اوورسیز پاکستانی اپنی ہی رقم سے محروم کیوں ہو جاتے ہیں؟

پاکستانیوں کی بڑی تعداد روزگار کیلئے بیرون ممالک میں مقیم ہیں، لیکن ویزا کے حصول اور دستاویزات جمع کرانے کے دوران اکثر اوورسیز یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ وطن واپسی پر ویزا پروٹیکٹر کی رقم واپس حاصل کر سکتے ہیں، یا اگر کوئی بیرون ملک حادثے کا شکار ہوا ہے تو وہ انشورنس کی رقم کلیم کر سکتا ہے، اسی طرح بیرون ممالک میں وفات پانے والوں کے ورثا بھی انشورنس کی رقم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والےافراد میں سے اگر کوئی شخص حادثے میں زخمی ہو جائے تو وہ انشورنس کی رقم کلیم کر سکتا ہے۔ جبکہ حادثے میں انتقال کرنے والوں کے ورثا یہ رقم حاصل کرنے کے مجاز ہیں مگر عوام کی ایک بڑی تعداد کو اس کا علم تک نہیں کہ وہ ویزا پروٹیکٹر فیس کے ساتھ انشورنس کی فیس بھی ادا کر چکے ہیں، صرف یہی نہیں وطن واپس خیریت سے پہنچنے پر بھی ویزا پروٹیکٹر فیس کی مد میں ادا کی گئی رقم واپس لی جا سکتی ہے۔
اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں اپنے قریبی کئی ایسے خاندان ملیں گے جن کا کوئی رکن بیرون ملک روزگار کی غرض سے گیا اور کسی حادثے میں انتقال کے بعد اسکی میت ہی گھر لوٹی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بیرون ملک سے میت واپس لانے کے اقدامات کی حد تک حکومت سے تعاون لیا جاسکتا ہے۔ اکثر تو اپنی مدد آپ کے تحت بھی اس کا انتظام کرتے نظر آتے ہیں۔
حالانکہ پروٹیکٹر فیس کے ساتھ انشورنس اور اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کی ممبرشپ فیس ادا کرنے کی وجہ سے ان افراد اور ان کے خاندان کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن اپنا رکن ہونے کے ناطے ان کی ہر ممکنہ مدد کرتا ہے۔
شہری کی جانب سے معلومات تک رسائی کے حق کے تحت دی جانے والی درخواست کے جواب میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے بتایا کہ 22-2021 کے دوران بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے 5 لاکھ 76 ہزار 668 افراد نے پروٹیکٹر لگوایا یعنی رجسٹریشن کروائی جس سے فیس کی مد میں تقریباً 764 ملین روپے اکھٹے ہوئے جن کی آڈٹ رپورٹ دستیاب نہیں۔
ویزا پروٹیکٹر لگوانے والے شخص کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ اسے ملازمت کے ملک میں پاک مشن سے مکمل تعاون حاصل رہتا ہے۔ اگر آجر ایف ایس اے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ملازمت والے ملک میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی، پاکستان ایمبیسی سے قانونی مدد لی جا سکتی ہے۔ پروٹیکٹر لگوانے والے شخص کے خاندان کو درپیش مسائل کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
پروٹیکٹر فیس میں اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کی ممبرشپ فیس بھی شامل ہے جس کے باعث ان کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات کی فراہمی، بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے کاؤنٹرز پر تعینات عملہ قانونی اور دیگر ضروری رہنمائی اور معلومات فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن حادثے کی صورت میں مالی مدد بھی کرتی ہے۔ بیرون ملک رہتے ہوئے کسی حادثے میں معذوری ہونے کی صورت میں 3 سے 10 لاکھ روپے تک مالی امداد اور موت واقع ہونے کی صورت میں فیملی کو 10 لاکھ روپے تک مالی معاونت دی جاتی ہے۔
پروٹیکٹر فیس قابل واپسی ہے، بیرون ملک ملازمت کے بعد واپس پاکستان پہنچنے پر اسے واپس لیا جا سکتا ہے، اس کے لیے درخواست پروٹیکٹریٹ دفتر میں جمع کروائی جا سکتی ہے۔
پروٹیکٹر آفیشل پاکستانی پاسپورٹ پر ایسی اسٹیمپ ہے جو پروٹیکٹریٹ آف ایمیگرینٹ کی طرف سے لگائی جاتی ہے۔ اس کا مقصد ایسے تمام پاکستانیوں کی رجسٹریشن اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے جو کام کے سلسلے میں باہر جاتے ہیں۔
براہِ راست ملازمت کے لیے ملک سے باہر جانے والے افراد کے لیے کل فیس7200 روپے ہے جس میں فلاحی فنڈ2000 روپے، انشورنس پریمیم 2500 روپے، رجسٹریشن فیس 2500 روپے اور او ای سی فیس 200 روپے شامل ہے۔
اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ذریعے بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والوں کے لیے ویزا پروٹیکٹر فیس11200 روپے ہے جس میں او ای پی سروس چارجز6000 روپے، فلاحی فنڈ 2000 روپے، انشورنس پریمیم 2500 روپے، رجسٹریشن فیس 500 روپے اور او ای سی فیس200 روپے شامل ہے۔
