قیدیوں کوجیون ساتھی سے تنہائی میں ملاقات کی سہولت دینے کا فیصلہ

حکومت نے اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو تنہائی میں جیون ساتھی سے ملاقات کیلئے سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے. اب
اڈیالہ جیل کے قیدی اپنے جیون ساتھی سے تنہائی میں مل سکیں گے۔
اڈیالہ جیل میں اس وقت گنجائش سے دو گنا قیدی موجود ہیں جب کہ قیدیوں کی سہولت کے لیے فیملی کوارٹر کی تعمیر نو ہو چکی ہے تاکہ قیدی اپنے میاں بیوی سے تنہائی سے مل سکیں گے۔ اس حوالے سے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا کہنا ہے کہ 2175 قیدیوں کی گنجائش والی اس جیل میں 5040 قیدی موجود ہیں۔ جبکہ قیدیوں کو ازدواجی حقوق کی ادائیگی کے لئے سہولت پہنچانے کا وعدہ ایفاء کرتے ہوئے جیل میں150کے قریب فیملی کوارٹرز تعمیر ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے طریقہ کار طے ہوتے ہی ملاقاتیوں کو اجازت دے دی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جیل میں تعلیمی مرکز کے علاوہ مرد و خواتین قیدیوں کے لیے ایک ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بھی بنایا گیا ہے۔
سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے مزید کہا کہ جیل میں 27 کے قریب فون موجود ہیں جہاں سے ہر قیدی ہفتہ میں 20 منٹ اپنے گھر والوں سے بات کر سکتا ہے۔تاہم یہ سہولت غیر ملکی قیدیوں کو حاصل نہیں ہے کیونکہ جیل سے ڈائریکٹ انٹرنیشنل کال نہیں ملائی جا سکتی ہے۔سزاؤں میں کمی کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا جیل میں قرآن پاک حفظ کرنے والے کو دو سال قید میں رعایت دی جاتی ہے۔ جبکہ ترجمہ کے ساتھ قرآن یاد کرنے والے قیدی کی تین سال کی سزا معاف ہوجاتی ہے۔قیدی جیل میں رہ کر ماسٹرز تک تعلیم بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ راولپنڈی کی سینٹرل جیل اڈیالہ مبینہ طور پرغریب اور لاوارث حوالاتیوں اور قیدیوں کے لئے گوانتاناموبے اور اہل ثروت ملزمان کے لئے عیاشی کا مرکز ہے، معمولی نوعیت کے ایک جرم میں 13دن تک اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل رہنے والے ملزم نے نام ظاہر نہ کرنے کی استدعا پر بتایا تھا کہ جیل میں نئے حوالاتیوں سے 24گھنٹے مشقت لی جاتی ہے جبکہ مشقت سے بچنے کے لئی5ہزار روپے کا ریٹ مقرر ہے۔ گھر سے آنے والے سامان کی وصولی کے لئے جیل انتظامیہ اور نمبردار قیدیوں کو 500روپے بھتہ دینا پڑتا ہے۔
