اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں کمی کیوں آنے لگی؟

روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اب اوورسیز پاکستانیوں کو زیادہ رقم بھیجنا نہیں پڑتی ہے بلکہ جو رقم وہ آج سے تین سال قبل بھیج رہے تھے، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے وہ رقم بڑھنے کی بجائے مزید کم ہو گئی ہے جس سے ملک میں بھیجی جانیوالی مجموعی ترسیلات زر میں نمایاں کمی آئی ہے۔
مجھے آج بھی اپنی فیملی کا اتنا ہی احساس ہے جتنا ایک سال پہلے تھا، لیکن اب مجھے زیادہ پیسے پاکستان بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی، میں اب اگر دو، اڑھائی سو پاؤنڈز بھی بھیج دوں تو وہ تقریباً اتنے ہی پاکستانی روپے بنتے ہیں جتنے ایک سال پہلے چار سو پاؤنڈز بھیجنے پر بنتے تھے، پچھلے ایک سال میں پاکستانی روپے کی جتنی قدر گِری ہے، اس نے میرے لیے چیزیں کچھ آسان کر دی ہیں اور میں اگر کم پاؤنڈز بھی بھیجوں تو پاکستان میں موجود میرے خاندان کا گزارہ چل جاتا ہے۔
عمر کریم گذشتہ چار سال سے برطانیہ میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور ماضی کی نسبت پاکستان میں موجود اپنے خاندان کو برطانیہ سے کم پیسے بھیجنے کی وجہ انھوں نے کچھ اس طرح بیان کی۔ عمران خان کی حکومت کے جانے کے بعد جس طرح کے حالات رہے ہیں تو میرے جیسے بہت سے لوگ یہ سوچ کر بھی کم پیسے پاکستان بھیج رہے ہیں کہ ابھی روپیہ مزید گرے گا تو ایسے وقت میں پیسے بھیج کر اپنا نقصان کیوں کرنا، تھوڑا انتظار کرتے ہیں، زیادہ پیسے ملیں گے۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی معیشت بظاہر جمود کا شکار ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی بحالی کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی، سٹیٹ بینک کے پاس موجود ڈالرز صرف ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں جبکہ جون 2023 کے اختتام تک پاکستان کو 3.7 ارب ڈالرز کی بیرونی ادائیگیاں بھی کرنی ہیں تو اسی دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھی پاکستان رقوم بھجوانے کے سلسلے میں کمی واقع ہوئی ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں ترسیلات زر میں پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، پچھلے مالی سال کے پہلے دس ماہ میں ترسیلات زر 26.1 ارب ڈالرز تھیں جوکہ رواں برس اسی دورانیے میں کم ہو کر 22.7 ارب ڈالرز رہ گئی ہیں، ماہرین کے مطابق ترسیلات زر میں یہ کمی آنے والے دنوں میں پاکستان کی معاشی مشکلات میں مزید اضافے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا سمجھتے ہیں کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے ناصرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے کم رقوم پاکستان بھیجی ہیں بلکہ روپے کی قدر کو لے کر جو بے یقینی ابھی بھی پائی جا رہی ہے وہ آنے والے دنوں میں بھی مزید مشکلات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر حفصہ حنا پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کرتی ہیں، اُن کے مطابق معاشی صورتحال کے علاوہ ملک میں چھائی سیاسی بے یقینی بھی ترسیلات زر میں کمی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے، شہباز رانا کے مطابق اس وقت ترسیلات زر میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں ڈالر کے ریٹ کا فرق بھی ہے۔
پچھلے مالی سال کے پہلے دس مہینوں کے مقابلے میں اس سال ترسیلات زر 3.4 ارب ڈالرز کم رہی ہیں، اور اس کمی میں سب سے زیادہ حصہ مڈل ایسٹ یعنی سودی عرب اور یو ای اے سے بھیجی جانے والی رقوم کا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق رواں برس گذشتہ سال کے مقابلے میں ان ممالک سے بھیجی جانے والے رقوم 2.5 ارب ڈالرز کم رہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق رواں برس مارچ اور اپریل کے مہینوں میں بیرون ملک سے ترسیلات زر میں پچھلے چند ماہ کے مقابلے میں حوصلہ افزا اضافہ نظر آ رہا ہے، لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کیا یہ رجحان مستقل بنیادوں پر جاری رہتا ہے یا یہ اضافہ صرف عید الفطر کے تہوار کی وجہ سے ہوا تھا۔
ماہرین معیشت کا خیال ہے کہ اس وقت جس طرح کے پاکستان کے معاشی حالات ہیں پاکستان کے لیے ایک ایک ڈالر بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ ملکی خزانے میں صرف چار ارب 38 کروڑ ڈالرز کے ذخائر موجود ہیں اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں دو ماہ میں تین ارب 70 کروڑ ڈالر ادا کرنے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق ترسیلات زر کو بڑھانے کیلئے حکومت کو نا صرف حوالہ، ہنڈی کے متعلق کام کرنے کی ضرورت ہے بلکہ سیاسی استحکام لانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔
