امریکی صدرارتی الیکشن: نینسی پلوسی کے بیان کے بعد صدر بائیڈن کی مشکلات میں اضافہ

امریکی صدر جو بائیڈن پر انتخابی دوڑ سے دستبردار ہونے کےلیے ایوان نمائندگان کے بعد اب سابق اسپیکر نینسی پلوسی اور دیگر پارٹی ارکان کی جانب س دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔

ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر نینی پلوسی نے ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا یہ صدر پرمنحصر ہے وہ کیا فیصلہ کریں گےکہ (انتخاب) لڑیں گے یا نہیں،انہوں نے کہا ہم سب ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں کہ وہ یہ فیصلہ کرلیں کیوں کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے۔

نینسی پلوسی نے کہا کہ جو بائیڈن کو نیٹو کی سربراہی کانفرنس کے اختتام تک فیصلہ کر لینا چاہیے۔ واشنگٹن میں جاری نیٹو کی سربراہی کانفرنس آج جمعرات کو ختم ہوگی۔

ایوانِ نمائندگان کے آٹھ ڈیموکریٹ ارکان نے واضح الفاظ میں جو بائیڈن سے انتخاب میں حصہ نہ لینے کاکہا ہے تاہم اب سینیٹ سےبھی پہلے رکن پیٹر ویلش مخالفت میں سامنےآ گئے ہیں۔ڈیموکریٹ سینیٹرپیٹرویلش نےاخبار میں لکھے گئے اپنے مضمون میں جو بائیڈن سے ’ملک کے مفاد میں‘ صدارتی دوڑ سےدستبردار ہونے کاکہا ہے۔

قبل ازیں سینیٹ میں اکثریتی پارٹی ڈیموکریٹس کےرہنما چک شومر نےذاتی حیثیت میں ڈونڑز کو عندیہ دیا تھاکہ وہ پارٹی ٹکٹ پر بائیڈن کی جگہ کسی اور امیدوار کوموقع دینے کےلیے تیارہیں۔

جو بائیڈن کی صدارتی مہم کےلیے3کروڑڈالر کاعطیہ اکھٹا کرنے والے ہالی ووڈ اداکار جارج کلونی کا بھی اخبار مضمون شائع ہوا ہےجس میں انہوں نے لکھا ’یہ کہنا افسوس ناک ہے تاہم جس جو بائیڈن کےہمراہ میں تین ہفتے قبل ایک فنڈ ریزر میں تھا یہ 2010 والے بائیڈن نہیں ہیں۔‘ جارج کلونی نے مزید لکھا کہ’یہ 2020 والے جو بائیڈن بھی نہیں ہیں۔‘ اداکار جارج کلونی نے لکھا کہ جو بائیڈن صدارتی انتخاب ہارجائیں گےاور ڈیموکریٹس کو کانگریس کے دونوں چیمبرز،ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Back to top button