آئی ایم ایف سے قرض عوام کو کتنا مہنگا پڑنےوالاہے؟

بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر ڈالر کی قدر اور پٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد حکومت کو آئی ایم ایف کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے درکار سخت اصلاحات کے تحت غیر ضروری سول اور سکیورٹی اخراجات میں کٹوتی کے علاوہ بڑی برآمدی صنعتوں سے توانائی پر سبسڈی بھی واپس لینا پڑے گی۔ جس سے تباہ شدہ معیشت مزید زبوں حالی کا شکار ہو جائے گی کیونکہ زرمبادلہ کے بحران کی وجہ سے پاکستان کی درآمدات تقریباً بند ہو چکی ہیں۔ پاکستان نہ ختم ہونے والے بیرونی قرضوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور صرف تین ہفتے کی درآمدات کے دستیاب ڈالرز کی وجہ سےسنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے،آئی ایم ایف کا وفد واشنگٹن میں مقیم پاکستان مشن کے سربراہ نیتھن پورٹر کی قیادت میں پاکستان پہنچ چکا ہے۔وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق آئی ایم ایف وفد کے ساتھ7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کےنویں اقتصادی جائزے پر 31 جنوری سے 9 فروری تک مذاکرات کیے جائیں گے۔
یہ مذاکرات اس لیے بھی بہت اہم ہیں کہ ان کے کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کو نہ صرف ایک ارب ڈالر قرض کی قسط ملے گی بلکہ دوست ممالک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی مزید قرض ملنے کا امکان روشن ہو جائے گا۔آئی ایم ایف کا وفد ایف بی آر، نیپرا، وزارت خزانہ اور اوگرا حکام سے ملاقاتیں کرے گا اور آئی ایم ایف اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔خیال رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ڈالر کی قدر میں تقریبا ً40 روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بھی اسی ہفتے 35 روپے اضافہ کیا تھا تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو قرض کب تک ملنے کا امکان ہے؟معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی مہتاب حیدر نے بتایا کہ منگل کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے مذاکرات کے افتتاحی سیشن کے بعد آئی ایم ایف کا وفد پہلے تین چار دن تکنیکی امور پر بات چیت کرے گا جس کے بعد ایک معاشی اور مالیاتی پالیسی دستاویز پر اتفاق کیا جائے گا جس کے بعد پالیسی لیول مذاکرات ہوں گے۔’پالیسی لیول مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول ایگریمنٹ ہو جائے گا۔تاہم مہتاب حیدر کے مطابق مذاکرات کی کامیابی اور معاہدے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کیونکہ مذاکرات کافی مشکل ہیں جن میں حکومت کو سخت اقتصادی فیصلے کرنے کا کہا جائے گا جوکہ الیکشن کے سال میں کسی حکومت کے لیے آسان نہیں ہوتے۔تاہم مہتاب حیدر کے مطابق سٹاف لیول ایگریمنٹ کے بعد بھی پاکستان کو رقم ملنے میں کئی ہفتے مزید لگ سکتے ہیں کیونکہ اس معاہدے کی آئی ایم ایف بورڈ سے منظوری بھی ہونا ہے اور بورڈ کا اجلاس تین ہفتے بعد ہوتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کے لیے پاکستان کو مزید کیا کرنا ہوگا؟ اس حوالے سے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر ریٹ پر حد ختم کرنے کے باوجود پاکستان کو ابھی بھی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لیے کئی مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہونے یا نہ ہونے پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ان کے مطابق معاہدے کے لیے ابھی پاکستان کو پٹرولیم لیوی مزید بڑھانے کے ساتھ ساتھ بجلی کے ریٹس میں تقریبا ًساڑھے سات روپے فی یونٹ اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ ’اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے تمباکو اور مشروبات اور کمرشل بینکوں پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔‘آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں درآمدات پر عائد تمام پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جائے گا جس کے بعد ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تب بھی پاکستان کو آئی ایم ایف کی قسط مارچ تک مل سکتی ہے۔
دوسری طرف وزارت خزانہ حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ ایسا منصوبہ طے کیا جائے گا جس سے ادائیگی کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ پہلے سے ہی سخت دباؤ کا شکار اکثریتی آبادی پر بڑے پیمانے پر مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اس بوجھ میں اضافے کا مطلب یہ ہوگا کہ متوسط طبقے، سول انتظامیہ، مسلح افواج اور عدلیہ سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو موجودہ طرزِ زندگی کی قربانی دینا ہوگی جسے مزید برقرار رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔اس حوالے سے سیاسی سطح پر عزم ظاہر کرنے کے لیے کابینہ کے حجم میں نمایاں کمی، سرکاری خرچ پر ایک سے زائد پلاٹوں سے دستبرداری، تمام بےمقصد اور اضافی سبسڈیز کی واپسی شامل ہے، ان میں خاص طور پر برآمد کنندگان کو فراہم کردہ سبسڈی کے لیے مختص 120 ارب کا بجٹ بھی شامل ہے جس کا اعلان 4 ماہ قبل کیا گیا تھا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی ادائیگیوں کو پورا کرنے کے لیے رواں مالی سال کے بقیہ 5 ماہ کے دوران تقریباً 8 سے 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ذخائر محض 3 ارب ڈالر سے کچھ ہی زیادہ ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ دونوں فریقین پاور سیکٹر میں تقریباً 7.50 روپے فی یونٹ کے اوسط ٹیرف میں اضافے ، تمام پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی 40 روپے سے بڑھا کر 50 روپے کرنے اور منی بجٹ کے ذریعے 500 سے 700 ارب روپے تک کے محصولات کے اقدامات کے ساتھ 803 ارب روپے سے زائد کے مالیاتی فرق کو پورا کرنے کی راہ تلاش کریں گے۔واضح رہے کہ وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے درمیان تعطل کی وجہ سے دوست ممالک نے اپنی وعدہ شدہ اضافی امداد کو روک رکھا تھا جن میں سعودی عرب کی جانب سے تقریباً 2 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک ارب ڈالر اور چین کی جانب سے تقریباً 2 ارب ڈالرشامل ہیں۔
