جوبائیڈن امریکا کے 46 ویں صدر منتخب ہوگئے

امریکا کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے مطلوبہ 270 سے زائد الیکٹرول ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کرلی۔
جوبائیڈن کی کامیابی کی تصدیق کے بعد صدارتی انتخاب کے بعد تین روز تک نتائج کے حوالے سے جاری کشمکش اور بےیقینی کی صورتحال ختم ہوگئی۔جو بائیڈن امریکا کے سب سے طویل عمر صدر ہوں گے۔امریکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ نے ہفتہ کی شام جو بائیڈن کو فاتح قرار دیا۔ امریکی نشریاتی اداروں سی این این، این بی سی نیوز اور سی بی ایس نیوز نے بھی اپنی رپورٹس میں کہا کہ فیصلہ کن ریاست پنسلوانیا میں کامیابی کے بعد جو بائیڈن انتخاب میں فاتح قرار پائے ہیں۔
وبائیڈن امریکا کے 46 ویں صدر منتخب ہوگئے، ڈیموکریٹ امیدوار نے 284 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے دی۔ تفصیلات کے مطابق امریکی میڈیا کی جانب سے خبر نشر کی گئی ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن نے الیکشن جیت لیا ہے۔ جوبائیڈن کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ 214 ووٹ حاصل کر سکے۔ جوبائیڈن نے ریاست پنسلوینیا اور ایریزونا میں فتح حاصل کرنے کے بعد حتمی برتری حاصل کی۔ جوبائیڈن جنوری 2021 میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ امریکی صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ ہونے کے 3 دن بعد نتائج واضح ہوئے ہیں۔
BREAKING: JOE BIDEN WINS
Joe Biden will be the 46th president of the United States, CNN projects, after a victory in Pennsylvania puts the Scranton-born Democrat over 270 https://t.co/g5ahxZ3Zcu #CNNElection pic.twitter.com/4bVHYENaaT
— CNN (@CNN) November 7, 2020


منگل کی شام پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد امریکیوں کی نظریں ٹی وی اسکرین اور موبائل فونز پر جمی ہوئی تھیں اور دنیا بھر میں نئے امریکی صدر کے اعلان کا انتظار کیا جارہا تھا۔جو بائیڈن نے اہم ریاستوں وسکونسِن اور مشی گن میں کامیابی حاصل کرکے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے امکانات کم کر دیے تھے۔انتخاب کے دو روز بعد بھی کوئی بھی امیدوار مطلوبہ 270 الیکٹورل ووٹس حاصل نہیں کر سکا تھا اور ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے جو بائیڈن 264 جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ 214 الیکٹورل ووٹس ہی سمیٹ سکے تھے۔تاہم پنسلوانیا کے 20 الیکٹورل ووٹس حاصل کرنے کے بعد جو بائیڈن کے کُل ووٹس کی تعداد 284 ہوگئی ہے۔جہاں اب بھی لاکھوں ووٹوں کی گنتی باقی ہے، جو بائیڈن تاریخ میں سب سے زیادہ 7 کروڑ 10 لاکھ سے زائد ووٹ کر چکے ہیں۔
دوسری جانب ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کے دو روز بعد وائٹ ہاؤس میں تنہا ہوتے ہوئے ٹرمپ نے ایک غیر معمولی بیان میں کہا کہ ’وہ انتخابات چوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ڈیموکریٹس ہم سے الیکشن چرانے کے لیے غیر قانونی ووٹ استعمال کر رہے ہیں‘۔امریکا کی سپریم کورٹ نے پنسلوانیا میں انتخابی دن کے بعد پہنچنے والے بیلٹس کی گنتی کو فوری طور پر روکنے کی ریاستی ریپبلیکنز کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔
اس سے قبل جوبائیڈن نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ ہم300الیکٹورل ووٹ جیت جائیں گے، انہوں نے کہا کہ امریکی تاریخ میں پہلی بار74ملین سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے کیونکہ عوام اس ملک کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ ہماری سیاست کا اولین مقصد عوامی مسائل کو حل کرنا ہے۔ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں جانتا ہوں کہ کسی کو کھونے کا دکھ کیا ہوتا ہے، ہم سیاست میں مخالف ضرور ہیں مگر کسی کے دشمن نہیں، بطور صدر مجھ پر تمام عوام کی ذمہ داری ہوگی۔جوبائیڈن نے کہا کہ امریکی عوام نے ماحولیات اورمعیشت کی بہتری کیلئے ووٹ دیا،انتشار اور اختلافات میں الجھ کر وقت ضائع نہیں کرناچاہتا، ہمارا معاشی منصوبہ کورونا کے بعدنقصان پرقابو پانے کیلئے ہوگا، جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ریاست پنسلوانیا کے شہر اسکرینٹن میں پیدا ہونے والے جو بائیڈن نے سیاست کا آغاز 1972 میں ریاست ڈلاوئیر سے سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کے ساتھ کیا۔انہیں خارجہ پالیسی کا کافی تجربہ ہے اور وہ اپنے سیاسی کیریئر کے دوران سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے دو بار چیئرمین رہے ہیں۔ جو بائیڈن نے عدالیہ سے متعلق کمیٹی کے چیئرپرسن کے طور پر بھی فرائض انجام دیے۔ان کا یہ طویل کیریئر واضح طور پر داغ سے پاک نہیں ہے۔ انہیں 1994 کے پرتشدد جرائم کنٹرول کرنے اور قانون کے نفاذ سے متعلق قانون کی حمایت پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ناقدین کہتے ہیں کہ یہ قانون بڑے پیمانے پر افریقی امریکیوں کو قید کیے جانے کی وجہ بنا۔
جو بائیڈن کو اپنی زندگی میں کئی دکھوں اور المیہ سے گزرنا پڑا۔ سال 1972 میں عین ان دنوں میں جب وہ سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے والے تھے، ان کی بیوی اور تین بچے کار حادثے کا شکار ہوئے جس میں ان کی اہلیہ اور بیٹی ہلاک ہوگئے جبکہ دونوں بیٹے بیو اور ہنٹر شدید زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے، جو بائیڈن حلف اٹھائے بغیر ہسپتال روانہ ہوئے اور بعد ازاں وہیں سے سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھایا۔سال 2015 میں جب جو بائیڈن امریکا کے نائب صدر تھے، ان کے 46 سالہ بیٹے بیو بائیڈن کی دماغ میں کینسر کی وجہ سے موت ہو گئی۔جو بائیڈن نے صدر کے لیے پہلی 1988 میں انتخاب میں حصہ لیا لیکن برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما نیل کینوک کی تقریر چوری کرنے کے انکشاف کے بعد وہ دوڑ سے دستبردار ہوگئے۔انہوں نے 2008 میں ایک بار پھر اپنی قسمت آزمائی لیکن اس بار بھی ناکام رہے اور ڈیموکریٹک پارٹی نے براک اوباما کو صدر کے لیے نامزد کیا۔ جو بائیڈن کو بعد ازاں نائب صدر کے لیے نامزد کیا گیا اور اوباما کے ساتھ اگلے 8 سال تک خدمات انجام دیں۔جو بائیڈن، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے ’پہلے امریکا‘ کے نعرے کا ’تنہا امریکا‘ کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں، بطور عالمی رہنما ملک کی پوزیشن بحال کرانے کے لیے پرعزم ہیں۔
