اپنا اقتدار بچانے کیلئے افغان صدر اشرف غنی کی آخری کوشش


افغانستان پر طالبان کے تیزی سے ہوتے ہوئے قبضے کو رکوانے کے لیے صدر اشرف غنی صدر بائیڈن سے ملاقات کے لئے واشنگٹن تو پہنچ گئے ہیں لیکن دوسری جانب افغان طالبان نے کہا ہے کہ اشرف غنی صرف وقت ضائع کر رہے ہیں کیونکہ معاملات ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔
صدر اشرف غنی ایک ایسے وقت واشنگٹن پہنچے ہیں جب افغانستان میں امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلا کی آخری تاریخ 11 ستمبر کے قریب آنے کے ساتھ ساتھ طالبان کی پیش قدمی میں تیزی آ گئی ہے اور وہ ملک کے 421 اضلاع میں سے 85 پر اپنے قبضہ جما چکے ہیں۔چنانچہ ان حالات میں امریکی فوجی انخلا کے بعد کابل میں قائم حکومت کے مستقبل کے بارے میں شدید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اشرف غنی کے واشنگٹن پہنچنے پر امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ افغان حکومت امریکی فوج کے انخلا کے فوری بعد گر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ طالبان کے ساتھ دوحہ میں مذاکرات کے بعد افغانستان سے امریکی اور نیٹو ممالک کی افواج کے انخلا کی تاریخ 21 مئی مقرر کی گئی تھی لیکن بعد میں امریکہ میں نئی انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد انخلا کو 11 ستمبر تک مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ طالبان نے انخلا کی تاریخ کو مؤخر کیے جانے کو دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دتیے ہوئے نتائج کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
مئی کے مہینے میں طالبان ہر ہفتے کسی نئے ضلع پر قبضہ کر رہے تھے لیکن یکم جون کے بعد سے ان کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے اور اب ہر روز کئی کئی اضلاع طالبان کے ہاتھوں میں جا رہے ہیں۔
کئی جگہوں کے بارے میں افغان حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ’دفاعی حکمت عملی‘ کے تحت اور شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے ان اضلاع سے پسپائی اختیار کی ہے۔ بعض جگہوں کے بارے میں اس کا کہنا ہے شہریوں کے مفاد اور تحفظ کے پیشں نظر افغان سکیورٹی فورسز کے اڈے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان حالات میں اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے آخری دنوں میں طالبان کی طرف سے حملوں میں تیزی آ گئی ہے اور وہ افغانستان کے بڑے حصے پر قبضہ کرنے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی خصوصی سفیر ڈیبورا لائنز نے سلامتی کونسل کو سنگین نتائج کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں لڑائی بڑھنے سے دور اور نزدیک کے بہت سے ملکوں پر اثر پڑے گا۔
اس معاملے پر کابل میں مقیم سینئر تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد نے کہا کہ واشنگٹن پہنچنے والے صدر اشرف غنی کی خواہش ہے کہ امریکہ اور عالمی برادری کی جانب سے افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی کی مد میں ہونے والے معاہدوں کو انخلا کے بعد بھی جاری رکھا جائے۔ان کے بقول، افغان قیادت کی امریکی صدر سے ملاقات کا دوسرا ایجنڈا ملک میں عبوری حکومت کے بجائے الیکشن کا تسلسل ہے۔ نجیب اللہ آزاد کے مطابق افغان حکومت چاہتی ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالا جائے، تاکہ وہ اپنا عملی کردار ادا کرے اور طالبان جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں۔
افغان تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ کوشش ہوگی کہ افغانستان کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہو۔ اس لیے دورۂ امریکہ میں اشرف غنی کے ہمراہ افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ بھی ہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ترجمان فریدون خوازون کا کہنا ہے کہ امریکہ نے افغان قیادت کو مدعو کیا ہے۔ اس دورے کے دوران دو طرفہ تعلقات، افغانستان کے لیے امریکی امداد اور افغان امن عمل کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
دوسری جانب طالبان افغان قیادت کے دورۂ امریکہ کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہیں۔ طالبان کے دوحہ میں قائم سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق افغان امن عمل میں تیزی لانے اور افغانستان کے مسئلے کے حل کے سلسلے میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو رواں ہفتے دوحہ آنا تھا۔ تاہم انہوں نے اس اہم موقع پر دورۂ امریکہ کو ترجیح دی۔ سہیل شاہین نے کہا کہ موجودہ افغان حکومت کو افغانستان کے مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے بجائے اپنے اقتدار کو دوام دینے میں زیادہ دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ افغان قیادت پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر افغان قیادت ان کے ساتھ مستقبل میں اسلامی نظام کے قیام پر اتفاق کریں تو طالبان جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جاری جھڑپوں کے بعد شہریوں نے محفوظ مقامات کی جانب منتقلی شروع کر دی ہے۔ اگر یہ لڑائی طول پکڑتی ہے تو ایک مرتبہ پھر افغان عوام کو ہجرت کا سامنا پڑ سکتا ہے۔ یوں افغانستان دوبارہ سے نوے کی دہائی جیسے انتشار کی جانب چلا جائے گا۔

Back to top button