انتقال سے قبل آخری بیان میں اقراء کائنات کےافشاں لطیف پر سنگین الزامات

ایدھی سنٹر میں پراسرار طور پر انتقال کرنے والی لڑکی کا موت سے قبل دیا گیا بیان سامنے آ گیا ہے. پولیس کو دئیے گئے اپنے آخری بیان میں اقراء کائنات نے کہا ہے کہ شوہر نے مجھے بلیچ پلایا، افشاں لطیف نے نہ صرف میری زبردستی شادی کروائی بلکہ عمر بھی زیادہ لکھوائی تھی.
اقراء کائنات نے انتقال سے قبل 17 دسمبر کو اپنا آخری بیان باغبان پولیس کو دیا تھا،پولیس کا کہنا ہے کہ اقراء کائنات نے اپنے آخری بیان میں کہا کہ اس کے شوہر نے اُسے بلیچ پلایا جس سے معدے میں انفیکشن ہوا،جبکہ کاشانہ کی سپرینٹنڈنٹ افشاں لطیف نے نہ صرف اس کی زبردستی شادی کروائی بلکہ عمر بھی زیادہ لکھوائی تھی،اس کی عمر صرف 14 سال ہے۔
اس حوالے سے تھانے کے ایس ایچ او قمر عباس کا کہنا ہے کہ جرم ان کے علاقے میں نہیں ہوا۔ متعلقہ تھانے میں رپورٹ بھیج دی ہے لہذا کاروائی کرنا ان کا کام ہے۔تاہم دوسری طرف سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے الزامات کی ترید کرتے ہوئے کہا کہ اقراء کائنات کی مرضی سےشادی ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سوشل وئیلفئیر کی اجازت کے بعد باقاعدہ شادی کی گئی جس کی تمام دستاویزات موجود ہیں۔
واضح رہے اقراء کائنات کے انتقال کے بعد اپنے ویڈیو بیان میں افشاں لطیف نے کہا تھا کہ ایدھی سنٹر کی انچارج معصومہ کی جانب سے اقرا ء کائنات کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا او ر اسے لا وارث قرار دے کر اس کی تدفین کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ اگر مبیںیہ معاملہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں نہ لاتی تو اب تک اقراء کائنات کو گمنامی کی حالت میں دفن کر دیا گیا ہوتا ۔ اقراء کائنات کی پوسٹمارٹم رپورٹ آنا ابھی باقی ہے ،میری ایدھی سنٹر کی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ انچارج معصومہ کو تحفظ دیا جائے کیونکہ وہ تمام واقعات کی گوا ہ ہے کہ اس نے کس کے کہنے پر اقراء کائنات کو ایدھی سنٹر میں لاوارث کے طور پر رکھا ، کس کے کہنے پر ڈیتھ سر ٹیفکیٹ جاری کیا گیا اور کس کے کہنے پر اسے لاوارث قرار دے کر تدفین کرنے کی تیاریاں مکمل کی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ میری ریاستی اداروں سے بھی اپیل ہے کہ کاشانہ سکینڈل کے تمام گواہوں کو تحفظ دیا جائے ۔
