انتخابات میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ ہی آمنے سامنے ہونگی؟

عسکری املاک پر حملوں کے بعد تحریک انصاف تاش کے پتوں کی طرح بکھرتی نظر آتی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران خان کی سیاسی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔موجودہ صورتحال میں اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ملکی سیاست میں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی ہی ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی کیونکہ پاکستان تحریک انصاف جو 9 مئی سے پہلے یہ دعوے کرتی تھی کہ مسلم لیگ (ن) کو عام انتخابات میں امیدوار نہیں ملیں گے آج وہ خود اس صورتحال سے دوچار ہے۔ جبکہ نئی قائم ہونے والی جماعت استحکام پاکستان پارٹی کے پاس ٹکٹ لینے والوں کی تو لمبی قطار ہے لیکن ووٹ دینے والوں کی قطاریں چشم تصور میں دور دور تک دکھائی نہیں دیتیں۔
الیکشن کسی صورت بھی 14 مئی کو نہیں ہوسکتے چاہے کوئی کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے الیکشن نگران سیٹ اپ کے تحت اکٹھے اور اسی سال ہوں گے۔یہ دعویٰ رانا ثناء اللہ نے تقریباً ایک ماہ قبل فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا جو درست ثابت ہوا لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب الیکشن قریب آئے گا تو میاں نواز شریف پاکستان آئیں گے اور انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔اب ان کے اس دعوے کی تصدیق ہونا باقی ہے کیونکہ ابھی تک صورتحال واضح نہیں ہے کہ ملک میں عام انتخابات کب ہوں گے۔ کیا واقعی حکومت قومی اسمبلی کی مدت جو اگست میں ختم ہو رہی ہے میں توسیع یا پھر وقت سے پہلے تحلیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ واضح رہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ ملک میں اگر ایسے ہنگامی حالات ہوں جو اس آرٹیکل کی شق پر عملدرآمد کے متقاضی ہوں تو اسمبلی کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی جاسکتی ہے دوسرے لفظوں میں انتخابات ایک سال کیلئے ملتوی کئے جاسکتے ہیں۔ شاید آئین کے اسی آرٹیکل سے نکلنے والی گنجائش کے پیش نظر آصف علی زرداری نے گزشتہ دنوں لاہور پہنچتے ہی یہ دعویٰ کر دیا تھا کہ یہ لوگ دو ماہ میں الیکشن نہیں کراسکتے، الیکشن اسی وقت ہوں گے جب میں چاہوں گا پھر ان کے کبھی اعلانیہ اور کبھی مخفی ’’سیاسی اٹوٹ انگ‘‘ مولانا فضل الرحمان نے بھی فرمایا تھا کہ کیا وقت مقررہ پر الیکشن کراکے ہم ملک کی صورتحال کو نئے ہنگاموں کی بھینٹ چڑھا دیں یا پہلے ملک کی معیشت بہتر کریں۔ ان بیانات نے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے خاصا ابہام پیدا کیا تاہم اب مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں ہونے والے جمعیت کی شوریٰ کے اجلاس میں اپنے اس موقف کو قدرے ملفوف کرکے انتخابی اتحاد کی بات کی ہے۔
تاہم دوسری طرف حکومت میں شامل دو بڑی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے مابین بعض معاملات پر اختلافات بھی کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے مابین حالیہ اختلافات کا سلسلہ آزاد کشمیر کے ضمنی الیکشن سے شروع ہوا جہاں پر نون لیگ کے دوسری سطح کے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی پر دھاندلی کے الزامات عائد کئے۔ بعد ازاں بجٹ کے حوالے سے بھی پیپلز پارٹی کی تجاویز کو پذیرائی نہ دینے پر بھی دونوں جماعتوں میں اختلافات نے جنم لیا۔اسی وجہ سے باخبر پارلیمانی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے 12 جون سے شروع ہونے والی ایوان میں بجٹ پر بحث کیلئے اپنے اراکین کی فہرست قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو نہیں دی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی بجٹ تجاویز کی عوامی حمایت نہیں کرے گی اور اگر اختلافات برقرار رہے تو پیپلز پارٹی کے اراکین بجٹ پر تنقید کے ساتھ سامنے آ سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کے روز وفاقی حکومت پر تنقید کی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی یہ تنقید قومی اسمبلی تک جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے سب سے بڑا اعتراض جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کے قیام پر ہے جو اس وقت وجود میں آئی ہے جب آصف علی زرداری جنوبی پنجاب سے ایک کے بعد ایک نام نہاد ’الیکٹ ایبل‘ کو فتح کرنے میں مصروف ہیں۔ اس پیش رفت نے پیپلز پارٹی کو پریشان کر دیا ہے اور اس کی قیادت حکمران اتحاد سے ناراض ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ یہ اتحاد بنیادی طور پر مسلم لیگ ن نے کھڑا کیا ہے تاکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے الیکٹ ایبلز کو پارٹی میں شامل کرنے کی مہم کے آگے بند باندھا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کی تقرری بھی دونوں جماعتوں کے درمیان ایک اور تنازع بن گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف جو کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ہیں وی کرکٹ بورڈ کا چیئرمین نامزد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے نجم سیٹھی کو تعینات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ذکا اشرف جو کہ پی پی پی کی سابقہ حکومت میں کرکٹنگ کے سربراہ تھے، نے ایک بار پھر یہ عہدہ دوبارہ حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔ آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ احسان مزاری کو ان کا نام تجویز کیا ہے۔ یہ معاملہ بھی دونوں جماعتوں کے مابین وجہ تنازع بنا ہوا ہے۔
