اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ووٹ ڈالنا مشکل کیوں ہو گا؟

اگلے انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق مل جانے کے بعد کئی اہم سوالات کیے جا رہے ہیں لیکن ایک بڑا سوال یہ ہے کہ ان کی جانب سے بیرون ملک کاسٹ کیا جانے والا ووٹ کس حلقے میں شمار ہوگا؟ اصولا تو دیار غیر میں مقیم پاکستانی جس حلقے کے ووٹر کی حیثیت سے خود کو رجسٹرڈ کریں گے، انکا ووٹ بھی اسی حلقے میں شمار ہونا چاہیئے، لیکن کچھ بنیادی سوال یہ ہیں کہ کیا ان کی ووٹرز لسٹیں بنیں گی؟ ووٹ ڈالنے کے لیے کون سی ٹیکنالوجی استعمال ہو گی اور ووٹ کہاں ڈالے جائیں گے؟ سوال یہ بھی ہے کہ دنیا کے 115 ممالک میں مقیم ایک کروڑ پاکستانیوں کے لیے کیا خود کو رجسٹرڈ کروانا اور پھر الیکشن والے دن اپنا حلقہ ڈھونڈ کر ووٹ ڈالنا ممکن ہوگا۔
یاد رہے کہ گذشتہ مہینے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے بیرون ملک پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے ووٹ کا حق اور انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے متعلق قانون سازی کر دی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے کے بعد آئندہ عام انتخابات میں دنیا کے 115 ممالک میں مقیم تقریباً ایک کروڑ تارکین وطن میں سے اہل بالغ افراد رائے دہی کا استعمال کرسکیں گے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے میڈیا ڈائریکٹر ہارون خان شنواری کے مطابق کمیشن کی تکنیکی ٹیم اس سلسلے میں مختلف آپشنز دیکھ رہی ہے اور ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم اوورسیز ووٹنگ سے متعلق سب سے اہم سوال یہی پوچھا جا رہا ہے کہ بیرون ملک ڈالا جانے والا ووٹ کس حلقے میں شمار ہوگا؟ نادرا کے اعدادو شمار کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا تعلق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ ملک کے 136 اضلاع سے ہے۔ مذکورہ اضلاع میں 200 سے زیادہ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سینکڑوں حلقے ہیں۔
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ بیرون ملک مقیم کسی پاکستانی کا ووٹ کس حلقے میں شمار ہوگا، ماہرین کا کہنا تھا کہ اس کے دو امکانات ہیں۔ پہلا یہ کہ دیار غیر میں موجود پاکستانی جس حلقے کے ووٹر کی حیثیت سے خود کو رجسٹرڈ کریں گے، ان کا ووٹ اسی حلقے میں شمار ہو، جبکہ دوسری صورت میں ووٹ شناختی کارڈ پر درج پتے کے مطابق متعلقہ حلقے میں کاؤنٹ کیا جائے گا۔ تاہم دوسری بہت ساری تکنیکی پیچیدگیوں کی طرح اس گتھی کو بھی الیکشن کمیشن کی کمیٹیوں نے سلجھانا ہے اور حتمی طریقہ رپورٹس مرتب ہونے کے بعد ہی منظر عام پر آسکے گا۔
نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور اس کے زیر انتظام علاقوں اور ریجنز سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم شہریوں کی کل تعداد ایک کروڑ 74 لاکھ چار ہزار 500 ہے۔ یہ تعداد بیرون ملک ان پاکستانی شہریوں کی ہے، جنہیں نادرا نے نائیکوپ جاری کیا ہوا ہے۔ نائیکوپ یا نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز (NICOP) وہ کارڈ ہے، جو نادرا بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں، تارکین وطن، شہریوں یا دوہری شہریت والے پاکستانیوں کو شناخت کے ثبوت کے طور پر جاری کرتا ہے۔ تاہم دیار غیر میں رہائش پذیر پاکستان کے چار صوبوں اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے جن پاکستانیوں نے نادرا سے نائیکوپ حاصل کر رکھا ہے، ان کی مجموعی تعداد 99 لاکھ 63 ہزار 866 ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے گذشتہ سال جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 11 کروڑ ہے، یعنی ملک کی تقریباً نصف آبادی ووٹرز فہرستوں میں شامل ہے۔ اس فارمولے کے تحت بیرون ملک مقیم ہم وطنوں کی کل تعداد کا نصف 18 سال اور زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہو سکتا ہے اور یوں انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد لگ بھگ 50 لاکھ ہو سکتی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ووٹرز لسٹیں بنیں گی؟
یہ بھی پڑھیں: اومی کرون وائرس کی آمد نے خوف کی فضا پیدا کر دی
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذرائع کے مطابق پاکستانی دنیا کے ایک سو سے زیادہ ملکوں میں رہائش پذیر ہیں اور ان کو ووٹرز کی حیثیت سے رجسٹر کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ کمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل برائے میڈیا ہارون خان شنواری نکے مطابق ان تمام معاملات کا جائزہ لینے کے لیے تین کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، جو آئندہ ایک مہینے میں اپنی رپورٹس پیش کریں گی۔تاہم بعض ماہرین کے خیال میں الیکشن کمیشن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ووٹرز لسٹیں تیار کرنے کے لیے نادرا سے مدد حاصل کر سکتا ہے۔ فی الوقت یہ بھی نہیں معلوم کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے پولنگ سٹیشنز پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں قائم کیے جائیں گے، یا دنیا کے ہر اس شہر میں جہاں پاکستانی موجود ہیں ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی جائے گی؟ اور یا پاکستانی ووٹرز اپنے گھر پر بیٹھے بیٹھے ہی حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں گے؟ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے اور اسی وجہ سے اسے انٹرنیٹ ووٹنگ بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اپنے ملک سے ہزاروں میل دور موجود پاکستانی کیسے ووٹ ڈالیں گے؟ سافٹ ویئر انجینیئر عباس حیدر کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن موبائل ایپ بھی بنا سکتی ہے، جسے ہر ووٹر اپنے موبائل پر ڈان لوڈ کرکے ووٹ ڈالنے کے لیے استعمال کرے۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ یا کسی دوسری ویب سائٹ کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں ووٹرز سائن اِن کرکے ووٹ ڈالیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے تمام ووٹرز کی تفصیلات کا اس موبائل ایپ یا ویب سائٹ کے ڈیٹا بینک میں موجود ہونا ضروری ہوگا۔
