پنجاب میں خاتون چیف منسٹر کے بعد خاتون چیف جسٹس بھی آ گئیں

پنجاب میں عورت راج قائم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی باگ ڈور مریم نواز نے سنبھال رکھی ہے وہیں اب پنجاب کی سب سے بڑی عدالت لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس عالیہ نیلم کی بطور پہلی خاتون چیف جسٹس تعیناتی عمل میں لائی جا چکی ہے۔ عمرانڈوز کی مخالفت کے باوجود صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بطور چیف جسٹس لاہور تعیناتی کی منظوری اور حلف برداری کے بعد جسٹس عالیہ نیلم نے لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جج مقرر نہ ہونے کی صورت میں جسٹس عالیہ نیلم 11 نومبر 2028 کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عہدے سے ریٹائر ہوجائیں گی۔

جسٹس عالیہ نیلم کی بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعیناتی کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال زیر گردش ہے کہ جسٹس عالیہ نیلم کون ہیں؟اور ان کی تعیناتی کیسے عمل میں لائی گئی۔ قانونی ماہرین کے مطابق فوجداری قانون میں مہارت رکھنے والی جسٹس عالیہ نیلم 12 نومبر 1966 کو پیدا ہوئیں۔ وہ 1995 میں وکالت کی ڈگری لینے کے بعد یکم فروری 1996 کو لاہور بار ایسوسی ایشن کی ممبر بنیں اور وکالت کا لائسنس حاصل کیا۔انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ہی ایم اے سیاسیات اور بی ایڈ کی ڈگریاں بھی حاصل کر رکھی ہیں، جبکہ اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے قانون کے ڈپلومے بھی مکمل کر چکی ہیں۔۔فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے مطابق انھوں نے آئینی معاملات، وائٹ کالر کرائم، دیوانی، فوجداری، انسداد دہشت گردی کے قوانین، نیب، بینکنگ جرائم، خصوصی مرکزی عدالتوں کے قانون اور بینکنگ قوانین سے متعلق پریکٹس کر رکھی ہے۔ ’بار میں پریکٹس کرتے ہوئے انھوں نے کامیابی کے ساتھ متعدد مقدمات لڑے جن میں دیوانی قانون، فوجداری قانون، بینکنگ قانون اور انسداد دہشت گردی کے قوانین شامل ہیں۔‘

 فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے مطابق انھوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں 2009 سے فروری 2013 تک تقریباً 91 مقدمات، لاہور ہائی کورٹ میں تقریباً 850 مقدمات اور ٹرائل کورٹس میں تقریباً 1473 مقدمات لڑے۔وہ 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈجسٹ جج مقرر ہوئیں اور انھیں 2015 میں مستقل جج تعینات کیا گیا۔بطور جج لاہور ہائی کورٹ انہوں نے مختلف کیسوں میں 11 سالہ سروس میں 203 فیصلے دیے۔انہوں نے امریکہ اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک میں عالمی سطح پر ہونے والی قانون و انصاف سے متعلق کانفرسز میں بھی پاکستانی عدلیہ کی نمائندگی کی۔

 جسٹس عالیہ نیلم نے کئی اہم مقدمات پر فیصلے کیے۔ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کے الزام میں ضمانت منظور کرنے والے تین رکنی بنچ کی رکن تھیں۔جسٹس عالیہ نیلم نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی نو مئی کے واقعات پر درج مقدمات کی انسداد دہشت گردی عدالت کے ضمانت مسترد کرنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ دیا اور ضمانت کی درخواستوں کو بحال کیا۔جسٹس عالیہ نیلم نے نو مئی کے مقدمات میں گرفتار خواتین خدیجہ شاہ اور عالیہ حمزہ سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتیں منظور کیں۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارت میں ہونے والے سپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عہدے کے لیے تین سب سے سینیئر ججز جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عالیہ نیلم کے ناموں پر غور کیا گیا تھا تاہم اجلاس میں جسٹس عالیہ نیلم کے نام کی متفقہ طور پر بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ جسٹس عالیہ نیلم کی پنجاب کی سب سے بڑی عدالت لاہور ہائی کورٹ کی بطور پہلی خاتون چیف جسٹس نامزدگی کی جہاں تحریک انصاف نے کھل کر مخالفت کی تھے وہیں اس تعیناتی کو روکنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم دوسری جانب سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار مقصود بٹرکا کہنا تھا کہ ’جو وکلا رہنما جسٹس عالیہ نیلم کی بطور چیف جسٹس تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں ان سے دریافت کیا جائے کہ جب جسٹس شاہد بلال کو چوتھے نمبر سے اٹھا کر سپریم کورٹ کا جج نامزد کیا گیا اس وقت آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی۔’جب ایک بار سینیارٹی کا خیال نہیں رکھا گیا تو دوسری بار اس معاملہ کو کیوں اچھالا جارہا ہے؟‘انہوں نے کہا کہ جسٹس عالیہ نیلم ایک سنجیدہ اور بااصول جج ہیں اور وکلا انہیں گذشتہ 10 برس سے دیکھ رہے ہیں۔وہ بہت سے ججز سے بہترہیں۔ فیصلہ کرتے وقت بھی انہیں کبھی کسی دباؤ میں آتے نہیں دیکھا بلکہ انھوں نے ہمیشہ بہادری سے فیصلے دیے۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف کسی قسم کی مالی بدعنوانی کی بھی کوئی شکایت نہیں سنی۔ حتی کہ کبھی عورت یا مرد سائل میں بھی خاتون ہونے کے ناطے فرق کرتے نہیں دیکھا۔‘مقصود بٹر کا کہنا تھا کہ’ہم سمجھتے ہیں جسٹس عالیہ نیلم کی لاہور ہائی کورٹ میں بطور چیف جسٹس تقرری سے بہتری ضرور آئے گی۔’لیکن زیر التوا کیسوں میں کمی کی امید نہیں۔ کیونکہ لاہور ہائی کورٹ میں ججز کی 60 سیٹیں ہیں لیکن جج صرف 38 فرائض انجام دے رہے ہیں۔’ہم جوڈیشل کونسل سے اپیل کرتے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد پوری کی جائے تاکہ کیسوں کا التوا ختم ہو اور انصاف میں تاخیر نہ ہو۔‘

Back to top button