’’اننت امبانی کی شادی میں بھی گھڑی اور ہار کے چرچے


بھارتی ارب پتی تاجر مکیش امبانی کے چھوٹے بیٹے اننت امبانی کی شادی کئی حوالوں سے یادگار رہے گی، جس میں ایک اننت امبانی کی 15 کروڑ کی گھڑی بھی تھی، جسے دیکھ کر مارک زکربرگ کی اہلیہ دنگ رہ گئیں بلکہ اس گھڑی کا برانڈ اور ماڈل نمبر بھی دیکھا، تین روزہ پیر ویڈنگ تقریب میں دنیا بھر سے آئی امیر ترین شخصیات، عالمی رہنماؤں اور مشہور شخصیات نے شرکت کی۔15 کروڑ کی گھڑی جسے دیکھ کر مارک زکربرگ کی اہلیہ دنگ رہ گئیں، آننت کی پری ویڈنگ تقریبات میں شرکت کے لیے فیس بُک کے بانی مارک زکربرگ اور ان کی اہلیہ پریسیلا چن بھی انڈیا پہنچے تھے۔ایک وائرل ویڈیو میں زکربرگ اور ان کی اہلیہ پریسیلا اننت امبانی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اُن کے ’رچرڈ مل‘ ٹائم پیس (گھڑی) کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔پریسیلا کو اس موقع پر یہ کہتے سُنا جا سکتا ہے کہ ’آپ کی گھڑی بہت ہی شاندار ہے۔۔۔ بہت کول۔‘ اس کے بعد وہ کہتی ہیں کہ وہ بھی گھڑی خریدنا چاہتی ہیں اور آننت کی گھڑی کو پکڑ کر اس کا ماڈل اور برانڈ وغیرہ بھی دیکھنے کی کوشش کرتی نظر آئیں، مارک اور ان کی اہلیہ کی گھڑی کے متعلق گفتگو کے دوران آننت بہت محظوظ ہوتے دیکھے گئے۔انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق اس گھڑی میں ’آٹھ ہزار قیراط سونا اور ہیرے جڑے‘ ہوئے ہیں اور اس کی قیمت ’15 کروڑ‘ سے بھی زائد ہے یعنی رولز رائس کار سے بھی زیادہ۔انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق آننت کی واچ کلیکشن میں قیمتی ہیروں سے جڑی دیگر گھڑیاں اس سے بھی زیادہ مالیت کی ہیں۔جہاں آننت اپنی مہنگی واچ کلیکشن کے لیے جانے جاتے ہیں تو اُن کی والدہ نیتا امبانی کا زیورات کے انتخاب میں کوئی ثانی نہیں اور ہو بھی کیسے، بھئی وہ ایشیا کے امیر ترین اشخاص میں سے ایک ہی اہلیہ ہیں۔ اپنے چھوٹے بیٹے کی شادی کی تقریبات میں نیتا امبانی نے زمرد اور ہیروں کا ہار پہن رکھا ہے۔ انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کی مالیت تقریباً ’500 کروڑ‘ بتائی جا رہی ہے۔زمرد سے جڑے ہیروں کے ہار کے ساتھ نیتا نے شاندار بالیاں، چوڑیاں اور انگوٹھیاں بھی پہن رکھی ہیں۔انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق ’نیتا امبانی کے ہار پر جڑے سبز پتھروں کی قیمت تقریباً 400 سے 500 کروڑ روپے کے درمیان ہے، شادی کی شاندار تقریبات، گھڑیوں اور زیوارت کے علاوہ جو معاملہ خبروں میں ہے وہ ہے ریلائنس گروپ کا پرائیویٹ چڑیا گھر۔ریلائنس گروپ نے گجرات کے جام نگر میں ’ونتارا‘ کے نام سے ایک بہت بڑی سکیم کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد جنگلی جانوروں کی دیکھ بھال اور تحفظ بتایا جاتا ہے۔اس پروجیکٹ کو ’ریلائنس گروپ کا نجی چڑیا گھر‘ کہا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ہاتھیوں سمیت دیگر کئی اقسام کے جنگلی جانوروں کو رکھا گیا ہے۔ انڈیا کی عدالتوں میں اس منصوبے کے خلاف مفاد عامہ کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک درخواست میں آننت امبانی کے شادی سے پہلے کی تقریبات میں انڈیا اور بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کو جنگلی جانور دکھانے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ساتھ ہی ایک اور درخواست میں ملک کے مختلف کونوں سے جانوروں کو جام نگر بھیجنے پر اعتراض کیا گیا ہے۔ریلائنس گروپ کا کہنا ہے کہ جام نگر میں تین ہزار ایکڑ پر ایک سہولت تیار کی گئی ہے، جس کا بڑا رقبہ ہاتھیوں کے لیے ہے۔ ہاتھیوں کے لیے خصوصی طور پر بنائے گئے اس سینٹر میں 200 سے زائد ہاتھی رکھے جائیں گے۔ان ہاتھیوں کی دیکھ بھال کے لیے 500 سے زائد تربیت یافتہ ملازمین کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان میں جانوروں کے ڈاکٹر، ماہر حیاتیات، پیتھالوجسٹ اور نیوٹریشنسٹ وغیرہ شامل ہیں۔دیگر جانوروں کے لیے 650 ایکڑ پر بچاؤ اور بحالی کا مرکز بنایا گیا ہے۔اس میں انڈیا کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے بچائے گئے جانوروں کے علاج اور بحالی جیسے انتظامات کئے جائیں گے۔ اس سینٹر میں 2100 سے زائد ملازمین کو تعینات کیا گیا ہے۔ ریلائنس گروپ نے بتایا ہے کہ اس ریسکیو سینٹر میں 300 سے زیادہ چیتے، شیر، شیر اور جیگوار وغیرہ ہیں۔ اس کے ساتھ 300 سے زیادہ ہرن اور 1200 سے زیادہ رینگنے والے جانور جیسے مگرمچھ، سانپ اور کچھوے ہیں۔ اس طرح 43 انواع کے جانوروں کی کل تعداد 2000 سے زیادہ ہے، ریلائنس گروپ کے اس پروجیکٹ کو لے کر سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل دیکھے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اسے انڈیا کا پہلا نجی چڑیا گھر قرار دے رہے ہیں۔

Back to top button