انٹر بینک میں ڈالر 269.50 کا ہوگیا، سٹاک مارکیٹ میں مندی رہی

پاکستان کو آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک فنانشل پالیسی کا مسودہ موصول ہونے کے بعد اگلے ہفتے واشنگٹن سے آن لائن مذاکرات جاری رہنے جیسے عوامل کے باعث جمعہ کو بھی ڈالر بیک فٹ پر رہا جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 270 روپے سے بھی نیچے آگئے جبکہ اوپن ریٹ 273 روپے کی سطح پر آگئے۔

انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ایک موقع پر ڈالر کی قدر 55 پیسے بڑھ گئی تھی لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی کا پہلا اقدام مکمل ہونے کے بعد آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری اور قرضے کی قسط کا اجراء یقینی ہونے سے ڈالر دوبارہ بیک فٹ پر آگیا۔

ایک موقع پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 2 روپے کی کمی سے 268.50 روپے پر بھی آگئے تھے لیکن کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1.22 روپے کی کمی سے 269.28 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 50 پیسے کی کمی سے 273 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

دوسری جانب کاروباری   ہفتے کے آخری روز سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رحجان رہا، ایک وقت میں ہنڈریڈ انڈیکس 802 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 41 ہزار 663 پر بھی دیکھا گیا لیکن کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 729 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 41 ہزار 741 پر بند ہوا۔

ادھر کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس کی طرح کے ایس ای 30 اور آل ٹائم سیئرز انڈیکس میں بھی کمی دیکھی گئی۔جمعے کے روز 335 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جس میں سے 245 کمپنیوں کے شیئرز کے دام میں کمی ، 73 کے بھاؤ میں اضافہ اور 17 کمپنیوں کے حصص کے دام میں استحکام رہا۔

سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجہ آئی ایم ایف سے ڈیل میں تاخیر ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار گھبراہٹ کا شکار ہیں۔

Back to top button