے اور وہ ری پبلکن سینیٹر کیلی لوفلر سے مقابلہ کریں گے جو اُن سے 26 فیصد پیچھے ہیں۔ مِس لوفلر کی تعیناتی گزشتہ برس ان کے پیش رو کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی نشست کو پُر کرنے کےلیے ہوئی تھی۔ سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے اور ان میں سے 23 ری پلبکنز کی تھیں اور 12 ڈیموکریٹس کے پاس تھیں۔ ڈیموکریٹس کو امید تھی کہ وہ بہت سی نشستیں حاصل کر لیں گے مگر انہیں فقط دو کامیابیوں میں سے ایک کامیابی کولوریڈو میں ملی۔ یہاں سابق گورنر جان ہیکن لوپر نے ری پبلکن سینیٹر کوری گارڈنر کو شکست دی۔ ڈیموکریٹس کو ایریزونا میں بھی کامیابی ملی ہے جہاں سابق خلاباز مارک کیلی نے گزشتہ بار یہاں کامیابی حاصل کرنے والے ری پبلکن امیدوار سابق فائٹر پائلٹ مارتھا میکسیلی کو شکست دی ہے۔ لیکن اس جیت کا حساب اُس وقت برابر ہوگیا جب ایلاباما کے ڈیموکریٹ سینیٹر ڈگ جونز کو رپبلکن امیدوار ٹومی ٹوبروِل کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مین کی ریاست میں اعتدال پسند رپبلکن سوسن کولنز کو ڈیموکریٹ امیدوار سارہ گڈیان سے سخت مقابلے کا سامنا رہا لیکن وہ فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ ڈیموکریٹس کو چھ برس سے سینیٹ کا کنٹرول حاصل نہیں ہوا ہے۔
