امید ہے بلاول ہمارے ساتھ وہ نہیں کرینگے جو نواز شریف نے کیا

بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر ثنااللہ زہری نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے، ہمیں عزت دیں۔ثنااللہ زہری نے کہا کہ میں 1988 سے سیاست کر رہا ہوں، پہلے ہم نے نواز شریف کو آگے کیا پھر ہم نے غلام اسحٰق خان کے ذریعے سازش کرکے بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نواز شریف کو پھر آگے کیا اور وزیراعظم بنایا تو ان کا پہلا شکار غلام اسحٰق خان بنے، نواز شریف کی سرشت میں وفا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2013 میں الیکشن ہم نے جیتا اور باتیں سنیں کہ وہ قوم پرستوں کوحکومت دے رہے ہیں تو جنرل عبدالقادر بلوچ کو رائیونڈ بھیجا تو انہوں نے کہا کہ میری پارٹی جیتے گی اور میں کسی اور کو حکومت دوں گا پھر میں نے خود بات کی تو وہی جواب دیا۔ثنااللہ زہری نے کہا کہ بلوچستان کے عوام گواہ ہیں کہ نواز شریف نے جس پارٹی کی اکثریت نہیں تھی، تیسرے نمبر کی جماعت، جس کے 8 سے 9 ارکان تھے،کو مسلم لیگ (ن) کے 22 سے 23 اراکین تھے، ان پر ترجیح دی اور انہیں وزیراعلیٰ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ میں نواز شریف کا شکریہ ادا نہیں کروں گا کیونکہ اتحادی جماعتوں پختونخوا میپ کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور ڈاکٹر عبدالمالک سے حکومت نہیں چلی تو ڈھائی سالہ معاہدے پر عمل درآمد کیا۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلاول بھٹو کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر نواز شریف کا بس چلتا تو اس پر بھی عمل درآمد نہیں کرتا، ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے، ہمیں عزت چاہیے، ہم آپ سے توقع رکھیں گے جو نواز شریف نے ہمارے ساتھ کیا وہ آپ نہیں کریں گے۔ثنااللہ زہری نے کہا کہ میں بھی شہیدوں کا وارث ہوں اور بلاول بھی شہیدوں کا وارث ہے، اسی لیے میں نے بلوچستان کے اپنے تمام عوام کے ساتھ اس پارٹی میں شمولیت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج سے ہم پیپلزپارٹی کا باقاعدہ حصہ ہیں اور میں ایک ورکر کی حیثیت سے پیپلزپارٹی کے لیے کام کروں گا، مسلم لیگ کے لیے جتنا کام کیا اور قربانیاں دی ہیں، اسے بڑھ کر کروں گا کیونکہ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی جماعت ہے، جن کو میں بہن کہتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری کی پارٹی ہے، میں اپنا خون پسینے کو ایک کرکے اس پارٹی کو آگے لے کر جاؤں گا۔اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سابق صوبائی صدر اور وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے بھی پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہر علاقے کا سیاسی مزاج مختلف ہے۔
عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیپلزپارٹی کا نظریاتی ووٹ موجود ہے اور یہاں سے علاقائی جماعتوں کے علاوہ مرکزی جماعتوں نے بھی کامیابی حاصل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہہ دیا اور آج بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی کوئی قدآور شخصیت نہیں ہے، پیپلزپارٹی نے اپنی قابلیت پر بلوچستان میں اپنی پوزیشن بنائی ، اگر صحیح کام کیا تو یہاں ہماری اکثریتی حکومت بنے گی۔
