’’اوئے موٹی‘‘ نامی ڈرامہ خواتین میں مقبول کیوں؟

پاکستانی خواتین میں باڈی شیمنگ کا مسئلہ تیزی سے سر اٹھا رہا ہے، خاص طور پر بھاری جسامت کی خواتین لوگوں کے طعنوں کے باعث گھروں سے نکلنا ہی بند کر دیتی ہیں، انہی مسائل کی عکاسی کرتی ڈرامہ سیریل ’’اوئے موٹی‘‘ آج خواتین کی۔مقبولیت کا مرکز بنا ہوا ہے۔موٹاپے کی وجہ سے باڈی شیمنگ ایک ایسا موضوع ہے جس پر اب مختلف پلیٹ فارمز سے مختلف انداز میں بات ہو رہی ہے، اس حوالے سے یہ سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک عورت کا موٹا ہونا اس کی تمام اچھائیوں کو ختم نہیں کر دیتا۔ یہ بھی بتایا گیا یے کہ موٹی کہنے سے عورت کی عزت نفس کس طرح مجروح ہوتی ہے۔
ڈراما سیریز’اوئے موٹی‘ ایکسپریس ٹی وی سے نشر ہو رہی ہے، اسکی کہانی ایک ایسی ہی لڑکی کی ہے جس کو اپنے زیادہ صحت مند ہونے کی وجہ سے گھر والوں، آس پاس والوں کے نرم گرم لہجوں میں مذاق سننا پڑتے ہیں جسے کبھی تو وہ دل برداشتہ ہو جاتی ہیں کبھی با حوصلہ ہو جاتی ہیں۔ یہ ڈرامے کا دوسرا سیزن یے۔ پہلے سیزن کی طرح اس سیزن میں بھی ڈرامے کا اختتام مثبت انداز سے ایک پیغام چھوڑتے ہوئے کیا جا رہا ہے کہ جو جیسا ہے، اس کو ویسا ہی قبول کرنا اصل تعلق اور ظرف ہے۔ اس کو بدل کر دوسروں جیسا بنا کر قبول کرنا تو اس کی ذات کو مسخ کر دینے والی بات ہے۔ ممکن ہے کسی عورت کا جسم ہی ویسا ہو، ممکن ہے شادی کے بعد کسی بیماری سے ہو گیا ہو، ممکن ہے لاعلاج مرض ہو، لہٰذا باڈی شیمنگ سے صاف ایک لب و لہجہ اور معاشرہ تشکیل دینے کی ایک ننھی سی سعی ہے۔ڈرامے کی پہلی قسط شادی سے پہلے سے موٹاپے کے مسائل پر مبنی ہے۔ اس میں ظفر کو اپنی کزن صائمہ اس لیے پسند نہیں کہ وہ ذرا پھیلے ہوئے جسم کی ہے۔ اس کو اپنی دفتر کی باس پسند ہے جو بہت دبلی پتلی ہے۔
اس کا دوست سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ غلط سوچ رہا ہے لیکن اس کو سمجھ نہیں آتی۔ آخر اس کی اماں اس کی شادی اپنی بہن کی بیٹی کے ساتھ کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں اور وہ سہاگ رات کو ہی خواب میں دیکھتا ہے کہ اس کی شادی اس کی باس کے ساتھ ہو گئی ہے جو اسے شادی کے بعد سارے گھر کا کام کروانے کے بعد دفتر کا کام کرنے پہ بھی مجبور کرتی ہے۔ بس ایک خواب اس کی زندگی بدل دیتا ہےاور اسے اپنی کزن کی قدر ہو جاتی ہے۔ یہ ڈراما ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں لکھا گیا ہے۔ ڈرامے کی دوسری قسط میں بھی ایک خاندان کی کہانی ہے۔
میاں بیوی اور انخے دو بچے ہیں۔ لیکن شادی کے بعد لڑکی موٹی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ بات بات پہ اس کا شوہر طنز کرتا ہے لیکن اس کا بیٹا جو ٹین ایج میں ہے، بھانپ جاتا ہے کہ اس کی ماں کی دل آزاری ہو رہی ہے، شوہر اس کو کسی محفل میں ساتھ لے جانے کو تیار نہیں ہوتا۔ اس کا بیٹا اپنی ماں کے ٹیلنٹ کو تلاش کر لیتا ہے کہ وہ بہت اچھا کھانا بناتی ہے۔ وہ ماں کا یوٹیوب چینل بناتا ہے جو بہت ہٹ ہو جاتا ہے۔ ٹی وی شوز پر اسے بلایا جانے لگتا ہے۔ یوں اب وہ بطور کوکنگ ایکسپرٹ کے اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے جسے اس کا اپنی ذات پر اعتماد بھی بحال ہوتا ہے اور اس کے وہی رشتے جو اس کو شرمندگی کا باعث سمجھتے تھے انہی کے لیے وہ باعث فخر ہو گئی ہے، پہلا سیزن تو بہت مقبول رہا۔ اب دیکھتے ہیں دوسرا سیزن کیسا رہے گا۔
اس ڈرامہ سیریز کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ مرد ہو یا عورت ان پر ایک وقت آتا ہے جب ظاہری پن ان کا ساتھ چھوڑنے لگتا ہے۔ شادی کے بعد اور خصوصی بچے ہونے کے بعد عورت اور مرد دونوں میں جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس تبدیلی کو قبول کرنا حقیقت پسندی ہے جو ہمیں کسی نفسیاتی عارضہ سے بچا کر ،دوسرے کو بھی نفسیاتی مریض بننے سے بچا لیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دینا چاہئے کہ کچھ وجوہات خود ساختہ بھی ہیں جن سے ہم کو خود لڑنا ہے ورنہ بنیادی طور پر یہ ایک غیر صحت مند علامت ہے، بس یہ تھیم سانگ ڈراموں کا ون لائنر ہے اور اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہے، صحت مند رہیے۔ جان ہے تو جہاں ہے۔
