عمران خان کا مراد سعید کو پارٹی قیادت سونپے کا فیصلہ؟

عمران خان کوموجودہ صورتحال میں خاموشی اختیار کرنے کا مشورہ دینے کے بعد شاہ محمود قریشی اپنا اعتماد کھو چکے ہیں اور عمران خان نے شاہ محمود قریشی کی جگہ مراد سعید کو اپنا جانشین بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا اعلان جلد متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق جیل سے رہائی کے بعد شاہ محمود قریشی کی عمران خان سے پہلی ملاقات بغیر نتیجہ تلخی پر اختتام پذیر ہوئی تھی تاہم اب ایک بار پھر اپنے موٗقف پر قائل کرنے کیلئے شاہ محمود قریشی کی چیئرمین تحریک انصاف سے زمان پارک میں دوبارہ ملاقات ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ملاقات گزشتہ ملاقات کے تسلسل میں تھی اور ایک مرتبہ پھر شاہ محمود قریشی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی وہ وقتی طور پر پارٹی کی قیادت سے پیچھے ہٹ جائیں اور ان پر جو مقدمات ہیں ان کا سامنا کرکے اپنے آپ کو کلیئر کرا کے دوبارہ پارٹی کی قیادت سنبھال لیں۔ لیکن چیئرمین تحریک انصاف مکمل طور پر شاہ محمود قریشی پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ۔شاہ محمود نے عمران خان کو اس بات پر بھی قائل کرنے کی کوشش کی کہ یہ ایسا درمیانی راستہ ہے جو آپ کے خلاف نو مئی کے واقعات کو کافی حد تک ٹھنڈا کردے گا۔ بصورت دیگر اگر آرمی ایکٹ کے تحت ان پر مقدمات قائم ہوگئے تو پھر لمبا کھاتہ کھل جائے گا۔
ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ عمران خان گزشتہ ملاقات کی نسبت اس ملاقات میں کافی بیک فٹ پر رہے۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی کی بات تو نہیں مانی، لیکن اس سے کھلا انکار بھی نہیں کیا۔ کیونکہ دوروز قبل نیب میں پیشی کے موقع پر القادر ٹرسٹ کے حوالے سے نیب نے ان سے سخت ترین سوالات کیے، جن کے ان کے پاس جوابات نہیں تھے۔ جب کہ دوسری جانب اس وقت وہ مکمل طور پر اکیلے ہیں۔ تحریک انصاف کے بچے کھچے رہنما یا تو جیلوں میں ہیں یا پھر مفرور ہیں۔ جب کہ کارکنان بھی زمان پارک کا رخ نہیں کررہے۔ ان حالات میں عمران خان کو پارٹی قیادت کے لیے موزوں امیدوار مراد سعید ہی دکھائی دے رہے ہیں اور عمران خان نے اپنے ماضی قریب کے بیان سے یونان لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے مراد سعید کو اپنا جانشین مقرر کرنے بارے مشاورت شروع کر دی ہے۔
شاہ محمود قریشی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ، شاہ محمود قریشی پہلے ملاقات کے بعد کافی دل برداشتہ ہوکر کراچی چلے گئے تھے۔ جیل میں تمام معاملات طے پانے کے بعد انہوں نے چیئرمین تحریک انصاف کو اس بات پر قائل کرنے کا عندیہ دے دیا تھا کہ وہ انہیں تحریک انصاف کی قیادت سے دست بردار کرالیں گے۔ اور فوج مخالف بیانیے سے بھی باز رکھ سکیں گے۔ تاکہ وہ خاموشی سے مقدمات کا سامناکرکے خود کو ان معاملات سے نکالیں۔ لیکن عمران خان ابھی تک کوئی واضح جواب نہیں دے رہے۔عمران خان کے بے لچک رویے میں تھوڑی بہت لچک دکھائی دی، لیکن مکمل طور پر وہ ابھی بھی سمجھتے ہیں کہ عوامی مقبولیت انہیں سہارا دے گی اور الیکشن کے بعد بھاری اکثریت سے ایک مرتبہ پھر وہ حکومت بناسکیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے انہیں وضاحت کے ساتھ یہ بھی بتا دیا ہے کہ اگر وہ بدستور چیئرمین رہتے ہیں تو پھر الیکشن تو ہوں گے، لیکن وہ خود نااہل ہوکر گرفتار ہوسکتے ہیں۔ حالیہ ملاقات بھی کوئی زیادہ سود مند ثابت نہیں ہوئی کیونکہ عمران خان شاہ محمود قریشی پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ شاہ محمود قریشی نے عمران خان سے یہ تک کہہ دیا کہ یہ وقت جذباتی ہونے کا نہیں، بلکہ دانش مندانہ فیصلوں کا وقت ہے اور دانش مندی یہی ہے کہ آپ یا ملک سے باہر چلے جائیں یا پھر خاموش ہوجائیں۔ تاکہ معاملات معافی تلافی کے بعد ٹھنڈے ہوجائیں اور اداروں کے ساتھ جو سینگ پھنسائے ہوئے ہیں انہیں چھڑایا جاسکے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان شاہ محمود قریشی کے بجائے مراد سعید پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں اور انہوں نے شاہ محمود قریشی کو یہ بات کہی ہے کہ آپ سمیت تحریک انصاف کے دیگر بچھے کچھے رہنمائوں کو بھی معافی دے دی جائے، اس صورت میں اس بات پر سوچا جاسکتا ہے کہ میں خاموش ہوکر دست بردار ہوجائوں۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ وہ پارٹی کمان کسی اور کو دینا چاہتے ہیں۔چوہدری پرویز الٰہی کے سوال پر ذرائع کا کہنا تھا کہ عمران خان چوہدری پرویز الٰہی کو پارٹی قیادت سونپے کے حق میں نہیں ہیں۔ اگر وہ ہوں بھی تو بچے کھچے رہنما اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ لہٰذاچوہدری پرویز الہٰی تو کم از کم اس وقت اس دوڑ سے باہر ہیں۔ لیکن مراد سعیداور کسی حد تک حماد اظہر پر انہیں اعتماد ہے کہ ان دونوں میں سے اسٹیبلشمنٹ اگر کہے تو سوچا جاسکتاہے۔ لیکن فی الحال انہیں صرف شاہ محمود قریشی کا ہی آپشن دستیاب ہے۔حالیہ ملاقات بھی فی الحال تو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی لیکن امید ہے کہ اگلی ملاقات تک کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔ کیونکہ اب جو نیب کے مقدمات ہیں، اس میں صرف عمران خان کا ہی نہیں بلکہ اور بہت لوگوں کا سر بھی پھنسنے کا امکان ہے، جس سے عمران خان فرار حاصل نہیں کرسکیں گے۔
موجودہ صورتحال بارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر شاہ محمود قریشی کا کیا مستقبل ہو گا ابھی وہ خود بھی اس سے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ عمران خان نے اپنا اتنا بڑا ووٹ بینک غیر ذمہ دارانہ سیاست کی نذر کر دیا۔ اس وقت پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اسے بچانے کے لئے عمران خان کے پاس اب آخری کارڈ رہ گیا ہے کیونکہ اس سے قبل وہ اپنے سارے کارڈ عجلت میں ظاہر کر چکے ہیں۔ اگر وہ اپنے آپ کو سیاست سے الگ کر لیں تو صرف اسی صورت میں ان کی پارٹی بچ سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان اب بھی پراعتماد ہیں کہ حالات ان کے حق میں پلٹ جائیں گے۔ اللہ جانے انہوں نے کون سی ایسی کمیٹی ڈالی ہوئی ہے جو ابھی نکلنی ہے۔ اعتزاز احسن کی رائے ہے کہ عمران خان کو اسمبلیوں میں ہی رہنا چاہئیے تھا۔ نواز شریف اور مریم نواز ان کے ساتھ گیم کر گئے ہیں کہ اسمبلیوں سے استعفے دے کر انتخابات لے لیں۔ عمران خان کو انہی غیر جمہوری فیصلوں نے نقصان پہنچایا ہے۔
سینئر صحافی افتخار احمد کا کہنا تھا کہ موجودہ معاملات میں عمران خان جس حد تک انوالو ہو گئے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی ضرور ہو گی۔ اگر 9 مئی کے واقعات میں ملوث لوگوں کو سزا نہ دی گئی تو کل کلاں کوئی بھی گروہ اٹھ کر فوجی تنصیبات پر حملے کر سکتا ہے۔ اندیشہ ہے سول عدالتوں کا رویہ معاملات کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری عدلیہ کے ججوں پر عائد ہو گی۔انہوں نے کہا عمران خان کو چاہئیے تھا اپنے ووٹ بینک کی رہنمائی کر کے انہیں پولنگ سٹیشن تک لے جاتے، بجائے اس کے انہوں نے اسے چھاؤنیوں پر حملے کرنے کے لئے بھیج دیا۔ میں عمران خان یا کسی اور سیاسی رہنما کو پھانسی کی سزا دیے جانے کے خلاف ہوں، پارٹی کو کالعدم قرار دینے کے خلاف ہوں، تاہم عسکری املاک پر حملے میں ملوث ذمہ داران کو سزائیں ضرور ملنی چاہئیں۔
