تحریک انصاف چھوڑنے ولوں کو اپنے انجام پر رونا کیوں آیا؟

نو مئی کو پاکستان تحریک انصاف کی دہشت گردی کے بعد ٹکر کے لوگوں کی پارٹی کے لگ بھگ ستر رہنما اب تک عمران خان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں . ان میں عمران خان کی خواہش پر پارٹی جلسوں میں مخالفین کا ٹھٹہ اڑانے والے گلوکار ابرار الحق اور سابق صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے تو آنسوؤں سے روتے ہوۓ پارٹی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا ان لوگوں نے تو بظاہر پی ٹی آئی کے فلسفہ سیاست اور عمران خان کی شخصیت سے پیار کیا تھا۔ محبت و اُلفت کا مگر یہ انجام دیکھ کر لوگوں کو شکیل بدایونی کی معروفِ عالم غزل، جسے گلوکارہ اختری بیگم نے خوب گایا ہے، شدت سے یاد آ ئی ہے : ’’اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا، جانے کیوں آج تیرے نام پہ رونا آیا۔‘‘ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے پُر جوش کارکنوں نے اپنے ملک سے محبت کو اپنے قائد کی محبت پر ترجیح دی ہوتی تو آج ساٹھ سے زائد پی ٹی آئی کے معروف وابستگان پارٹی سے دُوری اختیار کرنے پر مجبور نہ ہوتے.مگر اب تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ اس صورت حال پر سینئر صحافی اور تجزیہ کار تنویر قیصر شاہد نے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف المعروف ’’پی ٹی آئی‘‘ یوں تیزی کے ساتھ تحلیل ہو رہی ہے جیسے بتاشہ پانی میں گھل جاتا ہے۔اب تک پی ٹی آئی کے پانچ درجن سے زائد سابق وفاقی و صوبائی وزرا، سابق ارکانِ اسمبلی اور معروف الیکٹ ایبل سیاسی شخصیات پی ٹی آئی اور عمران خان سے اپنا ہر قسم کا تعلق و ناتا منقطع کر چکی ہیں۔اِس قطعِ تعلق کی بنیادی ذمے داری براہِ راست عمران خان پر ڈالی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی اور عمران خان کے سیکڑوں، ہزاروں عشاق نے 9مئی کو ملک، قوم اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نفرت کی آگ نہ دہکائی ہوتی اور ریاستی تحکم و استحکام کی نشان قابلِ فخر عمارات کی بے تحاشہ توہین نہ کی ہوتی تو شائد پی ٹی آئی آج آزمائش کی بھٹّی سے بھی نہ گزر رہی ہوتی۔ پی ٹی آئی کارکنان نے اپنے قائد کی مبینہ شہ پر یہ آتشیں اور دلفگار اقدامات کرنے کی مجرمانہ جسارت کیوں کی ؟ جواب یہ ہے کہ ریاست نے جب عمران خان کے دَور میں ٹی ایل پی کی یلغار معاف کر دی، ریاست جب 6پولیس اہلکاروں کی لاشیں دفنا کر بھُول گئی تو پھر پی ٹی آئی یہ جسارت کیوں نہ کرتی؟ یہ مزید آگے کیوں نہ بڑھتی . پی ٹی آئی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہنے اور پی ٹی آئی سے نکلنے والا ہر ذمے دار شخص اپنی اپنی پریس کانفرنس میں کبھی واضح الفاظ میں اور کوئی بین السطور الزام عائد کررہا ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران عمران خان نے اپنے پیروکاروں اور عشاق کی جو تربیت و پرداخت کی، اس کا فطری نتیجہ یہی نکلنا تھا جو9مئی کو نکلا۔ اس مہلک و شرمناک نتیجے کی باز گشت ساری دُنیا میں سنائی دی گئی ہے۔ بھارت خاص طور پر ہمارا مذاق اور ٹھٹھہ اُڑا رہا ہے۔ دشمن کو تو ایسے مواقعے ملنے چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے کا رکنان اور لیڈروں نے، اپنے مطلق قائد کے اندھے عشق میں،یہ مواقع دانستہ پیدا کیے ۔ اب اِس کی سزا بھی بھگت رہے ہیں۔ کوئی فرار ہو رہا ہے اور کوئی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہُوئے توبہ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ تنویر قیصر لکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی سے تائب ہونا اور عمران خان کی محبت کا جُوا گلے سے اُتارنے کے مناظر قابلِ دید و قابلِ عبرت ہے۔ اگر پی ٹی آئی کے پُر جوش کارکنوں نے اپنے ملک سے محبت کو اپنے قائد کی محبت پر ترجیح دی ہوتی تو آج 2درجن سے زائد پی ٹی آئی کے معروف وابستگان پی ٹی آئی سے دُوری اختیار کرنے پر مجبور نہ ہوتے . اب مگر تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہُوئے ریاست نے اگر اب بھی9مئی کے ذمے داروں کو انجام تک نہ پہنچایا تو ہمیں کسی اگلی بڑی قیامت کا سامنا کرنے کے لیے ابھی سے تیار ہو جانا چاہیے ۔ ہمیں قطعی توقع نہیں تھی کہ پی ٹی آئی کے کئی سینئر اور جیالے وابستگان گرم ہوا کے پہلے جھونکے ہی پر یوں تیزی سے مرجھا جائیں گے۔ پنجاب، کے پی کے اور سندھ میں پی ٹی آئی کے جلد مرجھا جانے والے اِن گُل بُوٹوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔
زیادہ حیرت راولپنڈی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے 2مرکزی رہنماؤں فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر شیریں مزاری پر ہے جنھوں نے بھری پریس کانفرنس میں عمران خان اور پی ٹی آئی سے قطع تعلقی کا اعلان کیا ہے۔ دونوں نے عمران خان کے دَور میں وزارتوں کے مزے لیے۔ فیاض الحسن چوہان نے صوبائی وزارت سے اور مزاری صاحبہ نے وفاقی وزارت سے۔ فیاض الحسن چوہان وزارت کے ایام میں اپنے سیاسی حریفوں کے بارے میں جو ’’بیباک‘‘ زبان استعمال کرتے رہے، اب پی ٹی آئی سے قطع تعلقی کرتے ہُوئے اِس کا ذمہ اور بوجھ بھی عمران خان پر ڈال رہے ہیں۔ اِس پر افسوس ہے۔ تنویر قیصر شاہد کہتے ہیں کہ 67سالہ ڈاکٹر شیریں مزاری صاحبہ نے، جس طرح بجھے دل اور بجھی آنکھوں کے ساتھ، پی آٹی آئی ، سیاست اور عمران خان کو خیرباد کہا ہے، یہ منظر خاصا دلگیر تھا۔ مزاری صاحبہ پی آٹی آئی اور عمران خان صاحب کی سیاسی زندگی کے اوّلین ایام کی معتمد و متحرک ساتھی تھیں۔ دو بار پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے رکن قومی اسمبلی بھی بنائی گئیں۔ گزشتہ چند ایام کے دوران باربار کی گرفتاریوں نے اُن کے اعصاب شل کر دیے۔ بے حسی کی بات یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے شیریں مزاری کی گرفتاریوں پر کوئی احتجاج اور ٹویٹ کرنے کا تکلّف بھی نہ کیا؛ چنانچہ اِس پس منظر میں شیریں مزاری کی وکیل صاحبزادی، ایمان مزاری صاحبہ، نے بجا طور پر ردِ عمل دیتے ہُوئے کہا: عمران خان کو بس اپنی اور اپنی بیوی کی پڑی ہُوئی ہے ۔‘‘یہ احتجاج بے بنیاد نہیں تھا۔ پی ٹی آئی کے کئی زیر حراست لیڈروں بارے عمران خان کے تغافل نے سب کو حیرت میں مبتلا کررکھا ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے اِس ’’تغافل‘‘ پر سخت احتجاج کیا ہے ۔

انگلینڈ اور امریکہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قائد اعظم یونیورسٹی(اسلام آباد) کی سابقہ استاد پروفیسر ڈاکٹر شیریں مزاری کا پی ٹی آئی اور عمران خان کے حلقہ اثر سے قطعی نکل جانا مقامِ عبرت ہے۔ مقامِ افسوس بھی۔ کس قدر اخلاص کے ساتھ اور جی جان سے شیریں مزاری صاحبہ نے پی ٹی آئی کے فلسفہ سیاست اور عمران خان کی شخصیت سے پیار کیا تھا۔ محبت و اُلفت کا مگر یہ انجام ؟ ایسے میں ہمیں شکیل بدایونی کی معروفِ عالم غزل، جسے گلوکارہ اختری بیگم نے خوب گایا ہے، شدت سے یاد آ ئی ہے : ’’اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا، جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا۔‘‘

Back to top button