انڈیا افغانستان سے امریکی انخلا پر پاکستان سے شاکی کیوں؟

کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد اب جبکہ امریکی افواج افغانستان چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہیں تو انڈیا کو افغان طالبان کے عروج اور پاکستان اور چین کے کردار پر خدشات ستانے لگے ہیں جس کا اس نے برملا اظہار شروع کر دیا ہے۔
یاد رہے امریکی فوجیوں کے افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ 2020 میں دوحہ میں امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے معاہدے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس کا باضابطہ اعلان رواں سال اپریل میں اس وقت کیا گیا جب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکی فوجی 11 ستمبر تک واپس آ جائیں گے۔ 11 ستمبر 2021 کو امریکہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی 20 ویں سالگرہ بھی ہے۔ ستمبر 2001 کے اس حملے کے بعد ہی امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ اب امریکی فوج کے انخلا کے سلسلے میں انڈیا کا کہنا ہے کہ اس کی افغانستان میں جاری سرگرمیوں پر نگاہ ہے اور وہ پاکستان اور چین پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انڈیا کی یہ بے چینی خطے میں امریکہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہے۔ ان کے مطابق انڈیا کے خدشات افغانستان میں عدم استحکام، طالبان کے عروج اور ان سب کے درمیان پاکستان اور چین کے کردار سے وابستہ ہیں۔ اب جبکہ امریکی فوجی افغانستان سے جا رہے ہیں تو انڈیا کو افغانستان میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ نظر آ رہا ہے۔
اس حوالے سے تجزیہ کار اویناش پالییوال نے بی بی سی کو بتایا کہ کابل میں پاکستان کی بڑھتی مداخلت سے افغانستان میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ انڈیا کی ایک بڑی تشویش طالبان کی طاقت میں ممکنہ اضافہ بھی ہے۔ ایسی صورتحال میں افغانستان ایک بار پھر شدت پسندوں کا اڈہ بن سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں قومی سلامتی کونسل کی رکن لیزا کرٹس کے مطابق ‘افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے خطے کے ممالک خصوصا انڈیا کو افغانستان میں طالبان کے مضبوط ہونے کے بارے میں تشویش ہو گی۔’ اور اس کی معقول وجوہات بھی ہیں۔ سنہ 1990 کی دہائی میں طالبان نے لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی شدت پسند تنظیموں کے ایسے لوگوں کو منتخب کیا تھا جو انڈیا مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ ان میں سنہ 1999 میں ایک انڈین طیارے کا اغوا اور سنہ 2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر حملہ شامل ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انڈیا کے خدشات میں انٹیلیجنس سے موصول ہونے والی معلومت کے باعث بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان میں معلوم ہوا ہے کہ امریکی فوجیوں کے انخلا کی صورت میں شدت پسند تنظیمیں بڑی تعداد میں افغانستان کا رخ کر رہی ہیں۔ افغانستان میں تشدد میں اضافے کی صورت میں طالبان کی طاقت میں اضافے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
یورپین تجزیہ کار الزبتھ روچے کے مطابق افغانستان میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ سنہ 2019 میں جنرل بپن راوت جب انڈین بری فوج کے سربراہ تھے تو انھوں نے افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب انڈیا طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات نہ رکھنے کی پالیسی اپنائے ہوئے تھا۔ انڈیا طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے گریز کرتا رہا ہے لیکن افغانستان کے بارے میں ماسکو امن کانفرنس میں انڈیا نے ایک غیر سرکاری ٹیم بھیجی تھی۔ گذشتہ سال دوجہ میں ہونے والے اجلاس میں انڈین وزیر خارجہ ایس کے جے شنکر شامل ہوئے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا اپنی سابقہ پوزیشن سے علیحدہ نرم مؤقف اختیار کر رہا ہے۔ انڈیا کو یہ بڑا خدشہ لاحق ہے کہ امریکہ کی واپسی کے بعد افغانستان میں پاکستان کی سیاسی مداخلت میں اضافہ ہو گا۔ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے طالبان سے تعلقات ہیں لیکن وہ شدت پسندوں کی حمایت کرنے کے الزام سے انکار کرتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی سیاست میں پاکستان کا ایک اہم کردار ہو گا اور اس کی وجہ اس کی جغرافیائی، مذہبی اور نسلی قربت ہی نہیں ہے بلکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ بھارت کو جواب دینے کے لیے ان قوتوں کو انڈیا کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ بہرحال یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان ایک خستہ حال معیشت سے دوچار ہے۔ جون میں آئی ایم ایف اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان کے بارے میں جائزہ لینے والی ہے۔ لہازا ایسے میں وہ افغانستان میں ایسی سرگرمیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے جن سے ایف اے ٹی ایف میں اس کی مشکلات میں اضافہ ہو۔
لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس معاملے میں چین کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جو سی پیک پروجیکٹ کی وجہ سے پہلے ہی ایک دوسرے کے کافی قریب آچکے ہیں اور دونوں کے ہیں بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں۔ لہازا افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان اور چین کے مابین باہمی اتحاد کی وجہ سے انڈیا کے لیے صورتحال کشیدہ ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب افغانستان اور انڈیا مضبوط شراکت دار ہیں۔ انڈیا نے افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں ایک ہسپتال، تعلیمی ادارہ اور افغان پارلیمنٹ کی عمارت شامل ہے۔ ایسی صورتحال میں انڈیا کو امریکی افواج کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد اپنے مفادات کا تحفظ ستا رہا ہے۔ لہازا وہ طالبان سمیت تمام بڑے شراکت داروں سے رابطے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن مسئلہ یہ یے کہ طالبان پاکستان کے ذیادہ قریب ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ افغان حکومت کو طالبان کے خلاف بھارت کی حمایت حاصل ہے۔
